وصیت کے متعلق غامدی صاحب نے سورۃ البقرہ اور سورۃ النساء کی تفسیر میں بھی بات کی ہے لیکن خاصے کی چیز ان کا وہ دو صفحات کا مضمون ہے جو ان کی کتاب ’مقامات‘ میں شامل ہے۔ اس مضمون میں ان کے اسلوب کی تینوں خصوصیات ، قطعیت ، مبالغہ اور سادہ فکری ، بہت واضح انداز میں سامنے آئی ہیں۔ مضمون کی ابتدا میں غامدی صاحب فرماتے ہیں:
’’ تقسیم وراثت کا جو قانون قرآن میں بیان ہوا ہے، اْس میں بار بار تاکید کی گئی ہے کہ یہ تقسیم اْس وصیت کے بعد ہے جو مرنے والا کسی کے لیے کرتا ہے۔‘‘
غامدی صاحب کے نزدیک قرآن سارے کا سارا ’’قطعی الدلالہ‘‘ہے، اس لیے بار بار قطعی الدلالہ الفاظ میں تاکید کے بعد کہ وراثت کی تقسیم مرنے والے کی وصیت کے بعد ہے ، اس پر کوئی سوال نہیں اٹھنا چاہیے تھا۔ تاہم اس جملے کے فوراً بعد غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ اس پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں:
’’ایک یہ کہ وصیت کے لیے کوئی حد مقرر کی گئی ہے یا آدمی جس کے لیے جتنی چاہے وصیت کر سکتا ہے؟
دوسرا یہ کہ وصیت کیا اْن لوگوں کے حق میں بھی ہو سکتی ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے میت کا وارث ٹھہرایا ہے؟‘‘
یہ دو سوالات کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ غامدی صاحب اس کا جواب نہیں دیتے لیکن ہم الجھنیں ذکر کیے دیتے ہیں جن سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں: پہلی الجھن یہ ہے کہ کیا وصیت کو وراثت پر فوقیت دے کر اور وصیت کے ذریعے کسی وارث کو مزید حصہ دے کر اللہ کے مقررہ حصوں میں کمی بیشی نہیں ہوجاتی؟ دوسری یہ کہ رسول اللہﷺ کی حدیث میں وارث کے حق میں وصیت سے روکا گیا اور غیر وارث کے لیے وصیت کو بھی ایک تہائی ترکے تک محدود کردیا ہے۔ تیسری یہ کہ اگر غیر وارث کے حق میں وصیت کی کھلی چھٹی دی جائے، تو کیا اس طرح قانونِ وراثت بے معنی نہیں ہوجاتا؟
ان تین پہلوؤں پر غور کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ مجتہد کو وراثت کی آیات میں صرف ’’ وصیت کے بعد‘‘ کے الفاظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ دیگر نصوص اور اصولوں کو بھی مدنظر رکھنا اس پر لازم ہے اور بات اتنی سادہ نہیں ہے، جتنی غامدی صاحب کے بیان سے معلوم ہو رہی تھی! بہرحال اپنے پہلے سوال پر غامدی صاحب کہتے ہیں:
’’ قرآن کے الفاظ میں کسی تحدید کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق فرمایا ہے کہ یہ تقسیم مرنے والے کی وصیت پوری کرنے کے بعد کی جائے گی۔ زبان و بیان کے کسی قاعدے کی رو سے اِس اطلاق پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔‘‘
حدیث میں مذکور تحدید کو غامدی صاحب یوں غیر اہم بنا دیتے ہیں کہ
’’جو روایت اِس معاملے میں نقل ہوئی ہے، اْس کی نوعیت بالکل دوسری ہے۔‘‘
اس کے بعد حدیث کا مختصراً ذکر کرکے اسے محض ایک خاص مسئلے میں ایک اخلاقی مشورہ قرار دیتے ہیں اور حدیث کا تجزیہ کیے بغیر اور کوئی دلیل دیے بغیر پوری قطعیت کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں :
’’ ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ اِس کا کسی قانونی تحدید سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
کیا واقعی ایسا ہے؟
غامدی صاحب کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ لفظ کی تحدید صرف ’’زبان و بیان کے کسی قاعدے‘‘ سے ہی نہیں ہوتی بلکہ دیگر نصوص اور اصولوں سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ نصوص میں ہی بیان شدہ ایک اصول یہ ہے کہ انسان کی ملکیت اس کے مال پر اس کی زندگی تک رہتی ہے اور موت کے ساتھ اس کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے۔ اس مسلمہ اصول کی روشنی میں یہ سمجھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ پھر انسان اپنی موت کے بعد اپنے مال کی ملکیت کسی کو اور کیسے منتقل کرسکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ دیگر نصوص میں صراحتاً وصیت کا حق دیا گیا ہے ، اس لیے اس حق کو ملکیت کے متعلق شریعت کے اس عام اصول سے استثنا کی حیثیت حاصل ہے اور جس چیز کا جواز بطور استثنا ثابت ہو ، اس کے لیے یہ نتیجہ دنیا کے ہر قانونی نظام میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسے صرف نص میں مذکور قیود کے اندر ہی قبول کیا جاسکتا ہے۔ اسی بنا پر فقہائے کرام نے قرار دیا ہے کہ وارث کے حق میں وصیت ناجائز ہے اور غیر وارث کے لیے ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ قیود حدیث میں مذکور ہیں۔ غامدی صاحب کہتے ہیں:
’’وارثوں کے حق میں خود اللہ تعالیٰ نے وصیت کر دی ہے۔ اللہ کی وصیت کے مقابلے میں کوئی مسلمان اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔‘‘
اتنی قطعیت کے ساتھ کہی گئی بات کے بعد تو انھیں اپنے دوسرے سوال کا جواب نفی میں دینا چاہیے تھا، لیکن وہ جواب کا آغاز یوں کرتے ہیں:
’’یہ بات تو بالکل قطعی ہے کہ اْن کے لیے کوئی وصیت بربنائے رشتہ داری نہیں ہو سکتی۔‘‘
یہاں درمیان میں ’’بربنائے رشتہ داری‘‘ کے الفاظ داخل کرکے انھوں نے قطعیت کی آخری حد کے بعد بھی اس حکم کا توڑ پیدا کرلیا۔ چنانچہ ان کا اگلاجملہ ہے:
’’مگر اِنھی وارثوں کی کوئی ضرورت یا اِن میں سے کسی کی کوئی خدمت یا اِسی نوعیت کی کوئی دوسری چیز تقاضا کرے تو وصیت یقیناً ہو سکتی ہے۔‘‘
ایک دفعہ پھر یہاں اسلوب کی قطعیت اور تعمیم قابلِ غور ہے۔ اتنی قطعیت (بلکہ غامدی صاحب کی ترکیب مستعار لوں تو ’’عہدِ قدیم کے پیغمبروں کے اذعان‘‘ ) کے ساتھ کی گئی بات پر ان کے مریدانِ باصفا کیا سوال اٹھا سکیں گے؟
وہ مزید فرماتے ہیں:
’’چنانچہ کسی کا کوئی بچہ اگر زیر تعلیم ہے، دوسرے بچے برسرروزگار ہیں اور وہ ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکا یا بچوں میں سے کسی نے والدین کی زیادہ خدمت کی ہے یا کسی کو اپنی بیوی کے معاملے میں اندیشہ ہے کہ اْس کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اْس کا کوئی پرسان حال نہ ہو گا تو وہ اِن کے حق میں وصیت کر سکتا ہے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ اس نوعیت کا کوئی مسئلہ ہے تو اس کیلیے زندگی میں ہی کیوں نہ بندوبست کیا جائے اور موت کے بعد تک اسے کیوں مؤخر کیا جائے؟
نیز یہاں غامدی صاحب نے اتنی قطعیت اور تعمیم کے ساتھ جو دعوی کیا ہے اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں دی جس بنیاد پر وہ یہ دعوی کررہے ہیں۔ان کا مفروضہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وارث کے حق میں وصیت اصلاً جائز ہے اور صرف اس صورت میں ناجائز ہوجاتی ہے جب یہ ’’بربنائے رشتہ داری‘‘ ہو۔ سوال یہ ہے کہ وصیت کے ناجائز ہونے کیلیے یہ قید کہاں سے آئی ہے جبکہ آیاتِ مواریث کے نزول کے بعد انسان کی وصیت کی جگہ اللہ کی وصیت نے لی ہے؟
یہ بھی واضح ہے کہ ان کا یہ دعوی خود ان کے اپنے اس دعوے کے ساتھ متناقض ہے جو شروع میں انھوں نے ذکر کیا ہے کہ:
’’اللہ کی وصیت کے مقابلے میں کوئی مسلمان اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔‘‘



تبصرہ لکھیے