ہوم << کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی - جویریہ سعید

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی - جویریہ سعید

تارڑ صاحب اپنے پسندیدہ مصنف لیو ٹالسٹائی کے اس گھر کی سیر کوگئے جہاں اس نے اپنی شہرہ آفاق کہانیاں اور ناول لکھے. ماسکو کے نواح میں یہ ایک بے حد حسین قصبہ تھا. سبزے اور درختوں میں گھرا خوبصورت سا مکان. پھول اور پودے. اور خصوصا اس کی آخری آرام گاہ جس کے بارے میں اس نے خود وصیت کی تھی کہ اسے وہاں دفنایا جائے. درختوں کے جھنڈ کے بیچ بارش کی پھوار سے بھیگی اس پگڈنڈی پر چلتے، تارڑ صاحب جس سحر میں گرفتار رہے اس کا تاثر ان کی تحریر نے کما حقہ قائم کیا ہے. ان کی دوسری تحریروں کی بات اور ہے، مگر ٹالسٹائی کی آخری آرام گاہ پر ان کی تحریر اس قدر خوبصورت ہے کہ ہم بنا دیکھے ہی تارڑ صاحب کی طرح اس جگہ کی محبت میں گرفتار ہو گئے.
ٹالسٹائی کے اس مسکن پر تارڑ صاحب کو صرف رشک ہی نہیں آیا بلکہ وہ ذرا سے حسد میں بھی مبتلا ہوئے. بڑے مزے سے فرماتے ہیں کہ اگر ہمیں بھی اس قدر خوبصورت جگہ رہنے کو اور اس قدر حسین مناظر دیکھنے کو میسر ہوتے تو ہم بھی کیوں نہ وار اینڈ پیس اور اینا کریننا قسم کی لازوال تحریریں لکھ سکتے. ان کی اس بات پر ہم نے ایک جھینپا ہوا قہقہہ لگایا کیونکہ اسی قسم کا ایک چور خود ہمارے اندر بھی چھپا بیٹھا ہے.
ہم بھی جل جل کر سوچا کرتے تھے کہ اگر کہیں جو ہم بھی دہرہ دون اور ازابیلا تھوبرن کالج سے پڑھے ہوتے، ہم نے بھی دلکشا وغیرہ کے چکر لگائے ہوتے، شملہ ، بنگال اور جزائر انڈیمان میں کچھ برس گزارے ہوتے اور گومتی کنارے چہل قدمی کی ہوتی، یلدرم کے جیسے کسی خاندان میں پلے بڑھے ہوتے تو ہم بھی قراۃ العین کے جیسی حسین، رومانی اور اونچی فکری پرواز رکھنے والی کہانیاں نہ لکھ دیتے. جو پنجاب کے کسی دیہات میں پیدا ہوئے ہوتے، روز صبح منہ اندھیرے کھیتوں کے بیچ اور دریاؤں اور نہروں کے پاس سے گزرتی پگڈنڈیوں پر چل کر کئی میل دور اکلوتے سکول میں پڑھنے جایا کرتے، ماسٹروں کے مولا بخش سے مستفید ہوتے، کئی سالوں میں ایک آدھ مرتبہ بورڈ کے امتحانات میں خوب محنت کر کے شریک ہوتے اور اپنے گاؤں کے اکلوتے میٹرک پاس کہلاتے، کنووں پر الہڑ دوشیزاؤں کو پانی بھرتا اور سہیلیوں کے ساتھ چہلیں کرتا دیکھتے، اور ہماری اماں، خالہ اور پھھپو وغیرہ بھی بھینسوں کو سنبھالتیں، مٹی کے چولہوں پر پھونکیں مار مار کر، لکڑیاں سلگا کر، پھلکے پکا کر ہم سب کوکھلایا کرتیں، اپنے خاندان کے مردوں کا جبر سہتیں، ان میں سے کچھ بغاوت کر کے تکلیف دہ رسوم و رواج کوتوڑنے کی کوشش کرتیں، ہم نے بھی شام ڈھلے چوپالوں میں قصے کہانیاں اور گفتگوئیں سنی ہوتیں، تو کیا ہم بھی احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور منشا یاد کی طرح کی کوئی تحریر نہ لکھ دیتے؟ اپنے یہاں کے سارے بڑے افسانوں اور ناولوں کا خام مال اسی’’بیک گراونڈ‘‘ سے تو آیا ہوا ہے. اگر ہمارے یہاں بھی اشفاق احمد، ممتاز مفتی، ابراہیم جلیس آ آ کر مجالس سجاتے، مونگ پھلیوں اور کنووں کے چھلکوں کے ڈھیر لگاتے، عجیب و غریب گفتگوئیں کرتے اور ہمیں بھی حکومت پاکستان کے کاموں سے ملکوں ملکوں بھیجا جاتا تو ہم بھی ابن انشا کی طرح
یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں، اک درد کا پھوڑا الہڑ سا​
نہ گپت رہے، نہ پھوٹ بہے، کوئی مرہم ہو، کوئی نشتر ہو​
کی قسم کی پاگل کر دینے والی شاعری کر رہے ہوتے یا شہاب نامہ کی طرز کے چند اسباق ہی لکھ دیتے.
صاحبو! اتنا ہی نہیں، ہمیں تو اپنی ان سہیلیوں سے بھی احساس کمتری رہا، جو آرٹس لے کر بی اے، ایم اے وغیرہ کرتی تھیں. ان کی کتابیں، اسائنمنٹ، اسباق اور اساتذہ کی گفتگو کے موضاعات، اور ان ہی کی مناسبت سے ان کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں اس قدر ’’علمی و فکری‘‘ معلوم ہوتی تھیں کہ نہ پوچھیے. اب یہی دیکھ لیجیے کہ ہماری وہ سہیلیاں جو بین الا قوامی اسلامی یونیورسٹی سے پڑھ رہی تھیں، ان سے ہم اس قدر مرعوب تھے کہ انھیں ’’علمائےکرام‘‘ کہا ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ صدق دل سے سمجھتے بھی تھے. مثلا ایک محفل میں ایک مرتبہ خواتین کی جماعت کروانے پرراۓ لی جارہی تھی. محض اتفاقا ہی ہماری راۓ سے اسلامی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے اتفاق کر لیا. ہمیں تو جانو غشی کے دورے سے پڑنے لگے. کئی روز تک ایک عالم سرور میں رہے کہ بھئ واہ! یعنی کہ میڈیکل کالج جیسی قطعی غیر علمی اور غیر رومانوی بلکہ علمی و ادبی و فلسفیانہ مزاج کے لیے زہر قاتل فضا رکھنے والے ادارے سے وابستہ ہونے کے باوجود ہم بھی ایسی بات کر پائے کہ ایک انتہائی اعلی علمی و دینی سطح رکھنے والی شخصیت ہم سے متفق ہوگئی.
مگر صاحب! ان کی یہ بلند پایہ علمی حیثیت آخر کس لیے؟ ظاہر ہے کہ اس وجہ ایسی یونیورسٹی میں کہ جس کا نام ’’بین الاقوامی‘‘ پھر ’’اسلامی‘‘ اور پھر ’’یونیورسٹی‘‘ ہو ، میں اس قسم کے مضامین پڑھنا نہیں تو اور کیا ہے. ذرا ملاحظہ فرمائیے. ’’تقابل ادیان‘‘، ’’علوم تفسیر‘‘، ’’شریعہ اینڈ لا‘‘ وغیرہ وغیرہ. اور ذرا یہ بھی دیکھیے، ’’اردو ڈرامہ، روایات اورمسائل‘‘، ’’اردو زبان، تاریخ و ارتقاء‘‘، ’’حفیظ کی شاعری میں کلاسیکی اثرات‘‘، ’’مکمل اور حقیقی اقبال کی تلاش میں‘‘، ’’انسان شناسی کی جستجو‘‘، ’’عمرانیات اور نقطۂ نوگریز‘‘ وغیرہ وغیرہ. ہمارا تو صرف موضوعات پڑھ کر ہی سانس پھول جاتا ہے اور دل پر وہ رعب طاری ہوتا ہے کہ کئی دنوں تک بندہ اردو میں گفتگو کرنے یا کچھ لکھنے سے بھی خائف ہی رہتا ہے. تو صاحبو! ایک عرصہ تک ہم اسی خفگی میں مبتلا رہے کہ کراچی جیسے غیر رومانی اور مصروف شہر میں پلنے بڑھنے اور سائنس کی خشک تعلیم حاصل کرتے رہنے کے سبب ہمارا قلم اعلی پاۓ کی تحریریں لکھنے سے قاصر رہا.
مگر کچھ عرصے سے ہم جھینپے جھینپے سے ہیں. ابھی پرسوں ہی کی بات ہے. اپنے گھر کے جوار میں واقع ایک چھوٹے سے جنگل میں چہل قدمی کر رہے تھے. چیڑ، دیودار اور سرو کے لمبے درختوں کے بیچ ایک پہاڑی نالے کے ساتھ چلتی پگڈنڈی پر چلے جارہے تھے. انتہائی حسین موسم تھا. آسمان گہرے بوجھل بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، جو وقتا فوقتا ذرا سے ارتعاش سے چھلک پڑنے والے کسی جام لبریزکی مانند برس برس جاتے. دریا کنارے ایک سالخوردہ بینچ پر بیٹھ کر، گہرے سبز پانی میں بنتے دائروں کو دیکھتے رہے. دل مچلتا رہا. ایک کاپی اور ایک قلم ہوتا اور ہم کچھ اعلی قسم کی چیز لکھ ڈالتے. ناصر کاظمی کو گنگناتے رہے اور شرمندہ ہوتے رہے کہ ہم کیوں نہ ’’گا رہا تھا کوئی درختوں میں‘‘ لکھ سکے. دریا کے دوسرے کنارے سے ایک اودبلاؤ تیر کر آیا اور پتلی پتلی شاخیں دانتوں سے کتر کتر کر لاتا اور پانی کے بہاؤ پر اپنا گھر بناتا گیا. ہمارا دل سمجھو کہ حلق میں، اودبلاؤ، صرف اس لفظ کو استعمال کرنے کا ہمیں کس قدر شوق تھا، بالکل اسی طرح جس طرح، ’’طشت ازبام‘‘، ’’مست خرام‘‘، ’’ناگفتنی‘‘، ’’جوالہ مکھی‘‘ اور ’’سانجھ سمے‘‘ کی قسم کے الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کرنے کا، مگر آج دیکھیے، ہم مدہوش کردینے والے موسم میں، شرر کی فردوس بریں جیسی جگہ میں موجود اس اودبلاؤ کو اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، مگر کوئی اچھوتی سی رومانوی یا فلسفیانہ تخلیقی سرگرمی ہمارے بے ہودہ احاطہ خیال کو چھو کر بھی نہیں گزر پا رہی. بہت زور ڈالنے کے باوجود اس کے علاوہ کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا کہ ہائے یہ معصوم سا اودبلاؤ جو کہ دنیا کی ان چند مخلوقات میں سے ہے جو اپنی لمبی مونچھوں کے باوجود کس قدر معصوم نظر آتی ہیں، کس طرح تندہی سے بزعم خود اپنا گھر بنائے جارہا ہے، اس بات سے قطعی بے خبر کہ قدرت اس سے ان بہتے دریاؤں اور نالوں اور کھاڑیوں پر بند بنوا رہی ہے. کیا ہم کو بھی کبھی خبر ہوتی ہے کہ ہم بھی کتنے ہی کام اپنی سوچ کے مطابق خالصتا اپنے لیے، اپنی انفردای حیثیت میں کرتے ہیں، اور کس طرح خالق کائنات کے کسی عظیم منصوبے کا ایک بلڈنگ بلاک بن جاتا ہے. ہمارا ننھا ساعمل اور ہماری انفرادی کوششیں کس طرح اجتماعی نتائج کی صورت گری کرتی ہیں. مگر صاحب! بہت کوشش کرنے کے باوجود آنکھوں سے آنسو تو ٹپک پڑے مگر کوئی بڑا یا اچھوتا خیال نہ ٹپکا. نہ ہی قلم قرطاس پر بگٹٹ دوڑنے کو تیار ہو سکا. ہم نے ہار مان لی. ہم سے نہیں ہو سکتا.
لہٰذا ہماری اپنے بہت ہی عزیز اور محترم چاہنے والوں سے گزارش ہے کہ ہماری غیر حاضری میں ہم کو خواہ مخواہ ایسے پیغامات نہ بھیجیں کہ جن سے ہمیں مغالطہ سے ہونے لگے کہ ہم بھی کچھ ایسا ویسا لکھ لیتے ہیں. حقیقت یہ ہے کہ ہم سے کچھ بن نہیں پڑتا. بین الاقوامی سیاست، فن لطیف و لطیفہ ، مذھب اور سماج میں ہونے والے مختلف واقعات پر ہمارے بنجر ذہن میں خیال کی کوئی کونپل نہیں پھوٹتی. ہاں اگر ہم بھی کچھ انتہائی خشک، غیر علمی اور بے ادب قسم کے بکھیڑوں میں نہ الجھے ہوتے، مثلا سارے کنبے کے لیے اس وقت کیا پکایا جائے، بچوں کے یونیفارم کے کم از کم کچھ ہی حصے سستی قیمت میں ملنے کی ممکنہ جگہوں سے متعلق معلومات جمع کرنے، ابا جان کی دوائیں، دوستوں کے نئے گھروں کے لیےتحائف خریدنے، اپنے کبھی نہ ختم ہونے والے انتہائی نامعقول امتحانات کی تیاری، ریسرچ آرٹیکل کے لیے بھاگ دوڑ، سماجی مصروفیات، رضاکارنہ سرگرمیوں، بہنوں کو سامان آرائش اور اعلی قسم کے ملبوسات سستی قیمت میں ملنے والی جگہوں کے چکر لگانے، بہنوئیوں کو کینیڈا کے سماجی ڈھانچے اور مذہب سے متعلق رویوں سے آگاہ کرنے، گاڑی میں گیس بھروانے، سسرال والوں کی مزاج پرسی کرنے اور سہیلیوں کو بچوں کی نفسیات پر مشورے دینے وغیرہ وغیرہ کے جھنجھٹ میں نہ پڑے ہوتے تو ہم بھی ضرور بے ثباتی حیات، ملت بیضا کے مستقبل، مسلم معاشروں کی بے راہ روی، عالم کفر کی سازشوں اور تحیر عشق سے گفتگو کا شوق فرماتے.
خدا لگتی کہیے، بھلا غالب، پروین شاکر، ابن انشا، بانو قدسیہ اور اشفاق احمد اور خود قراۃ العین کے بچے تھے جو انہیں یوں ہماری طرح امور خانہ داری میں الجھائے رکھتے؟ جناب! بیک وقت اتنی ’’متنوع قسم کی تخلیقات‘‘ ہر کسی کے بس کی بات کہاں؟؟جی؟ کیا فرمایا؟ ہم اسی ٹریک پر چل نکلے؟؟ اچھا اچھا، سمجھ گئے. اب اجازت! ذرا اپنے صاحب کےلیے پھلکے ڈال لیں، ابھی ویسے ہی کل کی دعوت کے لیے تیاری کرنی ہے. آپ نے بھی کہاں الم غلم لکھنے میں الجھا لیا.

Comments

Click here to post a comment