ہوم << حسد، بغض، دھوکے اور دل آزاری سے اجتناب – محمد عدنان
600x314

حسد، بغض، دھوکے اور دل آزاری سے اجتناب – محمد عدنان

درسِ حدیث بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، سیدنا محمدٍ وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین۔

نبی کریم ﷺ کی اپنی امت پر بے شمار احسانات ہیں۔ آپ ﷺ نے امت کو صرف عبادات کا طریقہ ہی نہیں سکھایا بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ایسی رہنمائی عطا فرمائی جو انسان کے لیے دنیا میں سکون، معاشرے میں محبت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔آپ ﷺ نے امت کو باہمی تعلقات کے بارے میں نہایت جامع اور دل کو جھنجھوڑ دینے والی تعلیم دی۔

حدیثِ مبارکہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ۔
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے کی بولی پر بولی نہ لگاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔

یہ حدیث بظاہر چند مختصر جملوں پر مشتمل ہے، لیکن اگر انسان اس کے ہر لفظ کو اپنی زندگی کے آئینے میں دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صالح، پُرامن اور محبت بھرا معاشرہ تشکیل دینے کے لیے کتنی جامع تعلیم عطا فرمائی ہے۔

حسد: دوسرے کی نعمت دیکھ کر دل کا جلنا
سب سے پہلے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لَا تَحَاسَدُوا، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔حسد یہ ہے کہ انسان اپنے بھائی کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کوئی نعمت دیکھ کر دل میں یہ خواہش رکھے کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے۔کسی کو اللہ نے علم دیا، کسی کو عزت دی، کسی کو مال دیا، کسی کو اولاد دی، کسی کو اچھی ملازمت دی، کسی کو کاروبار میں ترقی دی، کسی کو دین کی خدمت کا موقع دیا۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہیں۔دوسرے کے لیے خیر چاہنا ایمان کی خوبصورتی ہے، جبکہ دوسرے کی نعمت ختم ہونے کی خواہش دل کی بیماری ہے۔ہمیں اپنے دلوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہمارے اندر بھی کسی مسلمان بھائی کے لیے حسد تو نہیں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کی کامیابی ہمیں پریشان کرتی ہے اور اس کی ناکامی ہمیں خوشی دیتی ہے؟
اگر ایسا ہے تو ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے دل کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

دھوکا، فریب اور ناجائز طریقوں سے دوسروں کو نقصان پہنچانا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:وَلَا تَنَاجَشُوایعنی ایک دوسرے کے معاملات میں دھوکے اور فریب سے کام نہ لو۔ اسلام کا معاشرہ اعتماد کا معاشرہ ہے۔ مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے مسلمان کا جان، مال اور عزت محفوظ ہو۔کسی کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولنا، کسی کے خلاف غلط باتیں پھیلانا، لوگوں کو اس سے بدظن کرنا، اس کے نقصان کے لیے منصوبہ بندی کرنا، یہ سب اس اسلامی اخوت کے خلاف ہے جس کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی۔

بغض اور کینہ: دلوں کو کھوکھلا کرنے والی بیماری

آپ ﷺ نے فرمایا:
وَلَا تَبَاغَضُوا، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔
بغض دل کے اندر چھپی ہوئی وہ آگ ہے جو سب سے پہلے خود انسان کو جلاتی ہے. بعض اوقات انسان بظاہر مسکرا رہا ہوتا ہے، سلام بھی کرتا ہے، لیکن دل کے اندر دوسرے کے لیے نفرت، کینہ اور انتقام کی آگ موجود ہوتی ہے۔اسلام ہمیں صرف ظاہری تعلقات درست کرنے کا نہیں بلکہ دلوں کو پاک کرنے کا درس دیتا ہے۔اسی لیے ہمیں بار بار اپنے دل سے پوچھنا چاہیے کہ کیا میرے دل میں کسی مسلمان کے لیے کینہ ہے؟

کیا میں کسی کی عزت سے خوش نہیں؟
کیا میں کسی کی کامیابی برداشت نہیں کر سکتا؟
کیا میں کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرتا ہوں؟
کیا میں کسی کو گرانے کے لیے دوسروں کو اس کے خلاف بھڑکاتا ہوں؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمیں اپنے ایمان اور اپنے دل دونوں کی فکر کرنی چاہیے۔

ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
وَلَا تَدَابَرُوایعنی ایک دوسرے سے قطع تعلق اور دشمنی کی کیفیت اختیار نہ کرو۔ کے درمیان معمولی اختلافات ہو سکتے ہیں، مزاج مختلف ہو سکتے ہیں، رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، نفرت اور قطع تعلق میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جس شخص کے ساتھ آج ہمارا اختلاف ہے، ممکن ہے کل ہمیں اسی کی ضرورت پڑ جائے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمارا رویہ کیا ہے۔

دوسرے کے چلتے ہوئے سودے میں مداخلت نہ کرنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ یعنی کسی مسلمان بھائی کا سودا چل رہا ہو تو اس کے درمیان مداخلت کرکے اس کا معاملہ خراب نہ کرو۔
یہ صرف تجارت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس میں ایک بہت بڑی اخلاقی تعلیم پوشیدہ ہے۔مسلمان اپنے بھائی کا نقصان نہیں چاہتا۔وہ یہ نہیں سوچتا کہ کسی طرح مجھے فائدہ حاصل ہو جائے، خواہ میرے بھائی کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ پھر نبی کریم ﷺ نے وہ عظیم جملہ ارشاد فرمایا جس میں پوری امت کے اتحاد کا راز پوشیدہ ہے۔
وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔

یہ معمولی بات نہیں۔آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف ایک دوسرے سے سلام دعا رکھو، بلکہ فرمایا:بھائی بھائی بن جاؤ۔بھائی وہ ہوتا ہے جو مشکل میں کام آئے۔بھائی وہ ہوتا ہے جو غیر موجودگی میں عزت کی حفاظت کرے۔بھائی وہ ہوتا ہے جو لغزش پر اصلاح کرے، رسوائی نہیں۔بھائی وہ ہوتا ہے جو تکلیف میں سہارا دے۔بھائی وہ ہوتا ہے جو اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔قرآن کریم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس بے مثال محبت کو یوں بیان فرمایا:
رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ: یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے انتہائی رحم دل تھے۔ یہ تھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تربیت۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بے مثال ایثار
اس اخوت اور ایثار کی ایک نہایت سبق آموز مثال جنگ کے میدان میں سامنے آتی ہے۔کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین زخمی حالت میں پڑے تھے۔ انہیں پانی کی شدید ضرورت تھی۔ ایک زخمی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پانی پہنچایا گیا۔پانی ان کے ہونٹوں کے قریب تھا کہ اسی وقت دوسرے زخمی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے پانی کی آواز سنائی دی۔اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی پیاس کو بھلا دیا اور اشارہ کیا کہ پانی ان کے بھائی کی طرف لے جاؤ۔پانی دوسرے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا تو وہاں سے بھی تیسرے زخمی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز آئی۔ انہوں نے بھی اپنے بھائی کو اپنے اوپر ترجیح دی۔پانی لے کر تیسرے کے پاس پہنچے تو وہ شہید ہو چکے تھے۔پہلے کی طرف واپس آئے تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے۔پھر دوسرے کے پاس پہنچے تو وہ بھی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔دنیا کی زندگی ختم ہوگئی، لیکن ایثار، اخوت اور قربانی کی وہ داستان قیامت تک زندہ ہوگئی۔ یہ تھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

اپنی ضرورت کے وقت بھی بھائی کو اپنے اوپر ترجیح دینا، اپنی جان کی قیمت پر دوسرے مسلمان کی راحت چاہنا، اور دنیا کے فائدے سے زیادہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا، یہ وہ تربیت تھی جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو دی تھی۔دنیا نے بہت سے معاشرے دیکھے ہیں، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسی اخوت، ایثار اور قربانی کی مثال تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتی۔

مسلمان کی عزت، جان اور مال کی حرمت
اسی حدیث کے اگلے حصے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔
پھر اس بھائی چارے کی بنیاد بھی بتا دی۔
لَا يَظْلِمُهُ : وہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔
وَلَا يَخْذُلُهُ: وہ اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔
وَلَا يَحْقِرُه: وہ اسے حقیر نہیں سمجھتا۔

ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عزت بھی محترم ہے، جان بھی محترم ہے، مال بھی محترم ہے اور آبرو بھی محترم ہے۔نبی کریم ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں بھی مسلمانوں کے جان و مال اور عزت کی حرمت کو انتہائی واضح فرمایا:
فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ
یعنی تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔
اس لیے کسی مسلمان کا مال دھوکے سے حاصل کرنا، اس کا حق دبانا، خیانت کرنا، اس کی عزت کو نقصان پہنچانا یا اس کے خلاف سازش کرنا معمولی گناہ نہیں۔

اپنے دل کا محاسبہ کیجیے
آج اس حدیث کو صرف سننے کی نہیں بلکہ اپنے اوپر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم دوسروں کی اصلاح کرنے میں بہت جلدی کرتے ہیں، مگر اپنے دل کا جائزہ لینے میں دیر کر دیتے ہیں۔آئیے آج اپنے آپ سے سوال کریں:
کیا میرے دل میں کسی مسلمان کے لیے حسد ہے؟
کیا میں کسی کے خلاف دل میں بغض رکھتا ہوں؟
کیا میں کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت مجروح کرتا ہوں؟
کیا میں کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اس کے خلاف باتیں پھیلاتا ہوں؟
کیا میں کسی مسلمان کے کاروبار، عزت یا تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں؟
کیا میں اپنے بھائی کی کامیابی پر خوش ہوتا ہوں یا اندر ہی اندر جلتا ہوں؟

اگر ان میں سے کوئی بیماری ہمارے اندر موجود ہے تو ہمیں دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ ہم زبان سے کلمہ پڑھتے رہیں، مگر ہمارے اعمال ہمیں اس کی برکت اور حقیقت سے محروم کر دیں۔آئیے دلوں کو جوڑیں.آج ہمیں ایک دوسرے کو گرانے کی نہیں، اٹھانے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کی نہیں، عزت دینے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے کے عیب تلاش کرنے کی نہیں، عیب چھپانے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی نہیں، ایک دوسرے کے لیے دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں نفرتیں بانٹنے والے نہیں، محبتیں بانٹنے والے مسلمان بننا ہے۔اگر کسی سے ناراضی ہے تو صلح کی طرف قدم بڑھائیں۔اگر کسی کے لیے دل میں کینہ ہے تو اسے معاف کردیں۔

اگر کسی کی کامیابی سے دل میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کے لیے دعا کریں۔اگر کسی کے بارے میں غلط بات معلوم ہو تو اسے پھیلانے کے بجائے خاموشی اختیار کریں۔اور اگر کسی مسلمان بھائی کو مشکل میں دیکھیں تو یہ نہ سوچیں کہ یہ اس کا مسئلہ ہے، بلکہ یہ سوچیں!یہ میرے بھائی کا مسئلہ ہے اور مجھے اس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

پیغام
نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانے کی تعلیم دی جس میں مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ امن، محبت اور اطمینان کا ذریعہ ہو۔ہماری زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ہمارے ہاتھ سے کسی کا مال محفوظ رہے۔ہماری مجلس میں کسی کی عزت محفوظ رہے۔ہماری غیر موجودگی میں بھی ہمارے بھائی کی عزت محفوظ رہے۔اور ہمارے دل میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے خیر خواہی، محبت اور ہمدردی موجود ہو۔یہی نبوی تعلیم ہے۔یہی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا طریقہ ہے۔یہی اسلامی اخوت ہے۔اور یہی ایک خوشگوار اور کامیاب معاشرے کی بنیاد ہے. آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف حدیث سن کر نہ اٹھیں بلکہ اپنے دل میں ایک عہد لے کر اٹھیں کہ ہم کسی مسلمان کے لیے حسد نہیں کریں گے، بغض نہیں رکھیں گے، دھوکا نہیں دیں گے، اس کی تذلیل نہیں کریں گے، اس کے خلاف سازش نہیں کریں گے اور اس کے مال، جان اور عزت کی حفاظت کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو حسد، بغض، کینہ، تکبر اور نفرت سے پاک فرمائے۔ہمیں ایک دوسرے کا سچا خیر خواہ بنائے۔ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی اخوت، محبت، ایثار اور قربانی کا جذبہ عطا فرمائے۔ہماری آپس کی ناراضگیاں ختم فرمائے، دلوں کو جوڑ دے اور پوری امتِ مسلمہ کو محبت، اتحاد اور اتفاق نصیب فرمائے۔

اَللّٰهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ۔
آمین یا رب العالمین۔