ہوم << تحقیق کے بغیر خبر آگے نہ پھیلائیں – محمد عدنان
600x314

تحقیق کے بغیر خبر آگے نہ پھیلائیں – محمد عدنان

مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر

حدیثِ مبارکہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول اللہ ﷺ* نے فرمایا:
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
ترجمہ:کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کرتا پھرے۔ (صحیح مسلم، مقدمہ، حدیث: 5)

درس کا خلاصہ
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں اس اہم معاشرتی بیماری کی طرف توجہ دلائی کہ بغیر تحقیق کے ہر سنی سنائی بات کو آگے پہنچانا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی خبر، واقعے یا الزام کو آگے بیان کرنے سے پہلے اس کی حقیقت اور صداقت کی اچھی طرح تحقیق کرے۔ اگر بات درست نہ ہو تو اسے پھیلانا جھوٹ میں شمار ہوتا ہے اور اگر درست ہو تب بھی اسے حکمت، عدل اور خیرخواہی کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا کہ آج ہمارے معاشرے میں بے شمار اختلافات، بدگمانیاں، لڑائیاں اور فساد صرف اس وجہ سے جنم لیتے ہیں کہ لوگ بغیر تحقیق کے باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اور انہیں دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایک جھوٹی خبر چند لمحوں میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد تک پہنچ جاتی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں ایسے نقصانات پیدا ہوتے ہیں جن کی تلافی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔

خصوصاً سوشل میڈیا کے اس دور میں اس حدیث کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج ایک غیر مصدقہ پیغام، تصویر یا ویڈیو بغیر سوچے سمجھے آگے بھیج دی جاتی ہے حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ایسی غیر ذمہ دارانہ روش نہ صرف افراد کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی نفرت اور انتشار پیدا کرتی ہے. اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ سوشل میڈیا کو خیر، علم، دعوت اور اصلاح کے لیے استعمال کرے نہ کہ افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے لیے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو خیر کی دعوت دینے اور بھلائی کو عام کرنے کی ذمہ داری عطا فرمائی ہے۔

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
ترجمہ: میری طرف سے (لوگوں تک) پہنچاؤ، اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح بخاری)

اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ ہم صحیح علم درست معلومات اور نیکی کی باتیں دوسروں تک پہنچائیں لیکن ہرگز جھوٹی غیر مصدقہ یا مشتبہ باتوں کو نہ پھیلائیں۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب نے فیصل مسجد میں آنے والے تمام نمازیوں کو یہ پیغام دیا کہ اس نصیحت کو صرف سن کر نہ رہ جائیں بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جہاں کہیں بھی جائیں تحقیق، سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق کا پیغام عام کریں تاکہ ہمارا معاشرہ امن، محبت اور اعتماد کا گہوارہ بن سکے۔

اللہ تعالیٰ، ہمیں ہر بات کی تحقیق کرنے، سچ بولنے، سچ کو عام کرنے، جھوٹ اور افواہوں سے بچنے اور سوشل میڈیا سمیت زندگی کے ہر شعبے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد عدنان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment