ہوم << بچوں میں ذوقِ ریاضی کی ترویج-محمد عامر شہزاد

بچوں میں ذوقِ ریاضی کی ترویج-محمد عامر شہزاد

کسی نے درست کہا کہ
Math is the mother of all sciences
لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے اور بچیاں ریاضی سے دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ بچوں کو ریاضی کے سوالات حل کروانا، ریاضی کے مسائل کو سمجھنا سکھانا اور زندگی میں استدلال سکھانا ، جو کہ ریاضی کا بنیادی مقصد ہے، والدین کے لیے ایک مشکل اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن ریاضی کو آپ تب تک بچے کے لیے مفید اور عملی نہیں بنا سکتے جب تک کہ ریاضی کے تصورات کو ، جو بچے کے لیے بہت اجنبی دکھائی دیتے ہیں، اس کی عملی زندگی سے نہ جوڑ دیں۔

سوال یہ ہے کہ ریاضی کو اچھا کرنے میں کن عوامل کا دخل ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ گھر میں ریاضی کا ہوم ورک کرتے ہوئے بچے اس تصور یا فارمولا کو تو سمجھ رہے ہوتے ہیں جو ٹیچر نے انہیں آج ہی سکول میں کروایا ہے لیکن دوسری طرف وہ بنیادی جمع تفریق اور ضرب تقسیم میں غلطیاں کررہے ہوتے ہیں۔ گویا ریاضی کے تمام سوالات پر بچے کی اچھی گرفت تب ہی ممکن ہے جب بچہ کو بنیادی حساب کتاب پر عبور حاصل ہو۔

آج کے اس مضمون میں ہم چند ایسے پریکٹیکل آئیڈیاز شیئر کررہے ہیں جن کی مدد سے والدین اپنے گھر کے معمولات میں ریاضی کو شامل کرکے بچوں کو ریاضی کے ان بنیادی تصورات کو بآسانی سکھا سکتے ہیں:

ذہن میں حساب لگاتے ہوئے اونچی آواز میں سوچیں تاکہ آپکی ریاضی کی سوچ کا نمونہ قائم ہو
سودے کی فہرست بناتے ہوئے بچوں کو بھی شامل کریں۔ انہیں کہیں کہ اندازہ لگائیں کہ ایک ہفتہ کے لیے کتنا دودھ درکارہوگا۔ پھر انہیں کہیں کہ انہوں نے کیسے حساب کیا، بتائیں اور اپنے اندازے کو ثابت کریں۔ انہیں کہیں کہ اپنے اندازے کا خریدی گئی مقدار سے موازنہ کریں۔ انہیں کہیں کہ اپنے اندازے اور خریدی گئی مقدار کے فرق کی وجہ بتائیں۔

بچوں کو زندگی کے ایسے اصل واقعات میں شامل کریں جہاں ناپ تول کی ضرورت ہو۔ مثلأبچوں کو کہیں کہ وہ باڑھ(fence)، قالین، یا دیوار کا رنگ (paint)خریدنے میں آپ کی مدد کریں۔بچوں کوناپنے کی اکائی (unit of measure)خود چننے دیں اور انہیں مسئلے کا حل ڈھونڈنے کا عمل سمجھنے دیں۔

کبھی بچوں اور بچیوں کو کھانا پکاتے وقت اپنے ساتھ کچن میں لے جائیں۔ کھانا پکانے کےدوران مختلف پیمائشیں کرنے کا کہیں خواہ یہ چمچ اور گلاس کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوں۔

ابتدائی جماعتوں کے بچوں کو کہیں کہ وہ گھر میں موجود نمبرز تلاش کریں۔ مثال کے طور پر فریج کے تھرموسٹیٹ پر نمبرز ہوتے ہیں، استری پر، اسی طرح گھر میں گھڑی وغیرہ پر نمبر تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

جیومیٹری کی مختلف اشکال مثلا چوکور، دائرہ ، مثلث وغیرہ سکھانے کے لیے گھر کی ان اشکال کی اشیاء کی مدد لی جاسکتی ہے۔

گھر میں بہت سی اشیاء جوڑوں کی شکل میں ہوتی ہیں مثلاً جرابوں یا موزوں کے جوڑے، جوتوں کے جوڑے ۔ ان کی مدد سے بچوں کو دو کا ٹیبل سکھایا جاسکتا ہے۔

سفر کے دوران سڑک پر لگے نمبرز اور علامات بچوں سے پڑھوائیں، فاصلے کلومیٹرز میں دیے گئے ہوتے ہیں۔ ان کی شناخت ، طے کردہ فاصلہ اور منزل سے باقی فاصلہ معلوم کرنے کا کہیں ۔

Comments

Click here to post a comment