بھئی اب خط کا انتظار کون کرے؟ - محمد جمیل اختر

اب وہ دن نہیں رہے، ہم اِس پر افسوس کرسکتے ہیں یا شایدیہاں افسوس کی کوئی بات نہیں کہ لیکن کبھی کبھی پرانے قصے دل و دماغ کے کواڑوں پر دستک دیتے ہیں تو معلوم نہیں کیوں اِک آہ سے نکلتی ہے اور ہم ناسٹیلجیا کاشکار ہوکر ماضی کی پگڈنڈیوں پر سفر کرنے لگتے ہیں، جہاں بہت سی باتوں کے ساتھ خطوں کا انتظار بھی...