ہوم << خطبہ جمعہ مسجد نبوی – ڈاکٹر پروفیسر جسٹس حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد نبوی – ڈاکٹر پروفیسر جسٹس حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

دھوکا دہی اور ملاوٹ؛ برکت مٹانے والی خیانت
کاروبار محض اشیا اور رقم کے تبادلے کا نام نہیں، یہ انسان کے کردار کا امتحان بھی ہے۔ بازار میں رکھی ہر چیز، ترازو میں تولا جانے والا ہر سامان اور گاہک سے کیا گیا ہر وعدہ گواہی دیتا ہے کہ بیچنے والا دیانت دار ہے یا اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانے پر آمادہ! وقتی منافع کی خواہش جب اخلاقی حدود سے بے نیاز ہوجائے تو تجارت، خدمت کے بجائے استحصال بن جاتی ہے۔

ملاوٹ، جعلی مصنوعات، عیب چھپانا اور گمراہ کن تشہیر اسی تباہ کن رویے کی مختلف صورتیں ہیں۔مسجد نبوی کے امام و خطیب، ڈاکٹر پروفیسر جسٹس حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں دھوکا دہی اور ملاوٹ کے اسی بڑھتے ہوئے خطرے کی نشان دہی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام نے زندگی کے تمام معاملات میں خیر خواہی، سچائی اور امانت داری کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس غش، فریب اور خیانت محض کاروباری بے ضابطگیاں نہیں بلکہ سنگین دینی و اخلاقی جرائم ہیں۔ ان کے نتیجے میں کسی کا مال ضائع ہو، صحت متاثر ہو یا جان خطرے میں پڑے تو جرم کی سنگینی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔تقویٰ انسان کو صرف عبادات کی پابندی ہی نہیں سکھاتا بلکہ اس کے لین دین اور روزمرہ کردار کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ جو شخص تقوی الہٰی اپناتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کی راہ پیدا کردیتا ہے، اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور اس کے معاملات میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔

اس لیے ناجائز ذرائع سے رزق بڑھانے کی کوشش دراصل اللہ کے وعدے پر کمزور اعتماد کی علامت ہے۔ جو شخص حلال کمائی پر قناعت کر کے تقویٰ کے ساتھ کاروبار چلاتا ہے، اس کے لیے ظاہری اسباب محدود ہونے کے باوجود خیر و کشادگی کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کی بنیاد باہمی خیر خواہی پر قائم ہے۔ مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ وہ نہ کسی کے اعتماد سے کھیلتا ہے، نہ اس کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ ناقص چیز کو عمدہ ظاہر کرکے فروخت کرتا ہے۔ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ چیز کی خوبی کے ساتھ اس کا عیب بھی بتایا جائے۔ اگر کوئی سامان صحت کے لیے نقصان دہ ہو، اس کی مدت ختم ہوچکی ہو، اس میں ناقص اجزا شامل ہوں یا اس کی کارکردگی دعوے کے مطابق نہ ہو تو یہ حقیقت چھپانا کھلی خیانت ہے۔ دھوکا دہی کا مفہوم صرف کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ تک محدود نہیں۔ ناپ تول میں کمی، جعلی برانڈ، نقلی ادویات، خراب پرزے، ناقص تعمیراتی سامان، گاڑی کی اصل حالت چھپانا، کپڑے کے معیار کے بارے میں غلط بیانی اور اشتہارات میں مبالغہ آمیز دعوے، سب اسی دائرے میں آتے ہیں۔

آن لائن کاروبار میں کسی اور چیز کی تصویر دکھا کر کم معیار کی شے بھیجنا، جعلی تبصرے لکھوانا، ضروری معلومات چھپانا اور واپسی کی شرائط میں فریب دینا بھی جدید دور کی دھوکا دہی ہے۔ طریقے بدل گئے ہیں، مگر ظلم اور خیانت کی حقیقت نہیں بدلی۔قرآن کریم نے اہل ایمان کو اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت کرنے اور اپنی امانتوں میں بددیانتی برتنے سے منع کیا ہے۔ زمین پر اصلاح کے بعد اس میں فساد پھیلانے سے بھی روکا گیا ہے۔ ملاوٹ اور دھوکا دہی بظاہر ایک فرد کا جرم دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جب بازار سے اعتماد اٹھ جائے تو ہر خریدار دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے، کاروباری اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور اچھے تاجر بھی بداعتمادی کی زد میں آتے ہیں۔ یوں چند افراد کی ہوس پورے تجارتی ماحول کو آلودہ کردیتی ہے۔رسول اللہؐ نے نہایت واضح الفاظ میں فرمایا کہ جو ہمیں دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں۔ یہ تنبیہ اس جرم کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہے۔

دھوکا دینے والا بظاہر مسلمان ہو، مگر اس کا عمل اسلامی کردار اور نبوی تعلیمات سے سخت متصادم ہے۔ مسلمان کی پہچان نماز اور ظاہری شعائر کے ساتھ ساتھ اس کی سچائی، امانت اور معاملہ فہمی سے بھی ہوتی ہے۔ جو شخص عبادت گزار دکھائی دے، مگر کاروبار میں جھوٹ بولے، عیب چھپائے اور لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے حاصل کرے، اس نے در حقیقت دین کو اپنی عملی زندگی میں داخل نہیں ہونے دیا۔ناجائز طریقے سے حاصل کیا گیا منافع درحقیقت دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا ہے۔ قرآن کریم ناپ تول پورا رکھنے، لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دینے اور باہمی رضامندی پر مبنی جائز کاروبار کے سوا ایک دوسرے کا مال نہ کھانے کی تعلیم دیتا ہے۔ کم تولنے والوں کے لیے سخت ہلاکت کی وعید سنائی گئی ہے۔ یہ وعید صرف ترازو میں چند گرام کم کرنے والے کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے قابلِ توجہ ہے جو پورا معاوضہ لے کر ادھوری، ناقص یا وعدے کے خلاف چیز فراہم کرتا ہے.دھوکا دہی کی بعض صورتیں مالی نقصان سے آگے بڑھ کر انسانی صحت اور جان کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا میں مضر مادوں کی آمیزش، جعلی ادویات کی فروخت، طبی مصنوعات کے معیار میں خیانت اور تعمیرات میں ناقص سامان کا استعمال سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

ایسا کرنے والا صرف ناجائز منافع نہیں کماتا بلکہ بیماری، معذوری یا موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یوں اس کے نامۂ اعمال میں مالی خیانت کے ساتھ انسانی جان اور صحت کو نقصان پہنچانے کا بوجھ بھی شامل ہوجاتا ہے۔بعض لوگ دل کش گفتگو کرتے ہیں، اپنی دیانت کے دعوے کرتے ہوئے اللہ کو گواہ بنا کر گاہک کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، مگر عملی طور پر دھوکہ دیتے ہیں اور لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ قرآن کریم نے ایسے کردار کی نشان دہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بعض لوگوں کی باتیں دنیاوی زندگی میں متاثر کرتی ہیں، لیکن انہیں موقع ملے تو زمین میں فساد بپا کر کے کھیتی اور نسل کو تباہ کرتے ہیں۔ آج نقصان دہ ملاوٹ، جعلی ادویات اور ناقص مصنوعات تیار کرنے والوں پر اس تنبیہ کا مفہوم پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔امانت کا دائرہ عام تاجروں تک محدود نہیں۔ جس شخص کو مسلمانوں کے کسی اجتماعی مفاد، ادارے، نگرانی، معیار یا انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، وہ بھی جواب دہ ہے۔ متعلقہ محکموں اور نگران اداروں کے اہل کار اگر رشوت، دباؤ یا غفلت کے باعث ملاوٹ اور جعل سازی سے چشم پوشی کریں تو وہ بھی جرم میں شریک ہوجاتے ہیں۔

رسول اللہؐ نے تنبیہ فرمائی کہ جسے کسی رعایا کی ذمہ داری دی گئی اور اس نے پوری خیر خواہی کے ساتھ اس کی نگہداشت نہ کی، تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔ اختیار دراصل اعزاز سے بڑھ کر امانت اور جواب دہی ہے۔سیدنا جریر بن عبداللہؓ کا طرزِ عمل تاجروں کے لیے ایک روشن نمونہ ہے۔ وہ سامان فروخت کرتے تو خریدار کو اس کے عیوب سے آگاہ کر دیتے تھے۔ کسی نے کہا کہ آپ ایسا کریں گے تو سامان کیسے فروخت ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے رسول اللہؐ کے دستِ مبارک پر مسلمانوں کی خیر خواہی کا عہد کیا تھا۔ ان کے نزدیک گاہک سے عیب چھپا کر سودا مکمل کر لینا کامیابی نہیں بلکہ عہد شکنی تھی۔ یہی احساس بازار کو عبادت گاہ جیسی پاکیزگی عطا کرسکتا ہے۔رسول اللہؐ نے فرمایا کہ خریدنے اور بیچنے والے اگر سچ بولیں اور حقیقت واضح کردیں تو ان کے سودے میں برکت ڈال دی جاتی ہے، لیکن اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو سودے کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔ ممکن ہے دھوکا دینے والے کو فوری طور پر زیادہ رقم مل جائے، مگر ہر اضافہ نفع نہیں ہوتا۔ جس مال کے ساتھ بے سکونی، بیماری، بدنامی، قانونی گرفت اور آخرت کا وبال وابستہ ہو، اسے کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔ حقیقی نفع وہ ہے جس کے ساتھ دل کا اطمینان، لوگوں کا اعتماد اور اللہ کی برکت ہو۔

ہمیں اپنے کاروبار اور معاملات کا بے لاگ جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہم چیز کا عیب واضح کرتے ہیں؟ کیا معیار، مقدار اور قیمت کے بارے میں سچ بولتے ہیں؟ کیا ہمارے اشتہارات حقیقت پر مبنی ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے لیے بھی وہی چیز پسند کرتے ہیں جو اپنے اہل خانہ کے لیے پسند کرتے ہیں؟ اصلاح کا آغاز قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اللہ کے حضور جواب دہی کے احساس سے ہوتا ہے۔ دیانت دار بازار ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ملاوٹ سے پاک اشیا اور دھوکے سے پاک معاملات محض صارف کا حق نہیں بلکہ مسلمان کے ایمان، اخلاق ، حصولِ برکت اور امانت کا لازمی تقاضا ہیں۔