وقت کا مصرف اور افغانستان میں جنگ بندی - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 08 شوال 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "وقت کا مصرف اور افغانستان میں جنگ بندی" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ وقت کی قدر کرتے ہوئے چند دنوں کی زندگی میں خوب نیکیاں کر لیں یہ عقلمندی کی علامت ہے، اگر کوئی شخص اللہ تعالی کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے مزید قریب ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ: رمضان کے بعد بھی وقت کی قدر کریں اور  تلاوت ، قیام اور نفل روزوں کا اہتمام کرتے رہیں۔ آپ ﷺ ماہ شوال میں چھ روزے رکھا کرتے تھے اور ان کی بدولت پورا سال روزے رکھنے کا ثواب مل جاتا ہے۔ وقت اور دولت دونوں کو ضائع ہونے سے بچانا پڑتا ہے، لیکن دولت جمع تو ہو جاتی ہے وقت جمع نہیں ہوتا، اس لیے وقت کی اہمیت دولت سے زیادہ ہے۔ اپنے وقت کو کار آمد بنانے کیلیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وقت کہاں اور کیسے صرف کرے۔ مومن کی ساری زندگی اللہ تعالی کی بندگی میں گزرتی ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں وقت کو مفید سرگرمیوں سے بھر پور رکھیں، اسے واجبات سے پہلو تہی اور لہو و لعب میں ضائع مت کریں۔ اپنی اولاد کو وقت کی قدر اور اسے مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنا سکھائیں؛ وگرنہ بچے لاپرواہی اور انحراف کا شکار ہو جائیں گے۔ انسان سے زندگی کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کہاں گزاری؟ فراغت اور صحت دو ایسی نعمتیں ہیں جن کی لوگ قدر نہیں کرتے، گرمیوں کی چھٹیوں میں شرعی دائرے میں رہتے ہوئے سیر و تفریح کوئی بری چیز نہیں ہے، تاہم انسان کو ان کا اسیر نہیں ہونا چاہیے۔ آخر میں انہوں نے افغانی بھائیوں کی جانب سے جنگ بندی کو سارے عالم اسلام کی جانب سے خوش آئند قرار دیا اور اس جنگ بندی کو مزید آگے بڑھانے پر زور دیا ، نیز افغانی جنگجوؤں کو صلح اور معافی تلافی کی ترغیب بھی دلائی اور آخر میں سب کیلیے دعا فرمائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ،جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد کے اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، اعلی ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

اللہ کے بندو!

میں تمہیں اور اپنے آپ کو خلوت اور جلوت میں تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، یہ اللہ تعالی کی گزشتہ و پیوستہ سب لوگوں کو تاکیدی نصیحت ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور ہم نے تم سے پہلے ان لوگوں کو بھی تاکیدی نصیحت کی تھی جنہیں کتاب دی گئی کہ تم تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131]

مسلم اقوام!

تقوی الہی اختیار کرو اور زندگی گزرنے سے پہلے دل کھول کر بندگی کر لو، اپنی بات کو اپنے عمل سے ثابت کر دکھاؤ؛ کیونکہ انسان کی حقیقی زندگی وہی ہے جو اللہ تعالی کی اطاعت میں گزر جائے، عقل مند وہی ہے جو اپنے آپ کو جانچ لے اور موت کے بعد کی تیاری رکھے، وہ شخص عاجز ہے جو چلے تو اپنے نفس کے پیچھے لیکن امیدیں اللہ تعالی سے لگائے۔

إِذَا هَبَّتْ رِيَاحُكَ فَاغْتَنِمْهَا

فَإِنَّ لِكُلِّ خَافِقَةٍ سُكُوْنُ

جب تمہارے حق میں ہوائیں چلیں تو انہیں غنیمت سمجھو؛ کیونکہ ہوا نے لازمی تھمنا ہے۔

وَلَا تَغْفَلَ عَنِ الْإِحْسَانِ فِيْهَا

فَمَا تَدْرِيْ السُكُوْنُ مَتَى يَكُوْنُ

ان مواقع پر عمدہ کارکردگی سے غافل مت رہنا؛ کیونکہ نہیں معلوم کہ کون سی گھڑی سراپا سکون بن جائے

اللہ کے بندو!

تم نے ماہ رمضان کو الوداع کہہ دیا، رمضان فضیلتوں، نیکیوں اور مغفرت سے بھر پور مہینہ تھا؛ اگر ہمیں کسی کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ اسے پروانہ قبولیت مل گیا ہے تو ہم اسے مبارکباد دیں اور دھتکارے ہوئے شخص کے ساتھ افسوس کریں۔ اللہ تعالی آپ سب کی بندگی قبول فرمائے اور آپ کے گناہ معاف فرمائے، آپ کے اجر میں اضافہ فرمائے۔

 راہ الہی پر ڈٹ جائیں اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کریں؛ کیونکہ عبادت پر استقامت نیکیاں قبول ہونے کی علامات میں شامل ہے، اللہ کے ہاں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کیلیے فرائض کی پابندی سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں، بندہ نفل عبادات کی ذریعے قرب الہی کی جستجو میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس سے محبت کرنے لگتا ہے، جو شخص اللہ تعالی کے ایک بالشت قریب ہو تو اللہ تعالی اس کے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہے اور جو شخص اللہ تعالی کے ایک ہاتھ قریب ہو تو اللہ تعالی اس کے ایک گز قریب ہوتا ہے، اور جو اللہ تعالی کے پاس چل کر آئے تو اللہ تعالی اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔

اس لیے فرائض کی پابندی کرو، قرآن کریم کو مت چھوڑو، قیام اللیل اور گرمیوں میں بھی روزے رکھنے کا اہتمام کرو، سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: "اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے متعلق ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد کسی سے کچھ نہ پوچھوں" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ)

لوگو! آپ ﷺ کی ماہ شوال میں عادت مبارکہ تھی کہ آپ شوال میں چھ روزے رکھتے تھے، چنانچہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھے تو وہ پورے سال کے روزوں کی مثل ہو جائیں گے) اس کا مطلب یہ ہے کہ: جب ایک نیکی کا ثواب دس گنا بڑھا کر دیا جائے تو ماہ رمضان کے روزے دس ماہ کے برابر ہوتے ہیں اور چھ روزوں کا ثواب دو ماہ کے برابر ہوتا ہے تو اس طرح یہ ایک سال کے روزے ہو گئے۔

مسلم اقوام!

وقت اور دولت دونوں کی یکساں حفاظت کرنی پڑتی ہے، ان دونوں کو صرف کرنے کیلیے میانہ روی اور سوچ بچار سے کام لینا پڑتا ہے، تاہم دولت کو جمع اور ذخیرہ کرنا ممکن ہے؛ بلکہ اس میں افزودگی بھی ہو سکتی ہے، لیکن وقت میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا؛ اس لیے زندگی کا ایک منٹ اور لمحہ گزر جانے کے بعد کبھی بھی واپس نہیں آئے گا چاہے آپ اس کو واپس لانے کیلیے دنیا بھر کی دولت خرچ کر دیں۔

پھر چونکہ وقت موت تک میسر ہے، ہر شخص کی عمر متعین کی جا چکی ہے اس میں کسی قسم کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں، اور وقت کی قیمت اس میں کیا جانے والا کام متعین کرتا ہے؛ تو ہر انسان پر یہ واجب ہو جاتا ہے کہ اپنے وقت کا خیال کرے، اسے خوب اچھے طریقے سے کام میں لائے، وقت تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے استعمال میں کوتاہی کا شکار نہ ہو۔

انسان اپنے وقت کو تحفظ دینا چاہتا ہے تو اسے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ وہ کہاں اپنا وقت صرف کرے ؟اور کیسے صرف کرے؟ وقت صرف کرنے کیلیے عظیم ترین عمل اللہ تعالی کی اطاعت اور بندگی ہے، یہی وجہ ہے کہ جو لمحات بھی آپ نے اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارے ہیں ان پر کبھی بھی ندامت نہیں ہو گی۔

اللہ کے بندو!

زندگی چند دنوں کی ہے، موت تک وقت بہت مختصر ہے۔ ماضی قصہ پارینہ بن گیا اور آنے والی چیز آ کر رہے گی۔ زندگی کا ہر لمحہ نیکیاں کرنے کی بہار ہے، اس لیے نیکی سر انجام دینے کیلیے کوتاہی کا کوئی موقع نہیں، زندگی کا ہر لحظہ امتحان اور آزمائش ہے لہذا خامی یا تاخیر کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ اس مختصر سی زندگی کے ذریعے انسان جنتوں میں دائمی اور ابدی زندگی خرید سکتا ہے، نہ ختم ہونے والی سرمدی زندگی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اس کے مد مقابل جو شخص بھی اس میں کوتاہی کرے تو وہ ہلاکت اور خسارے میں جائے گا۔

اس لیے عقلمند کو چاہیے کہ اپنی زندگی کی اہمیت پہچانے، اپنے معاملات کی بدولت ملنے والا فائدہ جانچ لے اور پہلے ایسے معاملات پر توجہ کرے جن کا بعد میں ادراک ممکن نہ ہو؛ کیونکہ بسا اوقات ان کے چوک جانے سے انسان تباہ ہو جاتا ہے۔

مسلم اقوام!

آپ گرمیوں کی چھٹیاں گزار رہے ہیں یہ ذہنی سکون، حقوق کی ادائیگی، معافی تلافی سمیت مستقل قریب اور بعید کی تیاری کا نادر موقع ہے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ذمہ داریوں اور واجبات سے پہلو تہی، حق تلفی، لہو و لعب میں غرق ہونے، نفس پرستی کے انبار لگانے ، اور اپنے کندھوں پر گناہوں کا بوجھ اٹھانے کا موقع نہیں ہوتیں۔

اس لیے اپنے اہل خانہ اور اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈریں، انہیں وقت کی اہمیت سکھائیں، وقت کو مفید سرگرمیوں میں صرف کرنے کی تربیت دیں، حصول علم یا کسی فن کے سیکھنے میں اسے صرف کریں، مثلاً: حلال روزی کیلیے اسے استعمال میں لائیں، اللہ ذو الجلال کی عبادت میں اسے صرف کریں، اور یہی حقیقی معنوں میں مردانہ تربیت ہے۔

نو عمر بچوں کو وقت اور صلاحیت ضائع کرنے کا موقع فراہم کرنے سے بچے حقوق اور واجبات ضائع کرنے کے عادی بن جاتے ہیں، وہ ذمہ داری اور امانتداری کے حامل نہیں ہوتے، لا پرواہی ان کے دل میں رچ بس جاتی ہے، وہ زندگی کے مراحل کا مقابلہ نہیں کر پاتے، فراغت انہیں ہوس پرستی اور فتنوں کے خطرات میں گھیر دیتی ہے، وہ انحراف اور کسی آفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اللہ کے بندو!

یقیناً اللہ تعالی تم سے تمہاری زندگی کے بارے میں پوچھے گا کہ کہاں گزاری اسی لیے(اس وقت تک بندے کے قدم ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے قیامت کے دن چار سوال نہ کر لیے جائیں: جوانی کہاں گزاری؟ زندگی کہاں ختم کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور علم حاصل کر کے اس پر کتنا عمل کیا؟)

لہذا ہر شخص اپنے آپ سے لازمی استفسار کرے کہ جب اس سے یہ سوال پوچھا جائے گا تو اس کے ذہن میں اس کا کیا جواب ہو گا؟ وہ کون سا ایسا عمل ہے جو اس نے اپنی جوانی اور زندگی کے ایام میں کیا اور اس سوال کے جواب میں اس عمل کو پیش کر سکے؟

اس لیے اللہ کے بندو! اس سوال کا جواب تیار رکھو اور جواب بھی صحیح تیار کرو۔

اللہ تعالی ہمیں اور آپ سب کو ان لوگوں میں شامل فرمائے جو باتیں سن کر بہترین بات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے ہدایت دی ہے اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اور وہی ہمیں کافی ہے، نیز اللہ کے چنیدہ بندوں پر سلامتی ہو۔

اللہ کے بندو!

عقل مند اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کی سانسیں چلتے ہوئے اس کی عمر کو فضول ضائع کر دیں اور وہ اپنے ان قیمتی لمحات کو دنیاوی یا دینی اعتبار سے استعمال میں نہ لائے، وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ فراغت بہت بڑی نعمت ہے بشرطیکہ اسے صحیح استعمال میں لایا جائے، اور اگر اسی کا استعمال غلط ہو تو یہی فراغت بہت بڑی زحمت بھی بن جاتی ہے؛ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے متعلق بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں: صحت اور فراغت)

اس لیے وقت ضائع کرنا دینی اعتبار سے غبن اور عیب ہے، یہ کمزور عقل اور پاگل پن کی علامت ہے، بہت سے لوگ وقت ضائع کرنے میں مبتلا ہیں، اس لیے خود بھی وقت ضائع کرنے سے بچیں اور اپنے ماتحت افراد کو بھی بچائیں، زندگی کے ان قیمتی لمحات کو اپنے لیے غنیمت سمجھیں اور انہیں بھر پور استعمال کریں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: (پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، ثروت کو غربت سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے)

تربیت کرنے والو!

فضول خرچی اور گناہوں کے بغیر سیر و تفریح، لطف اندوزی، اور آرام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز تفریحی سرگرمیوں کے دوران یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ حقوق اور واجبات کی ادائیگی میں کمی نہ آئے تو یہ جائز اور مباح تفریحی سرگرمیوں میں شامل ہے، اس سے انسان ایک بار پھر تر و تازہ اور چاق و چوبند ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ بھی خیال رکھیں کہ ایسی سرگرمیوں کو خاص قیمتی اوقات میں سر انجام نہ دیں، تفریحی سرگرمیوں کے اسیر مت بنیں، حد اعتدال میں رہیں اور غافل مت ہو جائیں؛ کیونکہ پوری قوم کو توانا جوانوں اور ان کے اوقات کی ضرورت ہے، اس لیے ان تمام چیزوں کو ہر وقت مد نظر رکھیں۔

بعد ازاں : مسلم اقوام!

مسلمانوں کے درمیان پائی جانی والی لڑائیاں، دست و گریبان ، نفرتیں، اور اختلافات بہت ہی تکلیف دہ چیزیں ہیں، ان سے دل کڑھتا ہے، کلیجہ منہ کو آتا ہے، یہ قلب پر انتہائی بار گراں ہیں۔

مسلمانوں کے خون کا تحفظ ، مسلمانوں کی جانوں کا تحفظ ، مسلمانوں کی عزت آبرو اور املاک کا تحفظ اولین مقاصد شریعت میں شامل ہے، یہ دین کے مسلمہ اصولوں میں سے ہے، بلکہ فطرت سلیم بھی اسی چیز کا تقاضا کرتی ہے۔

پورا عالم اسلام ہمارے افغانی بھائیوں کے درمیان صلح اور مصالحت کا خواہاں ہے، اور افغانی بھائیوں کے مابین ہونے والی جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی جنگ بندی طویل ترین جھڑپوں، لڑائیوں، اختلافات ، اور جھگڑوں کے بعد میسر ہوئی ہے، ان جھڑپوں میں معصوم بچے اور خواتین بہت زیادہ متاثر ہوئے، بے گناہ شہری اللہ تعالی سے گڑگڑا کر نجات مانگتے تھے۔

افغانی بھائیو!

صلح میں ہی خیر ہے، اس لیے اللہ سے ڈریں اور باہمی مصالحت کر لیں، ایک دوسرے کی غلطیاں اور کوتاہیاں معاف کر دیں؛ کیونکہ {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ} بیشک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، اس لیے تم اپنے بھائیوں کے مابین مصالحت کرواؤ[الحجرات: 10] اور اسی طرح فرمایا: {وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ} جو صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔[الشورى: 43] اس لیے مسلمانوں کی جانوں کو تحفظ دینے کیلیے انفرادی مفادات سے دستبرداری کی بہت بڑی فضیلت ہے، یہ بذات خود بہت بڑا اجتماعی مفاد ہے، یہی بے باکی، شجاعت، اور کمال درجے کی بہادری ہے۔

اپنی قوم اور تمام افغانوں کی جانوں کو تحفظ دیں، ذاتی رنجشیں دور کر لیں، نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کا بھر پور تعاون کریں، گناہ اور جارحیت پر مدد مت کریں۔

اللہ تعالی آپ سب کو متحد کر دے، آپ کو یک زبان کر دے، جو باہمی اختلافات ہیں انہیں اللہ تعالی ختم کر دے، تمہارے دلوں میں الفت ڈال دے، آپ کے ملک میں فتنہ پروری اور شدت پسندی کو بھسم فرما دے۔

یا اللہ! مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام کا گہوارہ بنا دے، یا اللہ! ہمیں ہمارے خطوں میں امن و امان عطا فرما، یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما ۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان دونوں کو صرف ایسے کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو، جس میں ملک و قوم کی بھلائی ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، اور ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! توں نے ہمیں ماہ رمضان کے روزے اور قیام کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اس پر ہم تیرے ہی شکر گزار ہیں، توں نے ہمیں قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی توفیق دی اس پر تیرا ہی شکر ادا کرتے ہیں، یا اللہ! ہماری تمام کی تمام عبادات قبول و منظور فرما، یا رب العالمین۔ یا اللہ! ہماری تمام عبادات قبول فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہماری عبادات کو خالص تیری رضا کے لیے مختص فرما لے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ان عبادات کو ہماری کامیابی اور جنتوں کے حصول کا ذریعہ بنا دے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • امریکہ کے ٹٹوئوں اور اسلام کے مجاہدوں کی جنگ کو باہمی لڑائی قرار دینا۔۔۔وہ بھی مسجد نبوی کے منبر سے۔۔۔اس کے لیے بڑا جگرا چاہیے جی بہت بڑا
    امریکہ کو بھی مشورہ دیتے کہ آپ مسلمانوں کا قتل عام بند کر کے اپنے دیس واپس جہنم رسید ہو جائیں