خوف خدا - خواجہ مظہر صدیقی

کسی سیانے کا کہنا ہے کہ جب انسان انسانیت ترک کر دے تو اسے خوف سے بچانا مشکل ہے۔ زیادہ طاقت ور بننے کا جنون بھی انسان کو دوسروں کے خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں معصوم نقیب اللہ محسود کی ہلاکت نے طاقت کے نشے میں چُور ایس ایس پی راؤ انوار کو بے نقاب کیا ہے۔ جو اس سے پہلے بھی خون کی ہولی کھیلتا رہا ہے۔ انسانی خون کا پیاسا رہا ہے۔ شاہ لطیف ٹاؤن میں قتل کے اس لرزہ خیز واقعہ کے بعد سے خوف اور بے یقینی نے ملک بھر کے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ عوام کے دل خوف سے سہمے ہوئے ہیں۔ سچی بات کہنے سے زبان رُکتی نہیں کہ روز ایک نیا دل خراش واقعہ رونما ہوتا ہے اور روح تک کانپ اٹھتی ہے۔ قومی منظر نامے کو دیکھ کر دل کڑھتا، خون کھولتا اور جسم لرزتا ہے۔ کس کس کو قصور وار ٹھہرائیں؟ کس کس پر فرد جرم عائد کریں؟ کس کس کو مورد الزام ٹھہرائیں؟ خوف ہے کہ ہر لمحہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سوچ سے جسم کے بعض حصوں پر فالج کے حملے کا گمان ہوتا ہے۔ سو بے یقینی کے بادل ہم پر سایہ فگن ہیں۔ بظاہر حفاظت کی محفوظ چھتری میسر ہونے کے باوجود بھی ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

حال ہی میں قصور میں کم سن طالبہ پر ظلم و ستم کی جو تاریخ رقم ہوئی ہے، اس نے پوری قوم کو اداس کر دیا ہے۔ اس دل سوز اور دل خراش واقعہ کے بعد خیال تھا کہ بچوّں پر جنسی تشدد کے واقعات میں کمی آ جائے گی، لیکن قصور کے سانحہ کے بعد یہ سلسلہ ابھی تک یعنی آج کے روز تک تھما ہی نہیں۔ اس میں کمی بھی نہیں آ سکی۔ ابھی گزشتہ روز کے اخبارات میں صرف جنوبی پنجاب میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے پانچ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے، جب کہ جو منظر سے پہلے ہی پردوں میں خوف کے مارے چھپا دیے جاتے ہیں، وہ اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ حکومتی بے حسی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہمارے ہاں کسی قسم کے کوئی ہنگامی اور انقلابی اقدامات کرنے سے ادارے گریزاں ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم لاوارث قوم ہیں، ہمارا کوئی پرسان حال نہیں، ایک بے سمت ہجوم ہیں، جس کا کوئی رہنما ہی نہیں۔ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہیں کہ جس کا کوئی گڈریا ہی نہیں۔ بس بے نشان و بے منزل سفر جاری ہے، سفر جاری ہے اور بس جاری ہے۔ راہزنون سے لٹتے جا رہے ہیں، نہ عزت محفوظ ہے اور نہ آبرو۔۔۔ بس سفر جاری ہے۔ کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک انتشار اور افراتفری کا نمونہ بن گیا ہے۔ دہشت اور وحشت کے سائے بڑھتے جا رہے ہیں۔

سوچتا ہوں انسانیت پر ایسا کڑا وقت بھی آنا لکھا تھا کہ بچے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ بچوں کی عزتیں اپنے عزیزوں اور پڑوسیوں سے محفوظ نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے پرائے کا فرق مٹ گیا ہے۔ اس طرح کے واقعات میں زیادہ تر اپنے ہی ملوث پائے گئے ہیں۔ خون کا سفید ہونا سنا تو بہت تھا مگر دیکھا اب ہے۔ بات شروع ہوئی تھی نقیب اللہ محسود کے پولیس کے ہاتھوں مبینہ قتل سے، اب جا پہنچی ہے، بچوں پر ڈھائے جانے والے سفاک مظالم تک، المیہ ہے کہ معاشرہ کس قدر پستی میں گرتا اور دھنستا جا رہا ہے۔

اب شروع میں ذکر کیے گئے واقعہ پر عمیق نظر ڈالیے۔ دیکھیے کہ کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن کے ایک خوب صورت نوجوان نقیب اللہ محسود کو کس طرح محض شک کی بنا پر پولیس گردی کا نشانہ بنایا گیا اور اسے جعلی پولیس مقابلے میں آر پار کر دیا گیا۔ حد ہے کہ ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ روز افزوں اس طرح کے ستم ڈھائے جاتے رہے تو انسان مولی گاجر کی طرح کٹنے پر مجبور ہوتے رہیں گے۔ قانون نام کی کوئی چیز ملک میں ہے ہی نہیں۔ اقتدار، اقتدار اور بس اقتدار کی ہوس میں گھرے اور لتھڑے سیاست دان دست و گریباں ہیں۔ اپنے مستقبل کے سہانے سپنے دیکھنے اور انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کے خواہاں سیاست دان عوام سے بے خبر نظر آتے ہیں۔ ہر محکمہ اپنی خستہ حالی پر نوحہ کناں ہے۔ عوام تختہ مشق بنے ہیں۔ ملک کا کوئی گوشہ اور کوئی حصہ بھی امن کا گہوارہ نہیں۔ ملک چوروں اور ڈاکوؤں کی آماج گاہ بنا ہے۔ کراچی ایک طویل عرصے سے پولیس سٹیٹ بنا ہے۔ کبھی یہاں کے سیاسی و عسکری ونگ مظالم کی تاریخ رقم کرتے تھے۔ اب پولیس نے یہ کام اپنے زمہ لے لیا ہے۔ کبھی رینجر، ظالم کی سرکوبی کے لیے تو کبھی پولیس مجرموں کے تعاقب میں متحرک نظر آتی ہے۔ اس دشت میں مجرموں اور گناہ گاروں کے ساتھ معصوم بھی مارے جارہے ہیں۔ قانون اور انصاف کے رکھوالے قانون شکنی اور بے انصافی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں مسرت کی بات یہ ہے کہ نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے زمہ دار ایس ایس پی راؤ انوار معطل کیے جا چکے ہیں۔

توقع نہیں کہ نقیب اللہ محسود کے لواحقین کو انصاف مل سکے گا۔ خون کا بدلہ خون کا زمانہ لد گیا۔ قانون پر طاقت ور مافیا کی حکمرانی ہے۔ قانون کے چیونگم کو پھر سے فرعون کا منہ مل گیا ہے۔ اس میٹھی چیونگم کو وہ جتنی دیر چاہے چباتا اور اس کے غبارے پھلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انصاف اندھا ہو گیا ہے۔ انصاف کے مسند پر براجمان جج نمائشی منصف بننا پسند کرتے ہیں۔ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہی قتل و غارت گری اور ظلم کو جنم دیتی ہیں۔ مظلوم کا سہارا نہیں اور ظلم انڈے بچے جن رہا ہے۔ ظالم کی فرعونیت ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بالفرض نقیب اللہ کے ورثاء کو انصاف مل بھی گیا تو کیا نقیب اللہ کے معصوم بچے کو اس کا باپ مل سکے گا؟ وہ بچہ تو ہمیشہ پدرانہ شفقت سے محروم ہی رہے گا۔ نقیب اللہ اپنے بیٹے کو فوجی بنانے کا، وطن کا محافظ بنانے کا جو خواب دیکھتا تھا۔ ا سی جان و مال کی محافظ پولیس نے اس کی خواب دیکھنے والی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر دی ہیں۔ اس سانحہ نے پختونوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، جو سنجیدہ اور غیور افراد نے ناکام بنا دی۔

سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ عناصر جو اس اندوہناک سانحہ کی وجہ سے علاقائی اور لسانی سطح پر تقسیم ہوئے، کیا وہ پھر سے اتفاق و اتحاد کی تسبیح میں پروئے جا سکیں گے؟ یہ سوال تشنہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسے سانحے قوم کو جہاں متحد رہنے کا موقع دیتے ہیں، وہاں نفرتوں اور تعصبات کے پھیلاؤ کا مؤجب بھی بنتے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا کے وہ قلم کار لائق تحسین ہیں، جنہوں نے فہم و فراست، بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ نقیب اللہ محسود کے ایشو پر ان قلم کاروں نے پہلے مرحلے میں کراچی سمیت پورے ملک کے پر امن عوام کو موبلائز کیا اور سندھ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے سامنے آنے پر ایس ایس پی راؤ انوار احمد کو عہدے سے ہٹایا اور چھ افسروں و اہل کاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ انہی کے حق میں نکلا، جو نقیب اللہ محسود کی ہلاکت پر احتجاج کی راہ پر چلے، انصاف کا پرچم تھاما اور ان کے اخلاص کو اللہ نے قبول فرمایا۔ ان کی صدائے احتجاج رنگ بھی لے آئی۔

قوموں کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ مگر خوف اور بے یقینی اگر ان کے عزائم کو ریزہ ریزہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔اب ایسی صورت حال میں ہمیں اپنا معالج خود بننا ہوگا۔ ضروری ہے کہ اپنے لیے صحیح راستے کا انتخاب خود کرنا چاہیے۔ بد امنی اور بد عنوانی حکومتی زیور بن گیا ہے۔ حکمتوں سے خالی حکومتیں اسی زیور سے آراستہ ہونے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس نظام بے عادلانہ سے بحیثیت مجموعی بے زاری کا اظہار کریں۔ جس نظام میں بچے ہی نہیں بڑے بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ قانون طاقت وروں کے گھر کی لونڈی بن گیا ہے۔ جان و مال کے محافظ موت کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں۔ موت لے لو، موت لے لو کے سائرن بج رہے ہیں۔ موت سستی اور زندگی مہنگی ہو گئی ہے۔ ایسے میں خوف اور بے یقینی سے سے بچنے کا واحد، مناسب اور سہل طریقہ یہی ہے کہ انسان میں خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ یہ خوف ہر خوف سے نجات دلاتا ہے۔ یہی خوف خدا ہی خدا کی دھرتی پر خدا کے نظام کو لاگو کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی کے سبب دھرتی امن کا گہوارہ بنتی ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے تو اس کے معاشرے پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تجربے کی بات ہے کہ منشائے الٰہی کو مان لینے سے انفرادی زندگیاں ہی نہیں سنورتیں بلکہ معاشرے بھی سدھرتے ہیں۔ معاشرے ظلم و ستم، سرکشی و نافرمانی، نا انصافی و بد امنی سے پاک ہو جاتے ہیں۔ بے یقینی اور خوف کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔ ہمیں اس وقت کے لیے ابھی سے تعمیری طرز کی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ایسے لوگ آگے بڑھ کر قوم کی قیادت کریں جو یقین، اعتماد، تحمل اور بردباری کے راستے کے مسافر ہوں۔ جن کے دل اور روحیں اللہ کے خوف سے کانپتے رہتے ہوں اور جو وطن عزیز کو پاک لوگوں کی سرزمین بنانے کے لیے کوشاں رہنا پسند کرتے ہوں۔

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com