ہوم << مصنوعی ذہانت کے عہد میں انسانی اختیار – نعیم اللہ باجوہ
600x314

مصنوعی ذہانت کے عہد میں انسانی اختیار – نعیم اللہ باجوہ

انسان کی تاریخ دراصل اپنی حدود سے آگے بڑھنے کی تاریخ ہے۔ اس نے اپنی کمزور آنکھ کے لیے دوربین بنائی، اپنی محدود سماعت کے لیے ایسے آلات ایجاد کیے جو ان آوازوں تک پہنچ گئے جہاں انسانی کان براہِ راست نہیں پہنچ سکتا تھا، اپنی مختصر یادداشت کو کتابوں میں محفوظ کیا اور اپنی محدود قوت کو مشینوں کے ذریعے کئی گنا بڑھا دیا۔ ہر ایجاد نے انسان کو کم نہیں کیا بلکہ اسے اپنی فطری حدود سے آگے دیکھنے کا ایک نیا امکان دیا۔

مگر مصنوعی ذہانت کے ظہور کے ساتھ پہلی مرتبہ سوال کی نوعیت کچھ بدل گئی ہے۔ اب معاملہ صرف یہ نہیں کہ مشین انسان کے ہاتھ کا کام کر سکتی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے کاموں میں شریک ہو رہی ہے جنہیں انسان مدتوں سے اپنی ذہنی خصوصیات سمجھتا آیا ہے۔ زبان، تجزیہ، ترتیب، پیش گوئی، تخلیق اور فیصلہ سازی کے بعض مراحل میں مشین کی شرکت نے ہمیں ایک ایسے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس سے فرار ممکن نہیں: اگر ہماری بہت سی ذہنی ذمہ داریاں مشین سنبھال سکتی ہے تو پھر انسان کے پاس کیا باقی رہتا ہے؟ یہ سوال بظاہر مشین کے بارے میں ہے مگر حقیقت میں انسان کے بارے میں ہے۔ہم نے ذہانت کو طویل عرصے تک اپنی برتری کا ایک اہم ثبوت سمجھا۔ ہم حساب کرتے تھے، زبان بناتے تھے، معلومات یاد رکھتے تھے، مسائل حل کرتے تھے اور ان صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنے آپ کو دوسری مخلوقات سے ممتاز سمجھتے تھے۔

اب کمپیوٹر ایسی رفتار سے حساب کر سکتا ہے جس کا انسانی ذہن براہِ راست مقابلہ نہیں کر سکتا۔جدید نظام بہت بڑے ذخیرۂ معلومات میں ایسے نمونے اور باہمی تعلقات تلاش کر سکتے ہیں جنہیں انسان کے لیے اسی رفتار اور پیمانے پر دریافت اور تجزیہ کرنا ممکن نہیں۔ وہ متعدد انسانی زبانوں میں مربوط جوابات پیش کر سکتے ہیں، تصویری مواد تیار کر سکتے ہیں، کمپیوٹر کوڈ لکھ سکتے ہیں، مختلف زبانوں میں ترجمہ کر سکتے ہیں اور متعدد شعبوں میں انسان کی معاونت کر سکتے ہیں۔ ان صلاحیتوں کی حقیقت سے انکار کرنا دانش مندی نہیں ہو گی۔ مگر اس حقیقت کو انسانی ذہانت کی مکمل شکست سمجھ لینا بھی اتنا ہی سطحی نتیجہ ہو گا۔کیونکہ حساب اور شعور ایک چیز نہیں۔جواب اور فہم ایک چیز نہیں۔ معلومات اور معنی ایک چیز نہیں۔اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور فیصلے کی ذمہ داری بھی ایک چیز نہیں۔مشین ہمارے کسی سوال کا جواب دے سکتی ہے لیکن یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ اس جواب کی ہمارے لیے اصل اہمیت کیا ہے۔ وہ مختلف امکانات کا جائزہ لے سکتی ہے مگر ان میں سے کون سا راستہ ہماری اقدار اور ترجیحات کے مطابق ہے یہ فیصلہ انسان ہی کو کرنا پڑتا ہے۔

وہ کسی مسئلے کے کئی حل پیش کر سکتی ہے لیکن ان میں سے کون سا حل انسانی وقار اور بھلائی کے زیادہ قریب ہے یہ صرف حساب کا مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی فیصلہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر انسان کی اصل انفرادیت کیا ہے۔شاید انسان کی اصل خوبی یہ نہیں کہ وہ ہر کام مشین سے زیادہ تیزی سے کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے کاموں میں مشین انسان سے کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ہے۔ وہ بہت بڑی مقدار میں اعداد کا حساب چند لمحوں میں کر سکتی ہے اور بے شمار معلومات کو ایک ساتھ ترتیب دے سکتی ہے۔ لیکن انسان کی قدر صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ کوئی کام کتنی تیزی سے کر سکتا ہے۔ اگر رفتار ہی انسان کی قدر کا معیار ہوتی تو ہر نئی مشین کے ساتھ انسان کی اہمیت کم ہوتی چلی جاتی۔ کیلکولیٹر آنے سے ریاضی دان کی ضرورت ختم نہیں ہوئی، کیمرے نے مصور کو بے معنی نہیں کیا اور کتاب نے انسان کی یادداشت کی قدر ختم نہیں کی۔

ٹیکنالوجی نے انسان کے کچھ کام ضرور اپنے ذمے لیے ہیں لیکن اس کے ساتھ اس نے انسان کے لیے نئے سوالات اور نئے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔اصل خطرہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان سہولت کو اپنی آزادی سمجھنے لگتا ہے۔مشین ہمارے لیے معلومات جمع کرے تو یہ ایک سہولت ہے۔ کسی مشکل مسئلے کو سمجھنے میں ہماری مدد کرے تو یہ بھی سہولت ہے۔ کسی کام کا ابتدائی مسودہ تیار کر دے تو ہمارا وقت بچتا ہے۔ لیکن اگر ہم اسی سہولت کی وجہ سے خود سوال کرنا چھوڑ دیں، معلومات کو پرکھنا چھوڑ دیں، مختلف رائے پر غور کرنا چھوڑ دیں اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری بھی مشین کے حوالے کر دیں تو صورتِ حال بدل جاتی ہے۔ پھر مشین صرف ہماری مدد نہیں کر رہی ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ یہ بھی طے کرنے لگتی ہے کہ ہم کیسے سوچیں، کیا قبول کریں اور کس بات کو درست سمجھیں۔ شاید یہی ہمارے زمانے کا سب سے خاموش خطرہ ہے۔

انسان کی آزادی ہمیشہ یہ نہیں ہوتی کہ اس کے ہاتھ میں کتنے راستے موجود ہیں۔ بعض اوقات آزادی یہ ہوتی ہے کہ وہ ان راستوں میں سے انتخاب کرنے کی اپنی صلاحیت محفوظ رکھتا ہے۔ اگر ایک نظام ہر موقع پر ہمیں بتانے لگے کہ کیا پڑھنا ہے، کیا دیکھنا ہے، کیا خریدنا ہے، کس سے رابطہ رکھنا ہے، کس بات پر یقین کرنا ہے اور کس فیصلے کو بہتر سمجھنا ہے تو بظاہر ہماری زندگی آسان ہو سکتی ہے مگر ہمارے اختیار کی داخلی دنیا سکڑ سکتی ہے۔ انسان کو فیصلوں کی تکلیف سے نجات مل جائے تو ضروری نہیں کہ اسے آزادی بھی مل جائے۔ بعض فیصلوں کا بوجھ ہی انسان کو انسان بناتا ہے۔زندگی کا ہر اہم فیصلہ کسی فارمولے سے نہیں نکلتا۔کبھی دو درست راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کسی اصول کو کسی خاص انسانی صورتِ حال کے سامنے نئے انداز میں سمجھنا پڑتا ہے۔ کبھی معلومات ناکافی ہوتی ہیں مگر فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔ کبھی کسی شخص کو قانون سے زیادہ رحم کی ضرورت ہوتی ہے اور کبھی رحم سے زیادہ اصول کی۔ کبھی خاموش رہنا درست ہوتا ہے اور کبھی خاموشی ناانصافی بن جاتی ہے۔ ایسے مقامات پر انسان صرف معلومات کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اپنے فیصلے کا اخلاقی ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔یہی ذمہ داری انسانی اختیار کی بنیاد ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ مصنوعی ذہانت کا مسئلہ صرف مستقبل کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہمارے حال کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ ہم پہلے ہی ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معلومات کی کمی سے زیادہ مسئلہ معلومات کی کثرت ہے۔ ہر لمحہ ہماری توجہ مختلف سمتوں میں کھینچی جاتی ہے۔ ہر سوال کا فوری جواب دستیاب ہے۔ ہر موضوع پر بے شمار آراء سامنے موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں اصل دولت معلومات نہیں بلکہ توجہ بن جاتی ہے۔ جس انسان کی توجہ اس کے اپنے اختیار میں نہیں وہ معلومات کی فراوانی کے باوجود فکری طور پر آزاد نہیں رہ سکتا۔مصنوعی ذہانت اس صورتِ حال کو مزید طاقت دے سکتی ہے۔ وہ ہمیں معلومات تک پہلے سے کہیں آسان رسائی دے سکتی ہے مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اپنی ذہنی محنت کا وہ حصہ بھی چھوڑ دیں جس کے ذریعے فہم پیدا ہوتی ہے۔ کسی موضوع پر خود غور کرنے سے پہلے جواب حاصل کر لینا بظاہر وقت بچاتا ہے مگر ہر وقت بچایا ہوا وقت انسان کو فکری طور پر مضبوط نہیں کرتا۔

بعض اوقات سوچنے کی دشواری ہی سوچ کو گہرا کرتی ہے۔ بعض سوالات کا فوری جواب انسان کو اس سفر سے محروم کر دیتا ہے جس میں سوال آہستہ آہستہ فکر میں تبدیل ہوتا ہے۔علم صرف نتیجے کا نام نہیں۔ علم اس راستے کا نام بھی ہے جس سے انسان نتیجے تک پہنچتا ہے۔اسی لیے تعلیم کے مستقبل کا سوال بھی صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بچوں کو کتنا پڑھا سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بچوں کو کتنا سوچنے دے گی۔ اگر طالب علم ہر سوال کا جواب فوراً حاصل کر لے مگر سوال پیدا کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جائے تو معلومات بڑھ سکتی ہیں اور ذہن سکڑ سکتا ہے۔ اگر وہ ہر تحریر مشین سے لکھوا لے مگر اپنے تجربے کو زبان دینے کی مشق نہ کرے تو متن پیدا ہو سکتا ہے مگر اظہار کی شخصیت کمزور ہو سکتی ہے۔ اگر وہ ہر مسئلے کا حل تیار صورت میں حاصل کر لے مگر مسئلے کے اندر اترنے کی عادت کھو دے تو سہولت بڑھ سکتی ہے مگر فکری پختگی ضروری نہیں کہ بڑھے۔یہاں ہمیں مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنی تربیت کے تصور پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔

ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو مشین کے مقابلے میں مشین جیسا انسان پیدا نہ کرے بلکہ مشین کے استعمال کے قابل ایسا انسان پیدا کرے جو جانتا ہو کہ کب مشین سے مدد لینی ہے، کب اس کے جواب کو پرکھنا ہے اور کب اس کے سامنے اپنے ذہن کو خود کام کرنے دینا ہے۔ آنے والے زمانے میں شاید کامیاب انسان وہ نہیں ہو گا جو ہر کام خود کرنا چاہے بلکہ وہ ہو گا جو یہ امتیاز جانتا ہو کہ کون سا کام مشین کو دینا ہے اور کون سا کام اپنے اندر محفوظ رکھنا ہے۔یہ امتیاز تہذیب کے مستقبل کا ایک بنیادی سوال بن سکتا ہے۔تخلیق بھی اسی بحث کا حصہ ہے۔ مصنوعی ذہانت ایسی تصاویر بنا سکتی ہے جن میں فنی حسن ہو، ایسی موسیقی پیدا کر سکتی ہے جو سماعت کو متاثر کرے اور ایسی نثر لکھ سکتی ہے جس میں زبان کی روانی موجود ہو۔ اس صلاحیت کو کم تر سمجھنا حقیقت سے آنکھیں بند کرنا ہو گا۔ لیکن تخلیق کو صرف نتیجے سے ناپنا بھی کافی نہیں۔ انسان جب لکھتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں جوڑتا بلکہ اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحوں کو معنی دیتا ہے۔ اس کے اندر کے تجربات اس کے اظہار کی ساخت میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی خوشی، شکست، محبت، خوف، محرومی اور امید اس کے تخلیقی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔

مشین انسانی تجربے کے بارے میں اظہار پیدا کر سکتی ہے مگر انسانی زندگی کو جینا ایک الگ نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ فرق کسی مقابلے کا اعلان نہیں بلکہ حقیقت کی ایک باریک تفریق ہے۔ہمیں مصنوعی ذہانت کو انسان کا دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔ یہ تصور بھی اتنا ہی غیر دانش مندانہ ہے جتنا یہ سمجھنا کہ وہ انسان کی ہر ضرورت کا آخری حل ہے۔ ٹیکنالوجی کا اخلاقی مقام اس کے استعمال سے متعین ہوتا ہے۔ ایک ہی وسیلہ کسی انسان کے لیے علم کا دروازہ کھول سکتا ہے اور کسی دوسرے کے لیے فریب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک ہی نظام تحقیق کو تیز کر سکتا ہے اور غلط معلومات کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں پھیلا سکتا ہے۔ اس لیے اصل سوال ٹیکنالوجی کے وجود سے زیادہ اس تہذیبی شعور کا ہے جو اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرے گا۔یہاں “اختیار” کا لفظ اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔اختیار صرف یہ نہیں کہ انسان کے پاس بٹن دبانے کی آزادی ہو۔ اختیار یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مقصد کا تعین خود کرے۔ اپنے فیصلے کی ذمہ داری قبول کرے۔ ضرورت پڑنے پر اکثریت سے اختلاف کر سکے۔

کسی مقبول جواب کو صرف اس لیے قبول نہ کرے کہ وہ آسانی سے دستیاب ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنی عقل کو کسی بیرونی نظام کے سامنے مکمل طور پر معطل نہ کرے۔مصنوعی ذہانت ہمیں شاید پہلی بار اتنی شدت سے یہ سمجھا رہی ہے کہ انسان ہونے کا مطلب ہر کام خود کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ کون سا کام خود کرنا ضروری ہے. ہم مشین کو حساب دے سکتے ہیں مگر قدر کا سوال خود رکھنا ہو گا۔ ہم مشین کو معلومات دے سکتے ہیں مگر مقصد خود متعین کرنا ہو گا۔ ہم مشین سے امکانات پوچھ سکتے ہیں مگر انتخاب کی ذمہ داری خود اٹھانا ہو گی۔ہم مشین سے الفاظ لے سکتے ہیں مگر یہ طے کرنا ہو گا کہ ہمارے لیے کون سی بات کہنے کے قابل ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل آزادی شروع ہوتی ہے۔مستقبل انسان اور مشین کے درمیان جنگ کا نام نہیں۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ انسان اپنی تخلیق کردہ طاقتوں کے ساتھ کس قدر بالغ تعلق قائم کر سکتا ہے۔ جو تہذیب اپنی مشینوں کو طاقتور بناتی ہے مگر اپنے انسانوں کو فکری طور پر کمزور چھوڑ دیتی ہے وہ ترقی یافتہ ضرور دکھائی دے سکتی ہے مگر لازماً بالغ تہذیب نہیں کہلا سکتی۔

حقیقی ترقی شاید وہاں شروع ہوتی ہے جہاں سہولت کے ساتھ شعور بھی بڑھے، رفتار کے ساتھ بصیرت بھی آئے اور اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی۔ہمیں مشین سے مقابلہ نہیں کرنا۔ ہمیں اپنے آپ کو مشین بننے سے بچانا ہے۔کیونکہ مشین کا حساب غلط ہو جائے تو اسے درست کیا جا سکتا ہے۔ کسی نظام کا جواب غلط ہو تو نیا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر انسان نے سوال کرنا چھوڑ دیا، اپنے فیصلوں کی ذمہ داری چھوڑ دی اور اپنے اندر موجود اخلاقی آواز کو بھی بیرونی نظام کے حوالے کر دیا تو مسئلہ کسی ایک مشین کا نہیں رہے گا۔ پھر سوال یہ نہیں ہو گا کہ مشین کتنی ذہین ہے بلکہ یہ ہو گا کہ انسان نے اپنی ذہانت کا کتنا حصہ خود اپنے پاس رکھا ہے۔ شاید مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا تحفہ یہی سوال ہے۔اس نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم پہلی مرتبہ سنجیدگی سے پوچھیں کہ انسان کی اصل قدر کہاں ہے۔شاید اس کا جواب ہماری رفتار میں نہیں۔شاید ہماری یادداشت میں بھی نہیں۔ شاید صرف ہماری معلومات میں بھی نہیں۔انسان کی اصل قدر شاید اس میں ہے کہ وہ معلومات کو معنی دے سکتا ہے، طاقت کو ذمہ داری میں بدل سکتا ہے، اختیار کو اخلاق سے جوڑ سکتا ہے اور اپنے وجود کے بارے میں خود سوال اٹھا سکتا ہے۔

مشین کو ذہین ہونے دیں۔ مگر انسان کو اپنے سوال سے محروم نہ ہونے دیں۔ مشین کو جواب دینے دیں۔ مگر آخری سوال انسان کے پاس رہنے دیں۔کیونکہ جس دن انسان نے سوال کرنے کا اختیار بھی کسی مشین کے حوالے کر دیا اس دن شاید مشین نے انسان کو شکست نہیں دی ہو گی؛ انسان نے خود اپنے اختیار سے دست برداری اختیار کر لی ہو گی۔اور شاید آنے والے عہد کی سب سے بڑی انسانی آزادی یہی ہو گی کہ ہمارے پاس ہر سوال کا فوری جواب موجود ہونے کے باوجود ہم یہ حق محفوظ رکھیں کہ کسی جواب کو قبول کرنے سے پہلے ٹھہر سکیں، سوچ سکیں، اختلاف کر سکیں اور اپنے ضمیر سے پوچھ سکیں: کیا یہ جواب درست ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال: کیا یہ جواب میرے لیے درست ہے؟

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment