تموز کے جھلسا دینے والے ایام میں، جب وادیِ سندھ کی زمین تپتی ہوئی کڑھائی کی مانند دہکتی ہے اور ہوائیں آتشِ سوزاں بن کر جاں و مال کا امتحان لیتی ہیں،...
مصنف۔ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
![]()
تصویرِ کائنات کی باریک تہوں اور معاشرے کی زوال پذیری پر غور کرتے ہوئے، ایک سقراطی مکالمے کے لامتناہی نثری سلسلے کی صورت میں یہ فکر یوں روشن ہوتی ہے:...
ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک بستی کے کنارے بہنے والے دریا نے اپنے کناروں سے کہا: “میں ہر برس ایک ہی راستے سے گزرتا ہوں، مگر تم ہر برس میری راہ میں...
جنوبی ایشیا کا موجودہ سیاسی و تاریخی افق ایک ایسے سحر انگیز مگر تلاطم خیز دورِ تحویل کا شاہد ہے جہاں وقت کی بے رحم منطق اور شباب کا عزمِ نو، استبداد...
ایک قدیم شہر کی روایت ہے کہ وہاں ہر سال ایک عظیم مقابلہ منعقد ہوتا تھا۔ اعلان کیا جاتا کہ جو سب سے زیادہ اہل ہوگا، وہی شہر کے سب سے باوقار منصب تک...
تاریخِ تمدن کے اوراق میں بعض ریاستیں ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنے خزانوں کو بھرنے کے لیے سونے کی کانیں تلاش نہیں کیں بلکہ انسانوں کی صلاحیتوں کو...
اگر جیو پولیٹکس کی پیچیدہ بساط کو تاریخ کے کسی پراسرار قہوہ خانے سے تشبیہ دی جائے، تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہاں بیٹھے پردہ نشین کھلاڑی شطرنج کے مہروں...
تاریخِ امم کا دفترِ عبرت اس حقیقتِ ثابتہ پر شاہدِ عدل ہے کہ جب کبھی کوئی قوتِ استیلا کسی قوم کے وجودِ اجتماعی کو معرضِ فنا میں دھکیلنے کے ارادۂ مبرم...
رات کی تاریکی میں جب لندن کا بلند و بالا ‘شارڈ’ برج یا نیویارک کی فلک بوس عمارتیں رنگ برنگی نیون روشنیوں سے جگمگاتی ہیں، تو یوں لگتا ہے...
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ کائنات کے اس ازلی صحیفے پر اگر کوئی داستان سب سے زیادہ عبرت انگیز، حیرت...
