انسان کی تاریخ دراصل اپنی حدود سے آگے بڑھنے کی تاریخ ہے۔ اس نے اپنی کمزور آنکھ کے لیے دوربین بنائی، اپنی محدود سماعت کے لیے ایسے آلات ایجاد کیے جو ان...
مصنف۔نعیم اللہ باجوہ
![]()
ہم اکثر اپنی زندگی کی رکاوٹوں کا پتہ باہر تلاش کرتے رہتے ہیں؛ کبھی حالات کو مجرم ٹھہراتے ہیں، کبھی لوگوں کو، کبھی وقت کو اور کبھی اپنی مجبوریوں کو،...
انسان کی اصل تہذیب اس کے الفاظ، لباس یا محفل کے آداب سے نہیں پہچانی جاتی؛ اس کا اصل چہرہ اس وقت سامنے آتا ہے جب اس کے سامنے کوئی ایسا شخص آ کھڑا ہو...
(جین زی کے انقلاب اور تبدیلی کے ادھورے سفر کا فلسفہ) ہر عہد اپنی انقلابی نسل خود پیدا کرتا ہے، اور ہر نسل اپنے احتجاج کی زبان خود ایجاد کرتی ہے۔...
کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کا بوجھ اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ “کیا ہم ہار چکے ہیں؟” بھی ایسا ہی سوال ہے۔...
عمر بڑھنا دراصل وقت کا گزرنا نہیں، اپنے فریبوں کا اترنا ہے۔ جوانی میں انسان دنیا کو بدلنے نکلتا ہے، پختگی میں خود کو سمجھنے لگتا ہے، اور بڑھاپا آ کر...
تاریخ کے سینے میں چودہ اگست کا دن صرف ایک عدد کی صورت درج نہیں، بلکہ یہ ہماری قومی بصیرت، حافظے اور آنے والی نسلوں کی آنکھوں میں بسا ایک زندہ سوال...
انسان مرتا ہے تو صرف اس کا جسم دنیا سے رخصت ہوتا ہے؛ اس کی بہت سی چیزیں جانے سے انکار کر دیتی ہیں۔ کسی کے چلنے کا انداز، کسی کے بولنے کی نرمی، کسی...
انسان کی سب سے خاموش شکست یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ سے کوئی موقع نکل گیا؛ اصل شکست یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ہمیشہ ایک ایسے دن کے لیے محفوظ کرتا رہا جو...
(روح کی اس سرحد پر جہاں تپش، انجماد سے ملتی ہے) کہتے ہیں انسان مٹی سے بنا ہے۔ مگر یہ پوری حقیقت نہیں۔ مٹی تو صرف اس کے جسم کا قصہ ہے؛ اس کے اندر ایک...
