ہوم << لوگ تنہائی کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ – فخرالزمان سرحدی
600x314

لوگ تنہائی کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ – فخرالزمان سرحدی

انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ محبت، تعلق، گفتگو اور اپنائیت کا محتاج ہے۔ زندگی کے سفر میں رشتے، دوستیاں اور خلوص بھرے تعلقات انسان کو حوصلہ، سکون اور خوشی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن آج کے دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہائی کا شکار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر انسان کے پاس رابطوں کے اتنے ذرائع ہونے کے باوجود دلوں میں خالی پن کیوں بڑھ رہا ہے؟

تنہائی صرف اکیلے رہنے کا نام نہیں۔ کبھی انسان لوگوں کے درمیان رہ کر بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ اصل تنہائی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کو سننے والا، سمجھنے والا اور اس کے احساسات کا خیال رکھنے والا کوئی نہ ملے۔ ظاہری مصروفیات کے باوجود دل میں ایک خلا محسوس ہونا بھی تنہائی کی ایک شکل ہے۔ آج کے دور میں مادّی ترقی نے زندگی کو آسان تو بنا دیا ہے، مگر رشتوں کی گرمی کو کہیں نہ کہیں متاثر بھی کیا ہے۔ مصروف زندگی، مقابلے کی دوڑ، ذاتی مفادات اور وقت کی کمی نے انسان کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، آج اکثر لوگ اپنے مسائل میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ دوسروں کے احساسات کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ بعض اوقات توقعات کا ٹوٹ جانا بھی تنہائی کا سبب بنتا ہے۔ جب انسان اپنوں سے زیادہ امیدیں وابستہ کر لیتا ہے اور وہ پوری نہیں ہوتیں تو دل میں مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔ غلط فہمیاں، عدم برداشت، انا اور رابطوں کی کمی بھی دلوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیتی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے رابطے آسان کر دیے ہیں، لیکن حقیقی تعلقات کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ہزاروں آن لائن دوست ہونے کے باوجود ایک مخلص انسان کی گفتگو، ایک ہمدرد کا ساتھ اور ایک محبت بھرا رویہ انسان کو اندرونی سکون فراہم کرتا ہے۔ تنہائی کا حل یہ نہیں کہ انسان خود کو دنیا سے کاٹ لے، بلکہ ضروری ہے کہ وہ مثبت تعلقات قائم کرے، دوسروں کے لیے وقت نکالے، مطالعہ کرے، تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے اور اپنے دل کو امید سے روشن رکھے۔ انسان اگر دوسروں کے دکھ بانٹنے لگے تو اس کی اپنی تنہائی بھی کم ہونے لگتی ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں ہر شخص کو عزت، توجہ اور اپنائیت مل سکے۔ گھر کے بزرگ ہوں، نوجوان ہوں یا بچے، سب کو محبت اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک اچھا جملہ اور چند لمحوں کی توجہ کسی کے دل کی ویرانی ختم کر سکتی ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی اصل دولت بڑے گھر، زیادہ وسائل یا شہرت نہیں بلکہ مخلص رشتے ہیں۔ جو دل محبت بانٹتے ہیں وہ کبھی خالی نہیں رہتے۔

آئیے!
ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو وقت دیں، ان کی بات سنیں، ان کے احساسات کو سمجھیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کوئی شخص خود کو بے سہارا اور تنہا محسوس نہ کرے۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک محبت بھرا لفظ، ایک مخلص ملاقات اور ایک سچا ساتھ کسی کی پوری دنیا بدل دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فخرالزمان سرحدی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment