ہوم << ایڈورڈ سعید: فلسطین کا مقدمہ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

ایڈورڈ سعید: فلسطین کا مقدمہ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے

اگر ایڈورڈ سعید کی پوری فکری زندگی کو ایک لفظ میں سمویا جائے تو وہ لفظ “انصاف” ہے۔ ان کی تحریریں صرف استشراق کی علمی تنقید نہیں بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور حقِ نمائندگی کا فکری منشور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام تصانیف میں ایک ایسا اخلاقی شعور موجود ہے جو قاری کو صرف علم نہیں دیتا بلکہ اسے اپنے عہد کے طاقت کے ڈھانچوں پر سوال اٹھانے کا حوصلہ بھی عطا کرتا ہے۔ ان کے نزدیک انسانی علوم کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے باشعور انسان پیدا کرنا ہے جو ظلم، جبر، تعصب اور فکری اجارہ داری کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔

فلسطین ایڈورڈ سعید کی فکر کا سب سے گہرا اور سب سے زیادہ ذاتی حوالہ ہے۔ وہ فلسطین کو صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے انسانی وقار، تاریخی انصاف اور شناخت کے بحران کی علامت قرار دیتے تھے۔ ان کی کتاب “The Question of Palestine” اس حقیقت کی شاہد ہے کہ فلسطینی مسئلہ صرف زمین کی تقسیم کا مسئلہ نہیں بلکہ بیانیے، تاریخ، شناخت اور عالمی طاقت کے عدم توازن کا بھی مسئلہ ہے۔ سعید بارہا اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر کسی قوم کی تاریخ دوسروں کے قلم سے لکھی جائے، اگر اس کے وجود کو سیاسی اور فکری سطح پر مشکوک بنا دیا جائے اور اگر اس کے دکھ کو عالمی ذرائع ابلاغ میں مسلسل نظر انداز کیا جائے تو یہ صرف سیاسی ناانصافی نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی ناانصافی بھی ہے۔انہوں نے مغربی میڈیا کی اس زبان پر بھی تنقید کی جس میں الفاظ کے انتخاب کے ذریعے رائے عامہ تشکیل دی جاتی ہے۔ ایک ہی واقعے کو مختلف الفاظ کے ذریعے مختلف معنی دیے جا سکتے ہیں۔

کہیں “قبضہ” کو “سلامتی” کہا جاتا ہے، کہیں “مزاحمت” کو “دہشت گردی” اور کہیں “ریاستی تشدد” کو “دفاع” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سعید کے نزدیک زبان کبھی بھی معصوم نہیں ہوتی؛ وہ طاقت کی حامل ہوتی ہے اور اکثر اوقات سیاسی مفادات کی ترجمان بن جاتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے لکھا کہ بیانیے پر اختیار دراصل تاریخ پر اختیار ہے۔
ایڈورڈ سعید نے جلاوطنی (Exile) کو بھی محض ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ایک فکری کیفیت کے طور پر دیکھا۔ ان کے نزدیک جلاوطنی انسان کو دو متضاد کیفیات سے آشنا کرتی ہے۔ ایک طرف وہ محرومی، تنہائی اور شناخت کے زخم سے گزرتا ہے، دوسری طرف یہی فاصلہ اسے اپنے معاشرے، اپنی تہذیب اور دنیا کو زیادہ تنقیدی اور زیادہ وسیع نگاہ سے دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ اس لیے سعید کے ہاں جلاوطنی صرف دکھ نہیں بلکہ شعور کی ایک نئی منزل بھی ہے۔ یہی تجربہ ان کی تحریروں میں وسعتِ نظر، تہذیبی مکالمے اور انسان دوستی کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔

ان کی فکر میں شناخت بھی کسی بند خانے کا نام نہیں۔ وہ اس تصور کو مسترد کرتے ہیں کہ کوئی تہذیب یا قوم مکمل طور پر خالص ہو سکتی ہے۔ انسانی تاریخ مسلسل ہجرت، تبادلۂ ثقافت، زبانوں کے امتزاج اور تہذیبی تعامل کی تاریخ ہے۔ اس لیے وہ ہر اس نظریے پر تنقید کرتے ہیں جو نسل، مذہب، زبان یا قومیت کی بنیاد پر مطلق برتری کا دعویٰ کرے۔ ان کے نزدیک ایسی سوچ بالآخر تعصب، نسل پرستی، فاشزم اور تہذیبی تصادم کو جنم دیتی ہے۔ اکیسویں صدی میں جب دنیا ڈیجیٹل انقلاب، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، عالمی میڈیا کارپوریشنوں اور معلوماتی سرمایہ داری کے عہد میں داخل ہو چکی ہے، ایڈورڈ سعید کی فکر ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ اگر ماضی میں مستشرقین کتابوں، سفرناموں اور تحقیقی اداروں کے ذریعے مشرق کی تصویر بناتے تھے تو آج یہ کردار ڈیجیٹل پلیٹ فارم، سرچ انجن، الگورتھمز، فلمی صنعت، اسٹریمنگ سروسز اور عالمی نیوز نیٹ ورکس انجام دے رہے ہیں۔

اب معلومات کی رفتار بڑھ گئی ہے، لیکن یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ معلومات پیدا کون کر رہا ہے؟ ان کی درجہ بندی کس معیار پر ہو رہی ہے؟ اور دنیا کے مختلف معاشروں کی تصویر کس زاویۂ نظر سے پیش کی جا رہی ہے؟

ڈیجیٹل استعمار (Digital Colonialism) اسی نئے عہد کی حقیقت ہے، جہاں معلومات، ڈیٹا اور بیانیے نئی طاقت بن چکے ہیں۔ چند عالمی کمپنیاں اربوں انسانوں کی معلومات، ترجیحات، رویوں اور ذہنی رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اگرچہ ایڈورڈ سعید نے اس اصطلاح کو استعمال نہیں کیا، لیکن ان کا نظریۂ علم و طاقت ہمیں اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان کے سوالات آج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نگرانی، معلوماتی اجارہ داری اور عالمی میڈیا کی سیاست پر بھی اسی طرح منطبق ہوتے ہیں جیسے کبھی استشراق پر ہوتے تھے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کے تناظر میں ایڈورڈ سعید کی فکر غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحریریں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ محض جذباتی ردِعمل یا مغرب دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی علمی روایت کو مضبوط بنایا جائے، تحقیق، تنقید، تخلیق اور آزاد فکری مکالمے کو فروغ دیا جائے اور اپنی تہذیب کو دفاعی احساس کے بجائے تخلیقی اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ سعید کا اصرار تھا کہ حقیقی مزاحمت علم، دلیل، تحقیق اور اخلاقی دیانت سے جنم لیتی ہے، نہ کہ محض نعروں سے۔

اردو تنقید پر بھی ایڈورڈ سعید کے اثرات گہرے ہیں۔ مابعد نوآبادیاتی تنقید، ثقافتی مطالعات، شناختی مباحث، بیانیے کی سیاست، متن اور سیاق کے تعلق، اور ادب کے سماجی کردار پر ہونے والی نئی بحثوں میں ان کی فکر مسلسل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان اور برصغیر کے متعدد ناقدین نے ان کے نظریات کی روشنی میں اردو ادب، نوآبادیاتی تاریخ، قومی شناخت، ثقافتی سیاست اور زبان کے مسائل کا ازسرِنو مطالعہ کیا ہے۔ اس اعتبار سے سعید صرف مغربی جامعات کے مفکر نہیں بلکہ اردو علمی روایت کے بھی ایک مؤثر حوالہ بن چکے ہیں۔ تاہم علمی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ایڈورڈ سعید کی فکر پر ہونے والی تنقید کا ذکر کیا جائے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ انہوں نے تمام مستشرقین کو ایک ہی زاویے سے دیکھا اور ان کے درمیان موجود علمی اختلافات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی۔ کچھ ناقدین کے مطابق کئی مغربی مستشرقین نے اسلامی علوم، عربی زبان اور مشرقی تہذیب کی بے لوث خدمت بھی انجام دی، جسے مکمل طور پر سامراجی منصوبہ قرار دینا درست نہیں۔ اسی طرح بعض مؤرخین کے نزدیک سعید نے استشراق کی بعض پیچیدگیوں کو نسبتاً سادہ انداز میں پیش کیا۔

اگرچہ یہ اعتراضات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان سے انکار ممکن نہیں کہ ایڈورڈ سعید نے علم، طاقت، نمائندگی اور ثقافت کے تعلق پر ایسی بنیادی بحث چھیڑی جس نے انسانی علوم کی سمت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز پر دنیا نے یہ حقیقت پہلے سے زیادہ شدت سے محسوس کی کہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ الفاظ، تصاویر، خبروں، فلموں، نصابوں اور ڈیجیٹل اسکرینوں پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ قوموں کو زیر کرنے کے لیے ہمیشہ فوج کی ضرورت نہیں ہوتی؛ بعض اوقات ایک غلط بیانیہ، ایک جانبدار خبر، ایک تحریف شدہ تاریخ یا ایک مخصوص ثقافتی تصور بھی وہ کام کر دیتا ہے جو کبھی توپ و تفنگ انجام دیا کرتی تھیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے ایڈورڈ سعید نے نصف صدی پہلے سمجھ لیا تھا۔اس تناظر میں ان کی فکر ہمیں صرف ماضی کا محاسبہ نہیں سکھاتی بلکہ مستقبل کی سمت بھی دکھاتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیبوں کے درمیان تعلق برتری یا محکومی پر نہیں بلکہ مساوات، احترام، مکالمے اور مشترک انسانیت پر استوار ہونا چاہیے۔

علم کا حقیقی مقصد غلبہ نہیں بلکہ فہم ہے؛ تحقیق کا مقصد استحصال نہیں بلکہ حقیقت کی تلاش ہے؛ اور تنقید کا مقصد نفرت پیدا کرنا نہیں بلکہ انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی حفاظت کرنا ہے۔ اسی لیے ایڈورڈ ولیم سعید محض ایک مفکر یا ادبی نقاد نہیں بلکہ ہمارے عہد کے فکری ضمیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی آواز آج بھی ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ جب تک دنیا میں طاقت اور علم کا رشتہ غیر مساوی رہے گا، جب تک قوموں کی نمائندگی دوسروں کے قلم سے ہوتی رہے گی، اور جب تک تہذیبوں کے درمیان برابری پر مبنی مکالمہ قائم نہیں ہوگا، اس وقت تک “استشراق” صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ہمارے عہد کا زندہ سوال رہے گی۔ ایڈورڈ سعید کی فکری میراث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی تہذیب کی حقیقی عظمت اس کی عسکری قوت یا معاشی برتری میں نہیں بلکہ اس کی اخلاقی بصیرت، علمی دیانت اور تنقیدی شعور میں مضمر ہوتی ہے۔ ان کی فکر ہمیں سکھاتی ہے کہ علم اگر انصاف سے خالی ہو تو وہ اقتدار کا ہتھیار بن جاتا ہے، اور اگر تنقید اخلاقی ذمہ داری سے محروم ہو تو وہ محض ذہنی مشق رہ جاتی ہے۔

اس لیے آج کے عہد میں، جب بیانیے عالمی سیاست کا سب سے طاقت ور وسیلہ بن چکے ہیں، ایڈورڈ سعید کی فکر ہمیں یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم ہر متن، ہر خبر، ہر تصویر اور ہر دعوے کو تنقیدی شعور کے ساتھ پڑھیں، کیونکہ آزاد معاشرے صرف آزاد سرزمینوں سے نہیں بلکہ آزاد ذہنوں سے تشکیل پاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر سیف ولہ رائے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment