ہوم << خطبۂ حج ، کیا امت کے زخموں کی ترجمانی ہو سکی؟ – ڈاکٹر تنویر قاسم
600x314

خطبۂ حج ، کیا امت کے زخموں کی ترجمانی ہو سکی؟ – ڈاکٹر تنویر قاسم

میں نے خطبۂ حج 2026 پورا سنا۔ یقیناً اس میں توحید، تقویٰ، اطاعتِ رسول ﷺ اور حقوق العباد جیسے اہم اسلامی مضامین شامل تھے، لیکن ایک سامع کی حیثیت سے مجھے ایک تشنگی کا احساس ہوا۔

میرا خیال ہے کہ یہ احساس صرف میرا نہیں بلکہ بہت سے ایسے مسلمانوں کا بھی تھا جو عرفات کے عظیم منبر سے امتِ مسلمہ کے موجودہ زخموں، فلسطین کے المیے، مظلوم انسانوں کی داد رسی، امت کے فکری و سیاسی بحران اور اس کے روشن مستقبل کے حوالے سے ایک زیادہ واضح، ولولہ انگیز اور رہنمائی فراہم کرنے والی آواز سننے کے منتظر تھے۔ خطبہ ختم ہوا تو دل میں یہ احساس باقی رہا کہ امت کے اجتماعی درد اور اس کی امیدوں کے درمیان ابھی کچھ فاصلے موجود ہیں۔ شاید اسی لیے بہت سے سامعین میں عقیدت و احترام کے باوجود ایک ہلکی سی مایوسی اور نامکمل پن کا احساس تھا۔

خطبۂ حج محض ایک مذہبی خطاب نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے سالانہ فکری، روحانی اور تہذیبی رہنمائی کا سب سے بڑا عالمی پلیٹ فارم ہے۔ میدانِ عرفات میں لاکھوں مسلمانوں کے سامنے دیا جانے والا یہ خطبہ درحقیقت ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات، مسائل، امیدوں اور مستقبل کی ترجمانی کا موقع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ اس تاریخی اجتماع سے امت کے درد کی کون سی صدا بلند ہوگی اور مستقبل کے لیے کون سی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

خطبۂ حج 2026 کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں توحید، تقویٰ، اطاعتِ رسول ﷺ، اخلاصِ عمل، حقوق العباد اور دعا جیسے اہم اور بنیادی اسلامی مضامین شامل تھے۔ یہ تمام موضوعات یقیناً دین کی اساس اور ایمان کی بنیاد ہیں اور ان کی اہمیت سے کوئی صاحبِ ایمان انکار نہیں کرسکتا۔ تاہم ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ خطبہ امتِ مسلمہ کے موجودہ چیلنجز، اجتماعی زخموں اور عالمی سطح پر درپیش مسائل کی بھی اسی قوت کے ساتھ ترجمانی کر سکا؟

آج امتِ مسلمہ تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے۔ فلسطین میں ہزاروں بے گناہ مسلمان شہید ہو چکے ہیں، غزہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے، مسجد اقصیٰ مسلسل خطرات سے دوچار ہے، دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ فکری انتشار، سیاسی کمزوری، علمی پسماندگی اور معاشی انحصار نے امت کو بے شمار مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ایسے ماحول میں توقع کی جا رہی تھی کہ میدانِ عرفات سے ایک واضح، دوٹوک اور بیدار کرنے والی آواز بلند ہوگی۔ کم از کم مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، اسرائیلی مظالم کی مذمت، امت کی اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس اور مسلمانوں کو اپنی حالت بدلنے کے لیے متحرک کرنے کا پیغام ضرور دیا جائے گا۔ لیکن خطبے میں اس پہلو کی نمایاں کمی محسوس ہوئی۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ حج کا خطبہ کسی سیاسی جلسے کی تقریر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا مقصد روزمرہ سیاسی تنازعات میں الجھنا ہے۔ لیکن جب ظلم اس حد تک نمایاں ہو کہ پوری دنیا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو، جب معصوم بچوں کی لاشیں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہوں، جب قبلۂ اول کے گرد خطرات منڈلا رہے ہوں، تو کم از کم حق و انصاف، مظلوموں کی حمایت اور ظالم کے ظلم کی مذمت جیسے قرآنی اصولوں کا واضح اظہار ضرور ہونا چاہیے۔ قرآن نے مسلمانوں کو صرف عبادت گزار افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ، بیدار اور ذمہ دار امت قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ”
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف انفرادی عبادات اور اخلاقیات تک محدود نہیں بلکہ ظلم، ناانصافی، استبداد اور جارحیت کے خلاف اجتماعی گواہی بھی اس کا حصہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عرفات کے میدان میں لاکھوں مسلمانوں کے اجتماع میں بھی امت کے اجتماعی درد اور ظلم کے خلاف آواز نمایاں نہ ہو تو پھر امت اپنے اجتماعی شعور کی آبیاری کہاں سے حاصل کرے گی؟

یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آج رسول اللہ ﷺ امتِ مسلمہ کے درمیان موجود ہوتے اور آپ ﷺ کے سامنے فلسطین کے مظلوم بچے، غزہ کے کھنڈرات، مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات، امت کا انتشار، علمی پسماندگی، سیاسی کمزوری اور معاشی انحصار کے یہ تمام مناظر ہوتے تو آپ ﷺ کا اسلوب کیا ہوتا؟

یقیناً کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ رسول اللہ ﷺ فلاں الفاظ ہی استعمال فرماتے یا فلاں سیاسی مؤقف ہی اختیار کرتے، لیکن سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہمیں یہ ضرور بتاتا ہے کہ آپ ﷺ مظلوموں کی داد رسی کو اپنی دعوت کا حصہ بناتے، ظلم پر خاموش نہ رہتے، امت کو اس کی کمزوریوں کا آئینہ دکھاتے، خود احتسابی کی دعوت دیتے اور مسلمانوں کے دلوں میں امید، عزم اور اعتماد کی نئی روح پھونکتے۔ آپ ﷺ کا اسلوب صرف شکایت کا نہیں بلکہ تعمیر کا تھا، صرف جذبات کا نہیں بلکہ حکمت کا تھا، صرف دعا کا نہیں بلکہ عمل کا تھا۔ آپ ﷺ امت کو یاد دلاتے کہ اللہ کی نصرت ان قوموں کے لیے ہے جو اپنے اندر علم، کردار، عدل، اتحاد اور قربانی کی صفات پیدا کرتی ہیں۔

آپ ﷺ یقیناً مسلمانوں کو مایوسی سے نکالنے اور ان کے اندر اعتماد پیدا کرنے کے لیے قرآن کی اس ابدی بشارت کی یاد دہانی کراتے:
“وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ”
نہ کمزور پڑو، نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم سچے مومن ہو۔

خطبے میں امت کے نوجوانوں، دانشوروں، حکمرانوں اور علمی اداروں کے لیے کوئی ایسا جامع وژن یا لائحۂ عمل دکھائی نہیں دیا جو انہیں علمی، اخلاقی، سیاسی اور تہذیبی احیاء کی طرف متوجہ کرتا۔ امت آج صرف دعاؤں کی نہیں بلکہ خود احتسابی، اصلاح، علم، تحقیق، ٹیکنالوجی، عدل اور اجتماعی بیداری کی بھی محتاج ہے۔ عرفات کا منبر دنیا کے سب سے مؤثر منبروں میں سے ایک ہے۔ یہاں سے بلند ہونے والی آواز صرف حاضرین تک محدود نہیں رہتی بلکہ پوری امت کے ذہن و شعور پر اثر انداز ہوتی ہے۔

تنقید کا مقصد ہرگز خطبے کی دینی اہمیت کو کم کرنا نہیں بلکہ اس عالمی منبر کی معنویت کو مزید مؤثر بنانے کی خواہش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ آج ایسے خطبات کی منتظر ہے جو ایمان کو تازگی دیں، ضمیر کو جھنجھوڑیں، نوجوانوں کو مقصد عطا کریں، حکمرانوں کو ذمہ داری کا احساس دلائیں، مظلوموں کو حوصلہ دیں اور پوری امت کو یہ یقین دلائیں کہ اسلام صرف انفرادی نجات کا نہیں بلکہ اجتماعی بیداری، عدلِ اجتماعی اور انسانی وقار کے تحفظ کا بھی پیغام ہے۔ عرفات کا میدان تاریخ میں ہمیشہ تجدیدِ عہد، اصلاحِ امت اور بیداریِ شعور کی علامت رہا ہے۔ اگر اس عظیم اجتماع سے امت کے اجتماعی درد، اس کی امیدوں اور اس کے روشن مستقبل کی آواز بلند ہو تو یہ خطبہ صرف ایک سالانہ روایت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری اور روحانی قیادت کا حقیقی مظہر بن سکتا ہے۔

آج بھی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا امت کو صرف تقویٰ کی نصیحت درکار ہے یا تقویٰ کے عملی اور اجتماعی تقاضوں کی یاد دہانی بھی؟
کیا صرف دعا کافی ہے یا دعا کے ساتھ بیداری، اتحاد، مزاحمتِ ظلم، علم، تحقیق اور تعمیرِ مستقبل کا پیغام بھی ضروری ہے؟
شاید یہی وہ سوالات ہیں جن پر امتِ مسلمہ کے اہلِ فکر، علماء اور قائدین کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

نقطہ نظر

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment