کبھی کبھی ایک حادثہ محض ایک حادثہ نہیں رہتا؛ وہ پورے نظامِ زندگی کے چہرے سے نقاب نوچ لیتا ہے۔ اسلام آباد کے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ بلاک میں پیش...
مصنف۔ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
![]()
تاریخ کے ایوانوں میں کتنے ہی تخت آئے، کتنے ہی تاج چمکے اور کتنی ہی سلطنتیں اپنی قوت و شوکت کے نشے میں زمانے پر سایہ فگن ہوئیں؛ مگر وقت کی گرد نے سب...
رات کے آخری پہر دارالحکومت کی ایک بلند عمارت میں ایک بوڑھا معیشت دان اپنے سامنے پھیلے ہوئے بجٹ کے کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔ میز پر اعداد کی قطاریں...
زمانہ دراز سے یہ مشاہدہ ہے کہ اقوامِ عالم کی ہلاکت و نجات کی داستانیں کبھی بیرونی حملہ آوروں سے نہیں، بلکہ داخلی فراست و بیباکی کے توازن سے رقم ہوتی...
موسمِ گرما کی ایک شام تھی، جب میں اپنے ایک دانشور دوست کے ساتھ تاریخی شہر کی پرانی فصیل پر ٹہل رہا تھا۔ غروبِ آفتاب کی سرخ شعاعیں افق کو سنہری کر رہی...
رات گہری تھی۔ کراچی کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں، مگر شہر کے شور سے الگ ایک خاموش سوال دو آدمیوں کے درمیان بیٹھا تھا۔ ایک نے کھڑکی سے باہر...
شام اتر رہی تھی۔ شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے جل رہی تھیں، مگر دور کہیں کسی بستی کے ملبے پر ابھی بھی دھوئیں کی ایک باریک لکیر آسمان کی طرف اٹھ رہی...
16 اگست 1961ء کی کراچی کی اُس شام کا تخیّل کیجیے جب ایک سال خوردہ عالم، اپنی حیاتِ مستعار کے آخری مرحلے سے گزر کر ابدی سفر کی جانب روانہ ہوا۔ شہر...
شہر کے دروازے پر ایک عجیب آئینہ لگا دیا گیا۔ کہا گیا کہ جو بھی اس کے سامنے کھڑا ہوگا، وہ اپنی حقیقی صورت دیکھے گا۔ شہر کے حکمران خوش تھے، انہیں یقین...
تموز کے جھلسا دینے والے ایام میں، جب وادیِ سندھ کی زمین تپتی ہوئی کڑھائی کی مانند دہکتی ہے اور ہوائیں آتشِ سوزاں بن کر جاں و مال کا امتحان لیتی ہیں،...
