ہوم << جب جذبات خبر بن جائیں – فاطمۃالزہرہ
600x314

جب جذبات خبر بن جائیں – فاطمۃالزہرہ

اگر کوئی خبر آپ کو چند سیکنڈ میں غصے، خوف یا نفرت سے بھردے تو عین ممکن ہے کہ وہ آپ کے جذبات کو نشانہ بنارہی ہو، نہ کہ آپ کی عقل کو اور اگر آپ سوشل میڈیا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تو یقیناً آپ نے ایسی سرخیاں دیکھی ہوں گی:

“یہ خبر آپ کا خون کھولا دے گی”
“فلاں گروہ یا فلاں سیاسی جماعت کے خلاف سازش بے نقاب”
“فوری خطرہ! یہ پیغام ہر شخص تک پہنچائیں”
یا
“آپ کو یہ سچ کبھی نہیں بتایا جائے گا”

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قسم کا مواد اکثر عام خبروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا واقعی خوف اور نفرت سب سے زیادہ بکتی ہے؟

اس سوال کا جواب جدید تحقیق نے بڑی حد تک دے دیا ہے، ۲۰۲۲ میں محققین جونہ برگر اور کیتھرین ملک مین نے ہزاروں آنلائن مضامین کا تجزیہ کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ وائرل ہونے والی چیزوں میں ایک مشترک عنصر پایا جاتا ہے اور وہ ہے لوگوں میں شدید جذبات پیدا کرنا یا دوسرے الفاظ میں لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلواڑ، ان کے مطابق منفی یا مثبت ہونا کافی نہیں، بلکہ جذبات کی شدت اہم ہے اب چاہے خبر جھوٹی ہو لیکن اگر وہ کسی کے جذبات کو بھڑکا رہی ہے تو اس کے وائرل ہونے کا تناسب بڑھ جائے گا. انسانی دماغ کی ارتقائی تاریخ اس رجحان کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہزاروں سال تک انسان کی بقا کا انحصار خطرات کی فوری شناخت پر تھا۔

اگر کسی شخص کو کسی خطرے کا علم ہوتا تو اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ فوراً دوسروں کو خبردار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی خطرے، سازش یا ممکنہ نقصان سے متعلق معلومات ہماری توجہ زیادہ تیزی سے حاصل کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا اس فطری رجحان کو نئے لیکن خطرناک انداز میں استعمال کرتا ہے۔ اسی لیے بہت سی وائرل پوسٹس مکمل جھوٹ نہیں ہوتیں بلکہ ’’ادھورے سچ ‘‘ ہوتے ہیں مکمل جھوٹ نسبتاً آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے، لیکن ادھورا سچ حقیقت کا ایک حصہ دکھا کر غلط تاثر پیدا کرتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی جرم کی خبر میں صرف مجرم کی مذہبی، نسلی یا سیاسی شناخت کو نمایاں کیا جائے اور باقی سیاق و سباق کو نظر انداز کر دیا جائے تو خبر تکنیکی طور پر غلط نہیں ہوگی، لیکن اس سے پیدا ہونے والا تاثر گمراہ کن ہو سکتا ہے بات اگر یہاں تک رکتی تو شاید ہضم ہوجاتی لیکن آج کل مکمل تلبیس معلومات اس طرح وائرل ہوجاتی ہیں کہ لوگ اس کے کثرتِ شئیر کو دیکھ سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔حالیہ برسوں میں دنیا نے اس رجحان کے عملی نتائج بھی دیکھے ہیں۔ 2024 میں انگلینڈ کے شہر ساؤتھ پورٹ میں ایک افسوسناک چاقو حملے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہ تیزی سے پھیل گئی کہ حملہ آور ایک مسلمان پناہ گزین یا غیر قانونی تارکِ وطن ہے۔

بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا، لیکن اس سے پہلے ہی لاکھوں افراد تک یہ معلومات پہنچ چکی تھی۔ مختلف شہروں میں احتجاج، ہنگامے اور نسلی و مذہبی کشیدگی کے واقعات رونما ہوئے۔ بعد ازاں متعدد رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات اور اشتعال انگیز پوسٹس نے ان واقعات کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک واضح مثال تھی کہ کس طرح ایک حقیقی واقعے کے گرد بنائی گئی غلط کہانی لوگوں کے خوف اور غصے کو بھڑکا سکتی ہے۔ امریکہ میں بھی غلط معلومات کے اثرات پر وسیع تحقیق ہوئی ہے۔ 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران ہزاروں جھوٹی یا گمراہ کن خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ ان میں سے بہت سی خبروں کا مقصد لوگوں میں غصہ، خوف یا سازشی سوچ پیدا کرنا تھا۔

بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایسی خبریں اکثر جذباتی ردِعمل پیدا کرتی تھیں اور اسی وجہ سے زیادہ شیئر ہوتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی خبریں مکمل جھوٹ نہیں تھیں بلکہ درست معلومات کے ساتھ قیاس آرائیوں، مبالغے اور سیاق و سباق کی کمی کو ملا کر پیش کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے لوگ انہیں باآسانی قابلِ یقین سمجھ لیتے تھے۔پاکستان بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں۔ یہاں سوشل میڈیا پر سیاسی، مذہبی اور سماجی معاملات سے متعلق افواہیں مسلسل گردش کرتی رہتی ہیں۔ پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ دینا، کسی ایک تصویر کو مختلف کہانی کے ساتھ شیئر کرنا، یا کسی خبر کا صرف وہ حصہ دکھانا جو جذبات کو بھڑکا سکے، عام بات ہے۔

مثلاً ایک دو سال قبل لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ زیادتی اور بعد میں ہلاکت کی خبر کو اس انداز میں پھیلایا گیا .اور وہ اس شدت سے پھیلی کے تمام بڑے شہروں کے طلباء سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آئے. لیکن تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ ایسا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں تھا. جبکہ لاکھوں لوگ اس پر بلا تحقیق یقین کرکے شئیر کرچکے تھے۔ اسی طرح سفید جھوٹ پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس نظروں سے گزرتی ہیں. جن پر لاکھوں نہیں تو ہزاروں شئیرز ضرور ہوتے ہیں مزید ایک گروہ نے اپنے بغض اور حسد کی آگ میں پاکستان کی ایران و امریکہ ثالثی کے کردار ادا کرنے پر یہ پراپیگنڈہ کیا کہ پاکستان امریکہ کی غلامی میں یہ کردار ادا کررہا ہے.

کسی نے کہا یہ معاہدہ صرف امریکہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے کروایا جارہا ہے. ان کے جھوٹ، فریب یا بہتان پر آج کے امریکی نامی گرامی جریدے تف بھیجتے ہوئے ٹرمپ کو اس بات پر سرزنش کررہے کہ یہ ایم او یو ایران کے آگے سرنڈر کرنے کے مترادف ہے. یعنی اس سے ایران کو ہی فائدہ ہوا ہے نہ کہ امریکہ کو جیسا کہ کچھ جعلی دانشور لوگوں کو ’’خبردار‘‘ کررہے تھے . اور مستند مغربی تحقیقات یہ بھی بتاتی ہے کہ ایسی ہی جھوٹی خبروں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز مزید تقویت دیتے ہیں۔ چونکہ پلیٹ فارمز عموماً ایسے مواد کو ترجیح دیتے ہیں جس پر زیادہ تبصرے، شیئرز اور ردِعمل آ رہے ہوں، اس لیے جذباتی مواد کو تکنیکی طور پر زیادہ نمایاں ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔

جب غصہ یا خوف پیدا کرنے والی پوسٹ زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے تو مزید لوگ اس پر ردِعمل دیتے ہیں، اور یوں وہ پوسٹ مزید پھیلتی چلی جاتی ہے اور یہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز لوگوں کے جذبات کو خبر بنا کر کیش کرواتے ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی کرنسی ہے. اور اصل نکتہ یہی ہے کہ انسان شدید جذبات پیدا کرنے والے مواد پر زیادہ توجہ دیتا ہے، اور یہی چیز وائرلٹی کو بڑھاتی ہے. اور اسی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں چاہے اس کے کتنے ہی منفی اثرات معاشروں پر مرتب ہورہے ہوں ان کی بلا سے ، اسی لیے جب بھی کوئی پوسٹ آپ کو چند سیکنڈ میں شدید غصہ، خوف یا نفرت محسوس کرا دے تو فوراً شیئر کرنے کے بجائے ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے۔ کیا یہ مکمل تصویر ہے یا صرف تصویر کا ایک حصہ؟
کیا خبر کا ماخذ معتبر ہے؟

کیا کوئی دوسرا زاویہ بھی موجود ہے؟
جدید تحقیق یہی بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا پر سب سے کامیاب مواد وہ نہیں جو سب سے زیادہ سچا ہو، بلکہ اکثر وہ ہوتا ہے جو سب سے پہلے ہمارے جذبات کو متحرک کر دے۔ ایسے ماحول میں تنقیدی سوچ اور معلومات کی تصدیق صرف ایک علمی عادت نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری بن چکی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے جیسے پسماندہ معاشرے میں ایسی ذمہ داری نبھانے کو کوئی تیار نہیں۔ جبکہ غور نہیں کرتے کے جن ممالک سے یہ ٹیکنالوجی یہاں پہنچی وہ ۱۶ سال سے کم عمر بچوں پر اس کے استعمال پر پاپندی لگا چکے ہیں اور دیگر اس بارے میں قوانین ترتیب دے رہے ہیں.

چین جس نے ٹک ٹاک بنائی اس کے اپنے ملک میں انٹرنیشنل ورژن پر پاپندی ہے اور ہمارے نوجوانوں کی اکثریت کا نسب العین صرف معروف ٹک ٹاکر بننا رہ گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فاطمۃالزہرہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment