ہوم << قید بے گناہی کے بیس سال، باآلاخر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سہارا مل گیا-شبیر احمد

قید بے گناہی کے بیس سال، باآلاخر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سہارا مل گیا-شبیر احمد

"جیل میں ایک حملے سے اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ چکے ہیں۔ اسے اپنی ماں اور بچے ہر وقت یاد آتے ہیں، مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی ماں دنیا سے جا چکی ہے ۔اسے اپنے بچوں کی تصویریں تک دکھانے نہیں دی گئیں۔ سر پر چوٹ کی وجہ سے اسے اب سنائی بھی کم دیتا ہے۔” ان خیالات کا اظہار سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس وقت کیا جب وہ امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا اپنی بہن فوزیہ صدیقی سے بیس سال بعد ملاقات کا نقشہ کھینچ رہے تھے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان اور عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اس وقت امریکی شہر فورٹ ورتھ میں موجود ہے، جہاں کی وفاقی جیل FMC Carswell میں ڈاکٹر عافیہ قید ہے۔ دورے کا مقصد ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرنا تھا۔ پہلے مرحلے میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عافیہ صدیقی سے ملاقات کی جبکہ آج سینیٹر مشتاق اور امریکی وکیل کلائیو سمتھ بھی ملاقات کریں گے۔

ملاقات کا یہ حال جہاں ایک طرف امت کو جرات، عزم اور استقلال کا درس دے رہا ہے وہاں یہ امت کی بے بسی پر دلوں کو بھی لرزا رہا ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے ملاقات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ دکھ اتنا زیادہ ہے کہ آج میں پھوٹ پھوٹ کر رویا ہوں،بس کچھ سمجھ نہیں آرہا،کچھ وقت ٹھہر جائیں،اس ٹراما کی کیفیت سے نکلوں تو پوری قوم کو جگاؤں گا۔

ایک عرصے سے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اپنی بہن کی رہائی کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے ہر دور کے ہر حکمران کے در پر دستک دی۔ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف سمیت عمران خان کو حالات کی سنگینی کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ جولائی 2019 میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ عصمت صدیقی نے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے نام خط میں کہا تھا کہ میں اپنی بیٹی کی وجہ سے کرب میں مبتلا ہوں۔ انہوں نے عافیہ کو بچانے کے لیے گڑگڑا کر درخواست کی تھی۔ کسے معلوم تھا کہ بیٹی کی رہائی کی آس لیے وہ اس جہاں سے رخصت ہوجائیں گی اور بیٹی کو اس کا علم بھی نہیں ہوپائے گا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرانے کے دعوے ہر دور میں ہر سیاستدان نے کیے مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی ان کی ملاقات تک نہیں کروا سکا۔ عافیہ صدیقی کا اپنی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے بیس سال بعد ملاقات کا احوال جس قدر دلوں کو لرزا رہا ہے اتنا ہی یہ حکمرانوں کے کردار پر سوالیہ نشان بھی ہے۔

Comments

Click here to post a comment