سیاحت کو سنجیدگی سے لیجیے - آصف محمود

ناران پہنچے تو دن ڈھل چکا تھا۔ پہلی نظر ہی اداس کر گئی۔ یہ وہ ناران نہ تھا برسوں پہلے جسے آخری بار دیکھا تھا۔ ناران تو ایک گوشہ عافیت تھا، شام ڈھلے پی ٹی ڈی سی سے نکلتے تو چھوٹا سا بازار سامنے ہوتا۔ چند ہوٹل اور سر شام خاموشی۔ اب سب کچھ بدل چکا تھا۔ بے ہنگم ٹریفک اور ڈربوں جیسے ہوٹل، یوں محسوس ہوا...