ایک دوڑ لگی ہوئی ہے، پیسہ، پیسہ، پیسہ۔۔۔!! میں نے اتنے لاکھ کما لیے، آؤ تمھیں بھی لاکھوں کمانا سکھاؤں، میں نے اتنے لاکھ کی گاڑی لے لی، تم ابھی تک سرکاری ملازمت...
دلیل
یہ آج صبح کا واقعہ ہے۔ دن کے گیارہ بجے کا وقت تھا جب میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر ڈاکٹر ساجد خاکوانی کا نام چمک رہا تھا۔ میں نے فوراً کال ریسیو کی۔...
اس بار لندن میں میرا قیام فقط دو دن کے لیے تھا۔ مئی کا مہینہ تھا اور اس شہر پر بہار ٹوٹ کر برسی تھی لیکن میرے نصیب میں ان دو دنوں کے دوران بارش اور خنکی لکھی...
صرف دس منٹ رہ گئے لیکن احمد ابھی تک سحری کرنے نہیں اٹھا،شریف صاحب نے اپنی بیگم سے کہا۔ کیا روزہ نہیں رکھنا اس کو! کب سے تو انٹر کام بجا رہی ہوں، اب میری ٹانگوں...
کاش “دکھ درد” بھی مجسم ہوتا. میں آواز دے کر بلاتی. ہاتھ پکڑ کر ، بٹھا کر باتیں کرتی. پوچھتی کیسے آئے ہو، کیوں آئے ہو، نہ آتے، آنا ضروری تھا کیا؟...
