ہوم << انسانیت کا درد – عرفان علی عزیز
600x314

انسانیت کا درد – عرفان علی عزیز

رات کا اندھیرا گاؤں کی تنگ گلیوں میں پھیل چکا تھا۔ ہوا میں مٹی اور بارش کی بو گھلی ہوئی تھی۔ کمرے کی کھڑکی سے چاند کی ہلکی سی کرن اندر آ رہی تھی، جو دیوار پر لٹکے ہوئے پرانے عکس کو چمکا رہی تھی۔ اسی کمرے میں زارا بیٹھی تھی، اپنے ہاتھوں میں ایک پرانے خط کی کاپی لیے ہوئے۔ اس کے آنسو خاموشی سے کاغذ پر گر رہے تھے۔

زارا کی عمر پچیس برس تھی۔ وہ ایک ایسے گاؤں سے تعلق رکھتی تھی جہاں لوگ غربت اور جنگ کی چھاؤں میں سانس لیتے تھے۔ اس کے والد ایک کسان تھے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی مٹی سے لڑتے ہوئے گزاری۔ ماں بیمار پڑی رہتی تھی۔ ایک دن دشمن کے بم نے ان کے گھر کو مسمار کر دیا۔ والد نہیں بچے، ماں بھی کچھ دن بعد چل بسی۔ زارا اکیلی رہ گئی تھی، اپنے چھوٹے بھائی عائش کے ساتھ۔ عائش صرف دس برس کا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ابھی کھیلنے کا جذبہ تھا، مگر آنکھوں میں وہ درد نظر آتا تھا جو بڑے بڑے لوگ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ شہر میں آ کر زارا نے ایک چھوٹے سے کپڑے کے کارخانے میں کام کرنا شروع کر دیا۔ صبح سے شام تک مشین کے سامنے بیٹھی رہتی، سوئیوں کے زخم اس کی انگلیوں پر نظر آتے، مگر وہ خاموش رہتی۔ رات کو جب عائش سو جاتا تو وہ پرانے خط پڑھتی جو اس کے والد نے کبھی لکھے تھے۔ ان خطوط میں انسانیت کی باتیں ہوتی تھیں۔ والد اکثر کہتے تھے:

“بیٹی، انسانیت کا درد سب سے بڑا درد ہے۔ جب کوئی بھوکا ہو، کوئی رو رہا ہو، تو تمہارا دل بھی درد محسوس کرے۔ یہی تمہیں انسان بناتا ہے۔”
ایک شام کارخانے سے واپسی پر زارا کی ملاقات آدم سے ہوئی۔ آدم ایک استاد تھا، جو قریبی اسکول میں پڑھاتا تھا۔ اس کے پاس بھی اپنی کہانی تھی۔ اس کے والدین سرحد پر رہتے تھے، جہاں گولیاں اور دھماکے روز کا معمول تھے۔ آدم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ کیسے لوگ اپنوں کو کھو دیتے ہیں، کیسے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ وہ خود بھی کچھ عرصہ پہلے یہاں آیا تھا، اپنے بھائی کے علاج کے لیے، جو ایک دھماکے میں زخمی ہو گیا تھا۔ بھائی تو بچ گیا، مگر آدم کا دل کبھی نہیں بھرا۔ پہلی ملاقات ایک پرانے بس اسٹاپ پر ہوئی۔ بارش ہو رہی تھی۔ زارا کی چھتری ٹوٹ چکی تھی۔ آدم نے اپنی چھتری اس کے سر پر پھیلا دی۔
“آپ بھیگ رہی ہیں،” اس نے نرم آواز میں کہا۔

زارا نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی، مگر ان میں ایک خاموش طاقت بھی تھی۔ آدم نے سوچا کہ یہ آنکھیں شاید بہت کچھ دیکھ چکی ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ کبھی بازار میں، کبھی دریا کے کنارے، کبھی اسکول کے باہر، جب آدم بچوں کو چھوڑ کر باہر نکلتا۔ وہ باتیں کرتے تھے۔ زارا اپنے گاؤں کی بات کرتی، اپنے والدین کی، اور اس درد کی جو اب بھی اس کے سینے میں دبک رہا تھا۔ آدم اپنے بھائی کی کہانی سناتا، اور ان لوگوں کی جو جنگ کے بعد بھی مسکراتے ہیں۔
ایک دن زارا نے آدم سے کہا:
“کبھی کبھی لگتا ہے کہ انسانیت مر چکی ہے۔ لوگ صرف خود کو دیکھتے ہیں۔ جو بھوکا ہے، اس کی طرف کوئی نہیں دیکھتا۔ جو رو رہا ہے، اسے کوئی تسلی نہیں دیتا۔”
آدم نے اس کے ہاتھ کو ہلکے سے چھوا۔ صرف انگلیوں کا لمس تھا۔
“انسانیت نہیں مری، زارا۔ وہ صرف دب گئی ہے۔ جب دو لوگ ایک دوسرے کا درد سمجھتے ہیں، تو وہ پھر جاگتی ہے۔ تمہارا درد میرا درد بن گیا ہے، اور میرا تمہارا۔ یہی تو ہے انسانیت۔”

زارا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے آدم کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر آنکھوں میں وہی نرم روشنی جو کبھی اس کے والد کی آنکھوں میں ہوتی تھی۔ وہ لمحہ رومانی تھا، مگر خاموش۔ کوئی بڑے وعدے نہیں، کوئی تیز جذبے نہیں۔ صرف دو دلوں کا ایک دوسرے کی طرف جھکنا۔ وقت گزرتا گیا۔ عائش کو آدم نے اپنے اسکول میں داخل کروا دیا۔ زارا اب تھوڑی سی امید کے ساتھ جاگتی۔ راتوں کو جب وہ تنہا بیٹھی ہوتی تو آدم کے بارے میں سوچتی۔ اس کی نرم آواز، اس کا اندازِ گفتگو، اس کا وہ طریقہ جس سے وہ بچوں سے بات کرتا۔ کبھی کبھی وہ سوچتی کہ اگر اس کے والد زندہ ہوتے تو کیا کہتے۔ شاید یہی کہتے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ ایک رات شدید بارش ہوئی۔ بجلی چلی گئی۔ کمرے میں صرف موم بتی کی روشنی تھی۔ عائش سو رہا تھا۔ زارا کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ آدم تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پیکٹ تھا۔
“میں نے سوچا تمہارے پاس روشنی نہیں ہوگی،” اس نے کہا اور موم بتیاں نکالیں۔

وہ دونوں فرش پر بیٹھ گئے۔ موم بتی کی روشنی ان کے چہروں پر پڑ رہی تھی۔ زارا نے آدم کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ تھا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا تھا۔ آدم نے بھی دیکھا۔ وہ لمحہ بہت قریب کا تھا۔ زارا کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ آدم نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ کو تھاما۔ صرف ہاتھ۔ انگلیاں ایک دوسرے میں گتھ گئیں۔ کوئی اور لمس نہیں۔ صرف یہ احساس کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
“میں تم سے محبت کرتا ہوں، زارا،” آدم نے آہستہ سے کہا۔ “لیکن یہ محبت صرف تمہارے لیے نہیں۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی ہے جن کا درد ہم نے دیکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم مل کر کچھ کریں۔ بچوں کے لیے اسکول، بھوکوں کے لیے کھانا۔ چھوٹا سا ہی سہی، مگر کچھ تو کر سکیں۔”
زارا نے سر ہلایا۔ اس کے آنسو بہہ رہے تھے، مگر اس بار وہ غم کے نہیں، ایک عجیب سی راحت کے تھے۔
“ہاں،” اس نے کہا۔ “ہم کریں گے۔ انسانیت کا درد جب دو دلوں میں بٹ جاتا ہے تو وہ ہلکا پڑ جاتا ہے۔”

اگلے مہینوں میں وہ دونوں نے مل کر کام شروع کیا۔ زارا نے کارخانے کے بعد کے اوقات میں کپڑے سلائی کر کے بیچے۔ آدم نے اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ بچوں کے لیے کتابیں خریدیں۔ گاؤں کے کچھ لوگ بھی شامل ہو گئے۔ آہستہ آہستہ ایک چھوٹا سا مرکز بن گیا جہاں یتیم بچے پڑھتے، بھوکے لوگ کھانا پاتے، اور بوڑھے لوگ باتیں کرتے۔
ایک شام جب مرکز سے واپسی ہو رہی تھی، زارا اور آدم دریا کے کنارے رکے۔ سورج ڈوب رہا تھا۔ پانی میں سرخ روشنیاں ناچ رہی تھیں۔ زارا نے آدم کا بازو تھاما۔
“کبھی لگتا ہے کہ ہم بہت کم کر رہے ہیں۔ دنیا میں اتنا درد ہے…”
آدم نے اس کی طرف دیکھا۔
“ہم سب کچھ نہیں بدل سکتے۔ مگر جو بدل سکتے ہیں، وہ ضرور بدلیں۔ تمہارے والد نے جو کہا تھا، وہی سچ ہے۔ انسانیت کا درد تب ہی کم ہوتا ہے جب کوئی اسے اپنے دل میں جگہ دے۔”

زارا نے سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ صرف ایک لمحہ۔ کوئی شہوانیت نہیں، صرف سکون۔ آدم نے اس کے بالوں کو ہلکے سے چھوا، جیسے کوئی پرانا زخم چھوا جا رہا ہو۔ وہ دونوں خاموش کھڑے رہے۔ ہوا میں پانی کی بو تھی، اور دور کہیں بچوں کی ہنسی۔
رات کو جب زارا گھر پہنچی تو عائش جاگ رہا تھا۔
“آپا، آج سکول میں استاد نے کہا کہ انسانیت کیا ہوتی ہے؟” اس نے پوچھا۔
زارا نے مسکرا کر کہا:
“انسانیت وہ ہے جب تم کسی کا درد اپنا بنا لو۔ جب تم کسی کو اکیلا نہ چھوڑو۔ جب تم محبت کرو، بغیر کسی لالچ کے۔”
عائش نے سر ہلایا اور سو گیا۔ زارا کھڑکی کے پاس بیٹھی۔ باہر چاند نکل آیا تھا۔ اس نے آدم کو خط لکھا۔ سادہ الفاظ میں:

“تم نے میرے درد کو سمجھا۔ اب میں اکیلے نہیں۔ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ کیونکہ تم ہو، میں ہوں، اور ہمارے درمیان یہ خاموش سمجھ ہے۔”
خط ختم کر کے اس نے اسے بند کیا۔ دل میں ایک عجیب سی گرمجوشی تھی۔ رومانی، جذباتی، مگر بہت نرم۔ شہوانیت کی کوئی تیز لہریں نہیں، صرف دو روحوں کا ایک دوسرے کی طرف جھکنا۔ درد اب بھی تھا، مگر اب وہ تنہا نہیں تھا۔ وہ بٹ چکا تھا۔ اور جب درد بٹتا ہے، تو انسانیت پھر سے سانس لیتی ہے۔
اس رات زارا نے اچھی نیند سوئی۔ خواب میں وہ اپنے والد کو دیکھ رہی تھی۔ والد مسکرا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
“بیٹی، تم نے سمجھ لیا۔ انسانیت کا درد تب ہی ختم ہوتا ہے جب محبت اسے چھوتی ہے۔”
صبح جب سورج نکلا تو زارا نے نئے عزم کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔ باہر زندگی جاری تھی۔ لوگ جا رہے تھے، آ رہے تھے۔ کچھ رو رہے تھے، کچھ ہنس رہے تھے۔ مگر اب زارا جانتی تھی کہ درد کے درمیان بھی محبت جگہ بنا سکتی ہے۔ اور یہی محبت انسانیت کو زندہ رکھتی ہے۔

یہ کہانی کئی برسوں تک چلتی رہی۔ زارا اور آدم نے شادی کر لی۔ عائش بڑا ہو کر استاد بنا۔ مرکز بڑھتا گیا۔ لوگ آتے، اپنا درد بانٹتے، اور کچھ سکون پا کر جاتے۔ کبھی کبھی رات کے سکون میں زارا اور آدم ایک دوسرے کے قریب بیٹھتے، ہاتھ تھامے ہوئے، اور خاموشی سے اس درد کو یاد کرتے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لایا تھا۔انسانیت کا درد کبھی ختم نہیں ہوتا۔ مگر جب دو دل اسے مل کر اٹھاتے ہیں، تو وہ بوجھ نہیں رہتا۔ وہ ایک رشتہ بن جاتا ہے، ایک وعدہ، ایک نرم سی محبت جو رات کی تاریکی میں بھی روشنی بن جاتی ہے۔ اور یہی روشنی ہے جو انسانیت کو زندہ رکھتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment