“اے عزیز! جب ہم کسی مملکت کے مادی جاہ و جلال، اس کے تحرک اور وسائل کی بات کرتے ہیں، تو ہم دراصل کن مظاہرِ قدرت کو زیرِ بحث لاتے ہیں؟”
“ہم بظاہر فضاؤں کے وسعت پذیر افق، زمین کے سینے پر بہتی طغیانیوں اور خاک کے بطون میں چھپی معدنیات ہی کا تذکرہ کرتے ہیں۔”
“تو کیا یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ محض بے زبان اور جامد طبعی اشیاء ہیں، یا ان کے پسِ پردہ کوئی گہرا فلسفیانہ اور عمرانی راز پوشیدہ ہے؟”
“ظاہر ہے کہ یہ جامد اشیاء اپنے وجود میں خود کفیل نہیں؛ فضا کی موجیں مواصلاتی بینڈوڈتھ کا ذریعہ بنتی ہیں، دریا توانائی کی حرارت کو جنم دیتے ہیں، اور ارضیات کے گہرے خزانوں سے صنعت کی شریانیں زندہ رہتی ہیں۔”
“بہت خوب! لیکن اگر یہ وسائل اپنی جگہ موجود رہیں اور انسان ان پر فکر، سائنسی بصیرت اور سرمایے کی کمند نہ ڈالے، تو کیا یہ کسی قوم کے لیے واقعی نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں؟”
“ہرگز نہیں! تدبیر اور سعیِ پیہم کے بغیر یہ الٰہی عطیات محض دور کا سراب اور تصوراتی داستانیں بن کر رہ جاتے ہیں۔ قرآنِ حکیم کا ابدی قانون بھی یہی ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی، اور تسخیرِ افلاک و ارض کا باب علم کے بغیر وا نہیں ہوتا۔”
“پس معلوم ہوا کہ امکان اور وجودِ حقیقی میں فرق ہے۔ تو پھر بتاؤ کہ کسی ارضیاتی امکان کو ایک محکم، ثابت اور نفع بخش حقیقت میں ڈھالنے کے لیے فلسفیانہ ترتیب کیا ہونی چاہیے؟”
“تین باتیں بالترتیب مقدم ہیں: اول جغرافیائی رسائی، دوم ذخیرے کا حجم، اور سوم خام دھات کا معیار۔ اگر رسائی نہ ہو تو نقل و حمل محال ہے، اور اگر حجم و معیار نہ ہوں تو صنعتی عمل کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔”
“حق کہا! لیکن یہ تجارتی حقیقت آخر کن سائنسی اور عقلی مراحل سے گزر کر اپنے کمالِ ثبات کو پہنچتی ہے؟”
“اس کے تین مرتبے ہیں: پہلا مرتبہ محض قیاس اور نشان دہی کا ہے، جہاں ریموٹ سینسنگ اور نمونہ کاری سے امکان کا ہیولیٰ بنتا ہے۔ دوسرا مرتبہ تخمینہ کاری کا ہے، جہاں تکنیکی اور مالیاتی صورتِ حال کا ایک خاکہ مرتب ہوتا ہے۔ مگر حتمی اور تیسرا مرتبہ ‘ثابت شدہ ذخائر’ کا ہے جہاں ہائی انٹینسٹی گہری ڈرلنگ اور کور سیمپل کے سائنسی تجزیے سے زیرِ زمین اثاثے کی اصلیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔”
“تو کیا یہی وہ مقام ہے جہاں تمام شکوک و شبہات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور تجارتی اعتبار قائم ہوتا ہے؟”
“بالکل! جب تک کوئی اثاثہ اس تیسرے مرتبے یعنی ‘ثابت شدہ حقیقت’ تک نہ پہنچے، تب تک دیو ہیکل ہائیڈرولک ایکسکیویٹرز اور الٹرا کلاس ہال ٹرکوں پر مبنی جدید کان کنی کے اخراجات کا تعاقب ممکن نہیں ہوتا۔”
“اگر ایسا ہے تو ہمارے قومی معاشی احوال کا المیہ کیا ہے؟ ہم نے بلوچستان کے سیندک پروجیکٹ میں کینیڈین فضائی نقشہ جات اور پھر جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی گہری ڈرلنگ کے ذریعے جس حقیقت کو ثابت کیا تھا، کیا اسے تمام نایاب ارضی عناصر کے معاملے میں دہرایا جا سکا؟”
“افسوس کہ نہیں! ہمارے زیادہ تر نایاب ارضی عناصر ابھی تک امکانی مرحلے میں ہیں اور تجارتی اعتبار سے ‘بینک ایبل’ یا ثابت شدہ نہیں بن سکے۔”
“تو پھر اس فکری و عملی تعطل کا حتمی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟”
“نتیجہ بالکل واضح ہے: جب تک ریاست اپنے مرکزی ارضیاتی ادارے یعنی ‘جیولوجیکل سروے آف پاکستان’ کو جدید ترین ریموٹ سینسنگ اور ڈیپ کور ڈرلنگ کی صلاحیتوں سے آراستہ کر کے طویل مدتی سائنسی فنڈنگ فراہم نہیں کرتی، اور اپنے تمام ارضی امکانات کو سائنسی طور پر ‘ثابت شدہ حقیقت’ نہیں بنا لیتی، تب تک بین الاقوامی سرمایہ کاری کا تحرک اور ملکی معاشی خودمختاری محض ایک ناپائیدار خواب ہی رہے گی۔”



تبصرہ لکھیے