ہوم << خطبہ جمعہ مسجد الاقصیٰ – الشیخ محمد سلیم – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد الاقصیٰ – الشیخ محمد سلیم – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

والدین کی نافرمانی تا امت سے بے وفائی تک
انسان پر اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ زندگی کے ابتدائی برسوں میں وہ صرف ہماری ضروریات پوری نہیں کرتے، بلکہ اپنی نیند، آرام، جوانی، صحت اور خواہشات تک قربان کر دیتے ہیں۔ ماں کی آغوش بچے کی پہلی پناہ گاہ بنتی ہے اور باپ کی محنت اس کے مستقبل کا سہارا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ بعض اولاد ان قربانیوں کو بھول جاتی ہے۔

جن ہاتھوں نے کبھی اسے تھام کر چلنا سکھایا تھا، بڑھاپے میں انہی ہاتھوں کو سہارے کی ضرورت پڑے تو وہ بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہی ناشکری رفتہ رفتہ خاندان کو کمزور اور معاشرے کو بے حس بنا دیتی ہے۔بیت المقدس مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ محمد سلیم نے خطبۂ جمعہ میں والدین کے حقوق اور نافرمانی کے تباہ کن نتائج بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک محض معاشرتی روایت یا اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کی تعمیل اور عظیم عبادت ہے۔ قرآن کریم نے توحید کے حکم کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کا ذکر کرکے ان کے حق کی عظمت نمایاں کر دی ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، کیونکہ اسی نے اسے پیدا کیا؛ اور والدین سے بھلائی کرتا ہے، کیونکہ وہ دنیا میں اس کی پیدائش، پرورش اور تربیت کا ظاہری وسیلہ بنے۔والدین کا احترام لازم ہے، تاہم شریعت نے اطاعت کی حدود بھی متعین کی ہیں۔ اگر وہ کسی گناہ، شرک یا فرضِ عین کو چھوڑنے کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی، کیونکہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ اس کے باوجود بدکلامی، قطع تعلقی یا بدسلوکی کی اجازت نہیں۔

قرآن کا حکم ہے کہ اگر والدین شرک پر مجبور کریں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کرو، مگر دنیاوی زندگی میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ مباح معاملات میں ان کی بات ماننی چاہیے، اور نفل و مستحب کاموں میں بھی حتی الامکان ان کی خواہش کا احترام کرنا بہتر ہے۔ماں کا حق خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے تین مرتبہ ماں کا نام لیا اور چوتھی مرتبہ باپ کا۔ ماں حمل کی مشقت سہنے کے بعد، بچے کو دودھ بھی پلاتی ہے اور شب و روز اس کی نگہداشت کرتی ہے، جبکہ باپ اپنی جوانی اور توانائی اولاد کی خوراک، تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے کھپا دیتا ہے۔ والدین اولاد کے لیے کتنی ہی راتیں جاگ کر، خواہشات دبا کر اور تکلیفیں خاموشی سے برداشت کر کے گزار دیتے ہیں۔ اولاد اگر ان قربانیوں کا بدلہ نہیں دے سکتی تو کم از کم انہیں محبت، احترام اور سکون ضرور دے سکتی ہے۔

افسوس کہ بعض لوگ شریکِ حیات یا دوسروں کے دباؤ میں آکر والدین کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی خدمت کی استطاعت رکھنے کے باوجود انہیں اولڈ ایج ہوم پہنچا دیتا ہے، کوئی مہینوں ان سے بات یا رابطہ نہیں کرتا، اور کہیں نوبت بدزبانی یا تشدد تک جا پہنچتی ہے۔ یہ محض خاندانی اختلاف نہیں، کھلی ناشکری اور نافرمانی ہے۔ جو شخص کسی کو والدین سے دور کرے، نافرمانی کو خوب صورت بنا کر دکھائے یا خدمت سے روکے، وہ خیر خواہ نہیں۔ قرآن نے متنبہ کیا ہے کہ بعض بیویاں اور اولاد انسان کے لیے آزمائش بن سکتی ہیں؛ اس لیے ہر ایسے اثر سے ہوشیار رہنا چاہیے جو اللہ کی نافرمانی تک لے جائے۔گھر کو جوڑے رکھنے میں خواتین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ایک نیک بیوی شوہر کو والدین کی خدمت کی ترغیب دیتی ہے، گھر کا ماحول خوش گوار بناتی ہے اور ساس سسر کو بوجھ نہیں سمجھتی۔ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ آج وہ بہو ہے، کل ماں اور پھر دادی یا نانی ہوگی۔ اگر وہ شوہر کو اس کے والدین سے کاٹتی ہے تو دراصل اپنے ہی گھر میں ایسی روایت قائم کرتی ہے جس کا سامنا اسے بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ والدین کی نافرمانی ایک قرض ہے جس کی ادائیگی بسا اوقات دنیا ہی میں ہو جاتی ہے۔

والدین کے احترام کا اظہار صرف بڑے مالی اخراجات سے نہیں ہوتا۔ نرم لہجہ، محبت بھرا اندازِ گفتگو، ان کی بات توجہ سے سننا، مجلس میں ان کے مقام کا لحاظ رکھنا اور ان کے سامنے آواز پست رکھنا بھی نیکی ہے۔ قرآن والدین سے عزت و احترام کے ساتھ بات کرنے اور شفقت سے ان کے سامنے عاجزی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ بڑھاپے میں ان کی طبیعت حساس، صحت کمزور اور ضرورتیں زیادہ ہوسکتی ہیں؛ ایسے میں جھنجھلاہٹ، اکتاہٹ یا سخت جواب ان کے دل پر گہرا زخم لگاتا ہے۔ قرآن تو ” اُف “تک کہنے سے روکتا ہے، پھر چیخنے، ذلیل کرنے یا ہاتھ اٹھانے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے؟
والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ ان کے لیے دعا و استغفار کیا جائے، ان کے کیے ہوئے جائز وعدے پورے کیے جائیں، ان کے دوستوں کا احترام کیا جائے اور ان سے وابستہ رشتوں کو نبھایا جائے۔ یہ وفاداری ظاہر کرتی ہے کہ اولاد کی محبت والدین کی موجودگی یا ان سے ملنے والے فائدے تک محدود نہ تھی۔ نیک اولاد کی دعا والدین کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی ایک جاری رہنے والا تحفہ ہے۔

والدین کی خدمت دنیا و آخرت کی برکتوں کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے والد کو جنت کے بہترین دروازوں میں سے ایک قرار دیا؛ انسان چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کرے اور چاہے تو نافرمانی سے اسے گنوا دے۔ ایک شخص ہجرت کی بیعت کے لیے حاضر ہوا اور بتایا کہ وہ اپنے روتے ہوئے والدین کو چھوڑ آیا ہے۔ آپ ﷺ نے اسے واپس جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جیسے انہیں رلایا ہے، اب انہیں ہنساؤ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ نفلی نیکی کے شوق میں بھی والدین کے واجب حقوق نظر انداز نہیں کیے جاسکتے۔صلۂ رحمی رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت کا سبب ہے، اور والدین اس کے سب سے بڑھ کر مستحق ہیں۔ غار میں پھنسے تین افراد میں سے ایک نے والدین کی بے مثال خدمت کو وسیلہ بنا کر دعا کی تو چٹان کھسکنے لگی۔ قرآن حضرت یحییٰ علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے بتلاتا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے تھے، سرکش و نافرمان نہ تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے اوصاف میں والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر کیا۔ انبیائے کرام کی سیرت یوں واضح کرتی ہے کہ والدین کی خدمت نیک لوگوں کا راستہ، جبکہ نافرمانی تکبر اور بدبختی کی علامت ہے۔

خطبے کے دوسرے حصے میں الشیخ محمد سلیم نے نافرمانی کے مفہوم کو خاندان سے امت تک وسعت دی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اولاد اپنے محسن والدین کے حقوق بھلا کر نافرمان بنتی ہے، اسی طرح امت بھی اپنی دینی بنیادوں سے منہ موڑ کر اجتماعی بے وفائی کا شکار ہوسکتی ہے۔ آج امت کا ایک بڑا طبقہ قرآن کو فیصلہ کن رہنما نہیں بناتا، سنتِ رسول ﷺ کو عملی زندگی میں اس کا مطلوب مقام نہیں دیتا اور صحابۂ کرام کے راستے سے دور ہوتا جارہا ہے۔ جب اپنی تہذیبی اور دینی شناخت پر اعتماد کمزور پڑتا ہے تو مغرب کی ہر قدر اور روش قابلِ تقلید دکھائی دینے لگتی ہے، خواہ وہ ایمان، حیا اور خاندانی نظام کے لیے کتنی ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہ امت انسانوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لانے والی قرار دیا ہے۔ جب وہ خود اپنے پیغام سے بے وفائی کرے، شریعت کو زندگی سے الگ کردے اور دوسروں کی گمراہیوں پر للچانے لگے تو اپنی خیر و برکت کھو بیٹھتی ہے۔ یہی اجتماعی نافرمانی؛ ذلت، کمزوری، بے وقعتی اور انتشار کا راستہ کھولتی ہے۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کا طریقہ محض ماضی پر فخر کرنا یا دوسروں کو الزام دینا نہیں، بلکہ قرآن سے وفاداری، سنت کی پیروی، شریعت کی اطاعت اور اپنی اصلاح ہے۔ دین ؛اللہ تعالی، قرآن کریم، رسول اللہ ﷺ، مسلم حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کا نام ہے۔

اس لیے توبہ کی دعوت صرف نافرمان بیٹے یا بیٹی کے لیے نہیں، پوری امت کے لیے ہے۔ اولاد والدین کی طرف پلٹے، اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگے اور ان کی باقی زندگی کو سکون سے بھر دے۔ اسی طرح امت بھی اپنے رب، قرآن، رسول ﷺ اور دینی ذمہ داری کی طرف لوٹے۔ مسجد اقصیٰ سے تعلق بھی اسی وفاداری کا حصہ ہے۔ اسے صرف خبروں، نعروں اور جذبات تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ یہاں نماز، ذکر اور آبادکاری کے ذریعے اس تعلق کو مضبوط کیا جائے۔والدین ہمارے لیے جنت کا دروازہ ہیں اور دین امت کے لیے عزت کا راستہ۔ والدین سے بے وفائی گھر اجاڑتی ہے، جبکہ دین سے بے وفائی قوموں کو زوال سے دوچار کرتی ہے۔ اصلاح کا آغاز قریب ترین حق سے ہونا چاہیے: اپنے والدین کا ہاتھ تھامیے، ان سے نرم لہجے میں بات کیجیے، ان کی ضرورتیں پوری کیجیے اور ان کے لیے دعا کیجیے۔ پھر اسی جذبۂ وفاداری کو قرآن، سنت، امت اور مسجد اقصیٰ کے ساتھ اپنے تعلق تک پھیلا دیجیے۔ یہی گھر کی مضبوطی، امت کی بیداری اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment