میں باغی کیوں ہوں؟-اوریا مقبول جان کے اہم انٹرویو کا آخری حصہ

معروف کالم نگار اور سینئر بیوروکریٹ اوریا مقبول جان کے ساتھ خصوصی انٹرویو
انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان


اس انٹرویو کا پہلا حصہ پڑھیں
سوال: آپ نے آخری زمانے اور قیامت کی آمد کا ذکر کیا، اعتراض ہوتا ہے کہ آپ کو قیامت کی بڑی جلدی ہے۔

اوریا مقبول جان: پہلی بات یہ ہے کہ یہ انبیاء علیہم السلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ انہیں قیامت کی جلدی ہی ہوتی تھی۔ بخاری شریف کی حدیث ہے۔ سہل بن سعدؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اکرمﷺ کو دیکھا، آپ اپنی بیچ کی اُنگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرمارہے تھے: میں ایک ایسے وقت میں نبی بناکر بھیجا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ایسے ہیں جیسے یہ دو اُنگلیاں۔‘‘

ہمارے ہاں آج جو دینی سسٹم کے تحت کام کرنے والے اسکول ہیں، ان سب میں بھی وہی مغربی نصاب پڑھایا جاتا ہے، بس ساتھ میں ایک قرآن مجید کے مطالعہ کا اضافہ کردیا جاتاہے۔ قطعاً یہ اسکولز وہ مقصد حاصل نہیں کرپاتے جس کا دعویٰ کرتے ہیں۔

مجھے جلدی کیوں نہیں ہوگی؟ جب رسول اکرمﷺ، دجال کا ذکر کرتے تو صحابہ کرامؓ خوف سے کانپ جاتے کہ یہیں کہیں سے نکل نہ آئے۔ خود رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی یہ تھی کہ جہاں آپ کو دجال سے متعلقہ کوئی اطلاع ملتی، آپ وہاں پہنچ جاتے۔ ابن صیاد والی حدیث ہے۔ تمیم داری کی مشہور حدیث ہے ۔ان کا کون انکار کرسکتا ہے۔ یہ محض میرا مسئلہ نہیں۔

دوسری بات یہ ہے میں نے قرآن کی ایک دو آیات اور باقی احادیث کے حوالے دئیے ہیں۔ اگر کسی کو اس کا فہم نہیں، تو میں نے کب کہا ہے کہ میری بات حتمی ہے، آپ اختلاف کرسکتے ہیں۔ میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے آگے آخری زمانہ ہے۔ رسول اکرمﷺ کی احادیث ہیں جن میں موجودہ دور کی نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ اگر کسی کو یہ نظر نہیں آتیں تو اس میں قصور کس کا؟ پھر انہیں بھی کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: جسے موت آگئی، اس کی قیامت قائم ہو گئی ۔ موت کے وقت کا کون تعین کرسکتا ہے؟ فکرِ آخرت کے لیے تو بے شمار احادیث موجود ہیں۔

480 کے قریب قوانین ہیں جنہیں آپ نے اب تک اسلامی سانچے میں نہیں ڈھالا۔

سوال: آپ کی ریٹائرمنٹ ہوگئی، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کوئی بڑا کام کریں گے، لیکن لگ یوں رہا ہے جیسے ہر ریٹائر شخص کی طرح آپ بھی اب اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنے لگے ہیں؟

اوریا مقبول جان: میں نے پہلے ہی ’’العلم ٹرسٹ‘‘ بنالیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اُمت کی تاریخ میں قریب کے دو تین سو سال ایسے گزرے ہیں، جہاں نعرے بازی تو خوب ہوئی، مگر چند کام نہ ہوسکے۔ ان میں اول، آپ نے پوری دنیا کے نظام ہائے تعلیم کو کہا غلط ہیں، مغرب کے نظام کو فرسودہ کہہ کر مسترد کردیا۔ لوگ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ کا نظام کہاں ہے؟ المیہ تو دیکھیں کہ ہمارے ہاں آج جو دینی سسٹم کے تحت کام کرنے والے اسکول ہیں، ان سب میں بھی وہی مغربی نصاب پڑھایا جاتا ہے، بس ساتھ میں ایک قرآن مجید کے مطالعہ کا اضافہ کردیا جاتاہے۔ قطعاً یہ اسکولز وہ مقصد حاصل نہیں کرپاتے جس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر بیوروکریسی، کہا جاتا ہے ہماری اپنی بیوروکریسی ہونی چاہیے۔ ان کی تربیت کیسی ہونی چاہئے ،اسے کس طرح کام کرنا چاہئے۔ انتخاب کا طریق کار کیا ہو؟ تربیت کا انتظام کیسا ہو؟ اس پر کوئی کام نہیں ہوا۔ تیسرے نمبر پر ہے معاشیات، ہم سود کا کاروبار کرتے ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب کی تیئس گھنٹے کی بحث ہے، عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ ہم نے سود کو حرام قرار دیا۔ اب متبادل کیا ہے؟ اسی طرح 480 کے قریب قوانین ہیں جنہیں آپ نے اب تک اسلامی سانچے میں نہیں ڈھالا۔ کل قوتِ نافذہ مل جاتی ہے تو کیا کریں گے، کیسے کریں گے؟ آپ کے پاس تو اسکول کا بنیادی نصاب نہیں، پھر اتنا بڑا کام کیسے کریں گے؟

مجھے کارٹون بنانے والے کی ضرورت ہے، اب کارٹونسٹ ایسا ہو جسے بنیادی آئیڈیا کا علم بھی ہو۔ یہ نہ ہو کہ کوٹ پینٹ پہنے شخص کی تصویر بنادے یا اسکرٹ پہنے لڑکی کو پڑھاتے دکھادے۔

ان مقاصد کے لیے میں نے 1972ء میں ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ ہمارے کچھ رضاکاروں نے اس پر خاصا کام بھی کیا۔ جتنا ہوسکا، اتنا شاندار کہ آپ حیران رہ جائیں، لیکن رضاکار کچھ عرصے بعد تھک جاتے ہیں۔ چنانچہ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ رضاکاروں کا نہیں، ٹیکنالوجسٹ کاکام ہے۔ نصاب مرتب کرنے والے افراد چاہئیں۔ پندرہ سولہ ماہرین تعلیم کی ضرورت ہے جو نصاب ڈیزائن کریں۔ مثلاً: مجھے کارٹون بنانے والے کی ضرورت ہے، اب کارٹونسٹ ایسا ہو جسے بنیادی آئیڈیا کا علم بھی ہو۔ یہ نہ ہو کہ کوٹ پینٹ پہنے شخص کی تصویر بنا دے یا اسکرٹ پہنے لڑکی کو پڑھاتے دکھادے۔ اس سے میرا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ پورے نظام کو بدلنا ہے۔

ہمارے اس ادارے کا ایک اور مقصد بھی تھا۔ اس کے لیے ہم عدالت بھی گئے۔ دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک قوم ایسی نہیں جس نے دوسرے کی زبان میں تعلیم حاصل کرکے ترقی کی ہو۔ میں نے دارالترجمہ کا آئیڈیا پیش کیا۔ جتنی ترقی مسلمانوں کے دور میں ہوئی یا یورپ نے کی، ترجمے سے ہوئی۔ آپ اندازہ کریں ہارون الرشید کے زمانے میں تیس ہزار دینار ایک مترجم کی تنخواہ تھی۔ پوری دنیا کے علوم وفنون کا ترجمہ کیا تو سات صدیاں کھڑے ہونے کی طاقت پیدا ہوئی۔ دنیا میں اس وقت تین بے وقوف ملک ہیں جنہوں نے غیر کی زبان میں تعلیم شروع کی اور وہ تینوں اب واپسی کی طرف گامزن ہیں۔ سنگارپور، انڈیا اور سری لنکا۔ تینوں کے ماہرین تعلیم چلا رہے ہیں کہ ہم تباہی کی طرف گئے۔ میں آج کل اسی پر غور کررہا ہوں کہ تیس پینتیس افراد پر مشتمل تھنک ٹینک بنائوں۔ یہاں خدمات انجام دینے والوں کو معاوضہ دینا پڑے، مگر مانگنا بھی نہ پڑے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی سطح پر کوئی ایسا تھنک ٹینک نہیں جو یہ کام کررہا ہو۔ جو کررہے ہیں، وہ donation کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ اسی کے مطابق انہیں اپنے پروجیکٹ ڈیزائن کرنے پڑتے ہیں۔

ہارون الرشید کے زمانے میں تیس ہزار دینار ایک مترجم کی تنخواہ تھی۔ پوری دنیا کے علوم وفنون کا ترجمہ کیا تو سات صدیاں کھڑے ہونے کی طاقت پیدا ہوئی۔

سوال: ساری زندگی سرکاری ملازمت کی، اعتراض ہوتا ہے کہ مراعات لینے کے باوجود نظام کے باغی رہے، اسے کچھ لوگ دوغلے پن کا نام بھی دیتے ہیں، سرکار کا نوکر ہوتے ہوئے اس کے خلاف بولنا اور لکھنا کبھی عجیب نہیں لگا؟

اوریا مقبول جان: پہلے تو ایک وضاحت کروں۔ آدمی ریاست کا ملازم ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ میں نے ریاست کی ملازمت کی ہے۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام سے تنخواہ لیتا رہا۔ جب سیکرٹری انفارمیشن لگا تو کہا گیا ’’آپ حکومت کے ترجمان ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’میں ریاست کا ترجمان ہوں اور میرا بنیادی مقصد عوام تک صحیح اطلاعات پہنچانا ہے۔‘‘

آدمی ریاست کا ملازم ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ میں نے ریاست کی ملازمت کی ہے، پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام سے تنخواہ لیتا رہا۔

لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں، میں ان سے عرض کروں۔ دنیا میں کون سا ایسا بندوبست ہے جو کسی حکومت کے ماتحت نہ ہو؟ آپ کاروبار کرتے ہیں، کون govern کرتا ہے۔ تجارت کے قوانین، تجارتی پالیسیاں، انکم ٹیکس، یہ سارے کسی بندوبست کے تحت ہی آتے ہیں۔ جو لوگ یہ بات کرتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں وہ یہ بغاوت کردیں کہ میں انکم ٹیکس نہیں دیتا، کسٹم سے انکار کردیں۔ you are governed by the government laws۔ آپ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بولتے ہیں، ’بغاوت‘ کرتے ہیں، تو ایک سرکاری ملازم کو کیوں پابند کرتے ہیں کہ ’بغاوت‘ نہ کرے، نہ بولے۔ یہ جو سڑک بنی ہے، اسٹریٹ لائٹس لگی ہیں، پانی، گیس اور بجلی ہے، کیا یہ حکومتی مراعات نہیں؟

آپ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بولتے ہیں، ’بغاوت‘ کرتے ہیں، تو ایک سرکاری ملازم کو کیوں پابند کرتے ہیں کہ ’بغاوت‘ نہ کرے، نہ بولے۔ یہ جو سڑک بنی ہے، اسٹریٹ لائٹس لگی ہیں، پانی، گیس اور بجلی ہے، کیا یہ حکومتی مراعات نہیں؟

دلچسپ بات یہ ہے مجھے جس پر داد ملنی چاہیے، اسے میرے لیے طعنہ بنادیا گیا۔ میں نے اس نظام کے اندر رہ کر اس سے بغاوت کی، اس کے خلاف کھڑا ہوا، اس پر تو خراجِ تحسین بنتا ہے۔ جہاں تک ’’بنیادی مراعات‘‘ کی بات ہے، وہ میں عرض کرچکا ہوں کہ کبھی وصول نہیں کیں۔ 1988ء کا سال تھا، اکبر بگٹی وزیراعلیٰ تھے، مجھ سے کہا آپ کو ایک ہزار گز کا پلاٹ دے رہے ہیں، میں نے انکار کردیا۔ پوچھا: کیوں نہیں لیتے؟ میں نے کہا: میرے نظرئیے کے مطابق پاکستانی ریاست کی ساری زمین عوام کی امانت ہے۔ اگر آپ اسے پورے پاکستان میں تقسیم کردیں، اس کے نتیجے میں مجھے دس مرلے کا پلاٹ ملتا ہے، تب میں ضرور قبول کروں گا۔ لیکن اگر صرف اس بنیاد پر میں پلاٹ وصول کروں کہ سول سروس میں ہوں، فوج کے اندر ملازمت کررہا ہوں، ریلوے یا پی آئی اے میں خدمات انجام دے رہا ہوں، یا اس لیے کہ میں صحافی ہوں تو اسے درست نہیں سمجھتا۔ میں صحافی کالونی راولپنڈی اور لاہور کا ایم ڈی رہا۔ ہر سیکرٹری انفارمیشن کے دو پلاٹ ہیں، سوائے میرے۔تین تین لاکھ کے پلاٹ بعد میں تیس تیس لاکھ کے فروخت ہوئے۔ میں نے ایک پلاٹ وصول نہیں کیا۔ جنہیں مراعات کہا جاتا ہے، میں نے حق کے باوجود انہیں وصول نہیں کیا۔

1988ء کا سال تھا، اکبر بگٹی وزیراعلیٰ تھے، مجھ سے کہا آپ کو ایک ہزار گز کا پلاٹ دے رہے ہیں، میں نے انکار کردیا۔

بنیادی بات یہ ہے کہ مخالف لابی کو آج تک دلیل سے گفتگو کرتے ہوئے نہیں سنا۔ کچھ فقرے ہیں جو گھڑرکھے ہیں، انہیں ساری زندگی طعنے بناکر لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ بس مقام اور نام بدل جاتا ہے۔ مثلاً: اس لابی کا ایک مشہور جملہ ہے: ’’جب بغداد پر حملہ ہوا، تو مسلمان اس پر بحث کررہے تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام؟‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے جب پاکستان پر حملہ ہوا تو فیض اور جوش اس پر لڑرہے تھے کہ طوطا ’ط‘ سے لکھا جائے یا ’ت‘ سے۔‘‘ اس جملے کو بھی طعنہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ مراعات لے کر حکومتی اقدامات کی مذمت کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اُٹھاکر دیکھ لیں، جتنے انقلابی تھے، کیا وہ اس ریاست سے باہر نکل گئے تھے؟ کیا وہ اس ریاست کا پانی نہیں پیتے تھے؟ وہاں امن وامان سے استفادہ نہیں کرتے رہے؟ یہ ساری سہولیات لیتے رہے، مگر اس کے باوجود حق بات نہیں چھوڑی، ڈنکے کی چوٹ پر کہتے رہے، میں نے بھی یہی کیا۔

میں صحافی کالونی راولپنڈی اور لاہور کا ایم ڈی رہا۔ ہر سیکرٹری انفارمیشن کے دو پلاٹ ہیں، سوائے میرے۔تین تین لاکھ کے پلاٹ بعد میں تیس تیس لاکھ کے فروخت ہوئے۔ میں نے ایک پلاٹ وصول نہیں کیا۔

سوال: مذہبی طبقہ معترض ہے کہ آپ ایک طرف خلافت کی بات کرتے ہیں، دوسری جانب عمران خان کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

اوریا مقبول جان: میں نے بحیثیتِ پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی کبھی حمایت کی ہو تب میں مجرم۔ عمران خان کے ذاتی کردار کی کبھی حمایت کرتا ہوں۔ ان کے کنٹری بیوشن کا ذکر کردیتا ہوں، مگر کبھی مخالفت بھی کرجاتا ہوں۔ البتہ مجھے وہ مذہبی طبقہ سخت برا لگتا ہے جو دین کو بیچ دیتا ہے۔ میں بنیادی طور پر مذہبی طبقے کی جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ کو ہی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ خصوصاً پاکستان کی جمہوریت، جو ظاہری لبادہ ہے دین کا، مگر اندر پورے کا پورا کفر ہے۔ میں اسے غلط سمجھتا ہوں اور مذہبی طبقے کو یہ معلوم ہے۔ میں سمجھتا ہوں جتنے مذہبی طبقات سیاست کے اندر آئے ہیں، یہ دین کی نیک نامی کے بجائے اس کی بدنامی کا سبب بنے ہیں۔

دنیا کی تاریخ اُٹھاکر دیکھ لیں، جتنے انقلابی تھے، کیا وہ اس ریاست سے باہر نکل گئے تھے؟ کیا وہ اس ریاست کا پانی نہیں پیتے تھے؟ وہاں امن وامان سے استفادہ نہیں کرتے رہے؟ یہ ساری سہولیات لیتے رہے، مگر اس کے باوجود حق بات نہیں چھوڑی، ڈنکے کی چوٹ پر کہتے رہے، میں نے بھی یہی کیا۔

پاکستان میں جمہوریت کا یہ راستہ ان لوگوں کے لیے ہے جو نالیاں بناسکیں، تھانوں سے لوگوں کو چھڑواسکیں۔ اگرچہ جمہوریت کو دیکھا جائے تو اس کا لب لباب یہی ہے کہ اللہ کا دین اس وقت تک نظام نہیں ہے جب تک چار سو جاہل ارکانِ پارلیمنٹ اس پر مہرِ تصدیق ثبت نہ کردیں۔ میں آج بھی اس پارلیمنٹ کے ایسے پچاس قانون نکال کر دکھاسکتا ہوں جو واضح طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ یہ مذہبی طبقہ وہاں بیٹھا ہے، اس کی عزت وتکریم ہے نہ ہی یہ دستورسازی کے اندر کوئی کردار ادا کرسکتا ہے۔ حقوقِ نسواں بل ان کی موجودگی میں پاس ہوجاتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ آپ کو صوبے کی حکومت ملتی ہے، پانچ سال تک حسبہ بل پاس نہیں کرپاتے۔

میں نے بحیثیتِ پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی کبھی حمایت کی ہو تب میں مجرم۔ عمران خان کے ذاتی کردار کی کبھی حمایت کرتا ہوں۔

سوال: سیاست کی ہی بات شروع ہوئی تو یہ بتائیں پاکستانی سیاست میں کسی سے متاثر ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   دور حاضر کا طاغوت - عادل لطیف

اوریا مقبول جان: موجودہ دور میں کسی کا نہیں کہہ سکتا، البتہ اگر ذکر کرنا ہی ہو تو جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کا نام لوں گا۔ وہ میری پسندیدہ شخصیت رہیں۔ سیاست میں ان کے بعد کبھی کسی پر نظر ٹکی نہیں۔ کسی کو شرافت کی علامت دیکھا ہے تو وہ مولانا مودودی ہیں۔ میں ان کی مشہورِ زمانہ عصر کی محفلوں میں جاتا رہا۔ انہیں قریب سے دیکھا۔

سوال: ہمارے ہاں ایک طبقہ پرائیویٹ زندگی میں مذہب کا دخل پسند نہیں کرتا، یہ بہت سی مثبت باتیں کرتا ہے۔ غریب اور پسے ہوئے طبقے کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اس بنیاد پر اسے ہدفِ تنقید بنانا کیا انصاف کا تقاضا ہے؟

اوریا مقبول جان: دہریت ایسی چیز ہے جو ہمارے اندر سب سے پہلے سرایت کرگئی۔ دہریت کا راستہ تعیش سے شروع ہوتا ہے۔ آپ ایک شاندار قسم کی زندگی چاہتے ہیں جو حدودوقیود سے آزاد ہو۔ خاتون مل جائے، شراب اور ڈانس پر پابندی نہ ہو۔ کمیونزم آیا، اس میں یہ تمام خرافات موجود تھیں، کوئی روک ٹوک نہیں۔ ہمارے ہاں کئی شاعروں اور ادیبوں نے اسے دل وجان سے قبول کرلیا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وہ لوگ بھی اس کے اسیر ہوگئے، جن کے پاس مال وزر کی کمی نہ تھی، مگرکہتے یہ رہے کہ ہائے مزدور مرگئے، اسے روٹی نہ ملی، اس کے جسم سے نکلنے والے پسینے نے ہمیں تڑپاکر رکھ دیا۔

روزہ میرا ایمان ہے غالب، لیکن
خس خانہ و برفاب کہاں سے لائوں

مجھے وہ مذہبی طبقہ سخت برا لگتا ہے جو دین کو بیچ دیتا ہے۔ میں بنیادی طور پر مذہبی طبقے کی جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ کو ہی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔

جس بندے کو تعیش کی زندگی ملی ہو۔ زندگی کے آخر تک انگریز سے وظیفہ ملتا رہا ہو، وہ پھر بھی غربت کا رونا روتا رہے۔ فیض احمد فیض صاحب کی زندگی تعیش سے بھرپور۔ ماڈل ٹائون کے جس گھر میں رہتے رہے، ساری زندگی بیوروکریسی میں گزار کر بھی ایسے گھر کا نہیں سوچ سکتے تھے۔ فراز کے پاس کیا کم پیسہ تھا۔ سجاد ظہیر لندن جاکر رکتے ہیں۔ آپ کو مراعات جتنی مل سکتی ہیں، ملتی رہیں۔ اس کے باوجود وہ نظام انہیں اپیل کررہا ہے، جو ان کے طرزِ زندگی کے خلاف ہے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں سب سے اچھی بات یہ لگتی تھی کہ کمیونزم یا الحاد کے اندر زندگی آسان ہوجاتی ہے۔ کسی ضابطے اور قانون کی پابندی نہیں کرنی پڑتی۔ دو تین گرل فرینڈ زرکھ لیں۔ شام کی محفلیں سج گئیں، اس سے زیادہ کیا چاہیے؟ برسبیل تذکرہ عرض کروں میٹرک کے بعد میرے اوپر بھی ایک دو سال الحاد کا دور گزرا۔ میں باقاعدہ کمیونسٹ تحریک میں شامل رہا۔ قاری حنیف ڈار صاحب کا ایک جملہ مجھے بہت ہی پسند آیا۔ فیس بک پر انہوں نے لکھا: ’’کسی ملحد کو مت مارو، ہوسکتا ہے بڑا ہوکر وہ اوریا مقبول جان بن جائے۔‘‘

جمہوریت کا لب لباب یہی ہے کہ اللہ کا دین اس وقت تک نظام نہیں ہے جب تک چار سو جاہل ارکانِ پارلیمنٹ اس پر مہرِ تصدیق ثبت نہ کردیں۔

اخلاقیات کے قوانین جہاں ٹوٹتے ہوں، وہاں انہیں ریلیف ملتا ہے۔ ہماری ساری شاعری اسی کے گرد گھومتی ہے۔ طائوس ورباب۔ جو شمشیر وسناں کی بات کرے، وہ کبھی موضوعِ بحث نظر نہیں آئے گا۔ اقبال کا ذکر نہیں کریں گے۔ اگر ان کی کمٹمنٹ کمیونزم کے ساتھ تھی اور اس میں سچے تھے تو سوویت یونین بکھرنے کے بعد یہ اپنا قبلہ نہ بدلتے۔ یہ سارے لوگ امریکا کو گالی دیتے تھے، لیکن کمیونزم کا سورج غروب ہوا، لینن کا مجسمہ گرا تو امریکی اور مغربی کیمپ میں پناہ لے لی۔ اگر واقعی یہ مظلوم کے خیرخواہ ہوتے تو سب سے بہترین نظام تو اسلام تھا۔ چلیں کچھ دیر کو مان لیتے ہیں کہ کمیونزم بہتر تھا، کیا اس کے بعد بھی انہیں اسلام میں کوئی خوبی نظر نہ آئی؟

دراصل ’’نظریات‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ لوگ نظریاتی نہیں۔ یہ معاشرے میں پرتعیش زندگی گزارنے کے آرزومند لوگ ہیں۔ قیودوحدود سے آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور جو نظام انہیں کھل کر آزادی دے، یہ اس میں پناہ لے لیتے ہیں۔ اس وقت پورا مغربی نظام چند چیزوں کی چمک کا نام ہے۔ ان میں جنسی اختلاط ہے۔ کوئی بھی سیاحتی مقام ایسا نہیں، جس کے ساتھ ’’نائٹ کلب‘‘ نہ ہو۔ خاندان سے آزادی، ماں باپ کو ’’اولڈ ہوم‘‘ چھوڑنے کی سہولت میسرہے۔ میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بعد بھی تعلق۔ میں نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا، وجہ ایک یہ بھی تھی کہ کچھ اقدار کو ملیامیٹ کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ پہلے سادہ عشق ہوتا، اب بیوی اپنے شوہر کے دوست کے ساتھ عشق کرنے لگ گئی۔ دوست کسی کی شادی شدہ بہن پر فدا ہوگیا۔ شادی شدہ عشق متعارف ہوئے۔ ان تمام چیزوں میں مذہب آڑے آتا ہے، سو کیسے مذہب کو برداشت کیا جاسکتا ہے؟ ازم اور نظام کچھ نہیں، اکثریت کو بس تعیش چاہیے، وہ چاہے کسی بھی نظام میں ہو۔

میں آج بھی اس پارلیمنٹ کے ایسے پچاس قانون نکال کر دکھاسکتا ہوں جو واضح طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اصولوں کے خلاف ہیں۔

سوال: مذہب کے نام پر قتل وغارت ہوتی ہے، اسلام کا چہرہ مسخ ہوجاتا ہے۔ کیا بطورِ اُمت ہمیں اپنے کردار پر نظرثانی کی ضرورت نہیں؟
اوریا مقبول جان: دو بنیادی چیزیں تھیں جو تین چار سو سال کے علم نے پوری دنیا کو پڑھائیں۔ پہلی: رنگ، نسل اور زبان سے قومیں بنتی ہیں، تاکہ پوری دنیا کو نیشن اسٹیٹ میں تقسیم کیا جائے۔ دوسری، مذہب کا آپ کی نجی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں: ’’من لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون۔‘‘ جو ہم نے نازل کیا، اس پر ایمان نہ لانے والے ہی کفر کررہے ہیں۔‘‘

دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مذہب لوگوں کو آپس میں لڑواتا ہے، خونریزی کرواتا ہے۔ 1905ء کے اردگرد پوری دنیا سے مذہب نکل گیا، ریاستوں نے انہیں اپنے معاملات سے باہر پھینک دیا۔ اس کے بعد دو جنگیں؛ جنگِ عظیم اول ودوم لڑی گئیں۔ پندرہ کروڑ انسان مارے گئے۔ رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر ایسی قتل وغارت کہ انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ معلوم تاریخ کے قتل عام کو اکٹھا کیا جائے تو ان دو جنگوں میں مارے جانے والے انسانوں سے زیادہ نہ ہو۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ 40 لاکھ لوگ اس لیے قحط سے مرگئے کہ چرچل نے بنگال کے لیے غلہ روک دیا تھا۔ یہ مرنے والے سارے مسلمان تھے۔ کیا اس کے باوجود کہا جاسکتا ہے کہ مذہب کے نام پر قتل وغارت ہوئی ہے۔ بنیادی بات وہی ہے جو میں نے پہلے عرض کردی ہے کہ کسی کے بارے میں تاثر بنادو۔ سو ہم سے متعلق بنادیا گیا۔

جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی میری پسندیدہ شخصیت۔ سیاست میں ان کے بعد کبھی کسی پر نظر ٹکی نہیں۔

سوال: ہمارے ہاں مذہبی طبقہ سیاسی میدان میں کمزور دکھائی دیتا ہے، حالانکہ معاشرے میں مذہب کا کافی اثرورسوخ ہے۔ ناکامی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

اوریا مقبول جان: تنظیم اسلامی کام کررہی ہے۔ معاشرے میں اس کی بہت پذیرائی نہیں، لیکن ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے جیسے تزکیہ والے لوگ پیدا کیے، جس طرح قرآن کا علم ان کے پاس ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایسے لوگ نہیں دیکھے۔ قرآن پر انہیں عبور حاصل ہے۔ ان کے نظریات واضح ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ یہ نظامِ کفر ہے، ہم اس کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ کمپرومائز ہی کوئی نہیں۔ رسول اکرمﷺ کو متفقہ طور پر مکہ کا سردار بنادیا گیا تھا۔ آج ساری جماعتیں مل کر سراج الحق کو وزیراعظم بنالیں تو یہ رسول اللہ کی سنت کے مخالف ہوگا یا حق میں! آپ کو کیا ٹھیکہ ملا ہے اللہ کے دین کو نافذ کرنے کا؟

دہریت کا راستہ تعیش سے شروع ہوتا ہے۔ آپ ایک شاندار قسم کی زندگی چاہتے ہیں جو حدودوقیود سے آزاد ہو۔ کمیونزم آیا، اس میں یہ تمام خرافات موجود تھیں۔الحاد کے اندر کسی ضابطے اور قانون کی پابندی نہیں کرنی پڑتی۔

سوال: ڈاکٹر اسرار صاحبؒ انتقال سے پہلے اپنے بیٹے کو جماعت کی ذمہ داری سونپ گئے، کیا یہ ملوکیت کا وہی تصور نہیں جسے اسلام نے کبھی پسند نہیں کیا؟

اوریا مقبول جان: میں اس سے اتفاق کرتاہوں، ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی میں ہی خود کو تاحیات امیر منتخب کرالیا تھا، لیکن میں عرض کروں ڈاکٹر اسرار صاحب پر یہ اعتراض کہیں اور سے نہیں آتا، وہ لوگ زیادہ کرتے ہیں جو ساری زندگی نسل کی بنیاد پر امامت کی گفتگو کرتے رہے۔ جو سادات کے ظالم ترین اور فاسق ترین آدمی کو بھی برتر سمجھتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ یہ بات نہیں کرتے۔ رسول اکرمﷺ تو دوہرا اضافہ کردیتے۔ اس کے باوجود مجھے یہ بتائیے کہ ڈاکٹر اسرار کا گھر باقی تمام مذہبی علماء اور جماعتوں کے گھرانوں سے بہتر نہیں؟ تعلیم و تربیت کے لحاظ سے۔ کس مذہبی عالم نے اپنے بیٹے کو مغربی اسکول سے اُٹھاکر دینی تعلیم میں ڈالا؟ حالانکہ خود ڈاکٹر صاحب جدید تعلیم یافتہ تھے۔ اپنے سارے بچوں کو اپنے مشن پر لگادیا اور انہیں دینی تعلیم دی۔ کوئی ایسا نہیں کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے مشن سے ہٹا ہوا ہو۔ اگرچہ میں تنظیم اسلامی میں شامل نہیں، لیکن ہم مولانا مودودیؒ کو ہی دیکھ لیں، ان کے گھر میں بھی یہ نظر نہیں آتا۔ ہماری صدیوں کی روایات تھیں کہ مساجد کے مولوی صاحبان اپنے بچوں کو ساتھ رکھتے تھے، اب وہ بھی ختم ہوگئی ہیں۔ اگر اس ’’پیشے‘‘ میں پیسہ موجود ہے تو بیٹا آئے گا، ورنہ نہیں! سو، اس بنیاد پر ایک تنظیم کو مسترد کردینا بھی انصاف نہیں۔

فیض صاحب ماڈل ٹائون کے جس گھر میں رہتے رہے، ساری زندگی بیوروکریسی میں گزار کر بھی ایسے گھر کا نہیں سوچ سکتا۔ فراز کے پاس کیا کم پیسہ تھا۔ سجاد ظہیر لندن جاکر رکتے ہیں۔ آپ کو مراعات جتنی مل سکتی ہیں، ملتی رہیں۔ اس کے باوجود وہ نظام انہیں اپیل کررہا ہے، جو ان کے طرزِ زندگی کے خلاف ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے قرآن فہمی کے حوالے سے جو خدمات انجام دیں، وہ منفرد ہیں۔ 180 گھنٹے کی قرآن فہمی پر مشتمل ان کی کلاسز بڑا کارنامہ ہے۔ وہ عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے قرآن پڑھتے۔ مفسر جب تفسیر لکھتا ہے، اپنے علم کا سارا زور صرف کرتا ہے، نئے نئے نکتے تلاش لاتا ہے، جب آپ بیان کررہے ہوتے ہیں، لوگوں کو سمجھانے کے لیے کرتے ہیں۔ قرآن کی یہ زیادہ بڑی خدمت تھی جو ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ نے انجام دی۔

سوال: آپ خلافت کے داعی ہیں، ایسے خلفا کے ادوار سے متعلق پڑھا، عوام جس میں خوشحالی کے لیے ترستی رہی۔ آج کچھ جمہوری ممالک ہیں جہاں امن وامان اور سکون ہے۔ اسلام ایک پُرامن معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے، اگر یہ جمہوری نظام کے ذریعے ہو تو کیا مضائقہ ہے؟

اوریا مقبول جان: میں خلافت اور خلیفہ کی بات اس لیے کرتا ہوں کہ ہر قوم کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں، جب تک آپ ان اصطلاحات کو استعمال نہیں کریں گے، اس Frame of mind میں نہیں آئیں گے۔ آپ جب کہتے ہیں میرے ملک کا وزیراعظم، تو آپ اس کا موازنہ چرچل اور نیرو کے ساتھ کریں گے۔ آپ جب صدر کہیں گے تو آئزن ہاور اور ڈیگال کے ساتھ کریں گے۔ جس دن آپ نے اپنے حکمران کو خلیفہ کہنا شروع کردیا، اس کا موازنہ لامحالہ ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، عثمان غنیؓ اور علی المرتضیٰؓ سے ہونا شروع ہوجائے گا۔ فقرہ بدلنے سے بہت سی چیزیں بدل جائیں گی۔ دنیا میں کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کی اصطلاحات اس سے چھین لی جاتی ہیں۔ آپ کتنی آسانی سے کسی کو I love you کہہ جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کو کہنا پڑجائے میں تم سے عشق کرتا/ کرتی ہوں، ماتھے پر پسینہ آجائے گا۔

یہ سارے لوگ امریکا کو گالی دیتے تھے، لیکن کمیونزم کا سورج غروب ہوا، لینن کا مجسمہ گرا تو امریکی اور مغربی کیمپ میں پناہ لے لی۔

خلیفہ کا یہ لفظ میرے اللہ اور رسول نے ہمارے لیے چنا۔ خود اللہ نے فرمایا: ’’انی جاعل فی الارض خلیفہ‘‘ ’’لیستخلفنھم فی الارض‘‘ آپ خلیفہ منتخب کرلیں، امیر المومنین کہہ دیں کیا یہ لفظ کوئی برداشت کرے گا؟ طالبان اور ایران میں یہی فرق ہے۔ طالبان کی حکومت ختم کردی گئی۔ ایران میں آج بھی صدر اور وزیراعظم ہے۔ جب تک آپ ان کی اصطلاحات کو اپنے سیاسی نظام میں شامل رکھتے ہیں، انہیں کوئی اعتراض نہیں رہتا۔ جب آپ اپنی اصطلاحات کی جانب پلٹتے ہیں، ان کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔

میں نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا، وجہ ایک یہ بھی تھی کہ کچھ اقدار کو ملیامیٹ کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ پہلے سادہ عشق ہوتا، اب بیوی اپنے شوہر کے دوست کے ساتھ عشق کرنے لگ گئی۔ دوست کسی کی شادی شدہ بہن پر فدا ہوگیا۔ شادی شدہ عشق متعارف ہوئے۔ ان تمام چیزوں میں مذہب آڑے آتا ہے، سو کیسے مذہب کو برداشت کیا جاسکتا ہے؟

دوسری بات یہ ہے کہ کس ملک میں جمہوریت کے ذریعے اسلام نافذ ہوا؟ چلیں یہ کہہ دیتے ہیں کہ کس کس ملک میں جمہوریت کے ذریعے برسراقتدار آسکے ہیں؟ آخری مثال مصر کی ہے۔ آپ کو چلنے دیا گیا؟ زینب الغزالی جیسی خاتون اور حسن البناء جیسے لیڈر کو نہ چھوڑا۔ سید قطب کو پھانسی چڑھادیا۔ چار لاکھ بندے شہید کردئیے۔ لاکھوں جیلوں میں پڑے رہے۔ اس سب کے باوجود جب الیکشن میں اُترے اور 65 فیصد ووٹ لیا۔ منہ پر طمانچہ ماردیا کہ خبردار! جو چلنے کی کوشش کی۔ اس کا مطلب یہ ہے اگر پھر بھی کوئی جمہوریت کا تجربہ کرتا ہے، تو جاہل نہیں کہوں گا، کم ازکم بے وقوف ضرور ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پرویز مشرف کیخلاف خاموشی پر کیا پیشکش ہوئی؟ حامد میر کا خصوصی انٹرویو (2)

جس خلافت کا آپ نے ذکر کیا، ظاہر ہے اس کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ نے بھی ’’کاٹ کھانے والی ملوکیت‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی خوبیاں ہی اور ہیں۔ اگر اس میں کوئی جمہوریت ہے بھی تو وہ تابع۔اسلام بنیادی طور پر رائے دینے والے کو اہمیت دیتا ہے کہ رائے کون دے رہا ہے؟ جب رائے دینے والے صحیح ہوں گے، وہ پانچ کروڑ ہوں، پانچ لاکھ یا پانچ افراد۔ جس دن آپ نے ووٹر کی اہلیت کا تعین کرلیا کہ خائن نہ ہو، جھوٹا نہ ہو، جس پر کوئی کیس نہ ہو، دین کے بنیادی اصولوں پر پورا اُترتا ہو، اس دن میں آپ کی جمہوریت کا بھی قائل ہوجائوں گا۔ ویسے میں ایک چیلنج دیتا جائوں، آپ نے جمہوریت کی بات کی۔ دنیا میں کوئی ایک بھی ایسی حکومت نہیں جو واقعی جمہوریت کے نتیجے میں برسراقتدار آئی ہو۔

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس

جب ذرا آدم ہوا خود نگر و خود شناس

کوئی ایسا نظام بنے کہ لوگ دھوکے میں رہیں۔ آپ اندازہ کریں پارٹی سسٹم بنادیا۔ آپ کہیں بھی ذکر کریں کہ غیرجماعتی انتخابات ہوں تو آپ کو آمریت کا نمایندہ قرار دیں گے۔ کیوں؟ پوری جماعت خریدی جاتی ہے۔ 6 اعشاریہ 8 بلین ڈالر بارک اوباما کے پاس نہ ہوتے تو امریکی انتخابات میں اس کے اُترنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ 4 بلین یورو سرکوزی کا بل تھا۔ 3 اعشاریہ 8 بلین گورڈن برائون نے خرچ کیا۔ یہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ کارپوریٹ کلچر سے۔ وہ انہیں خریدتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے: will of the people speaks in the parliament، یہ بکواس ہے۔ پندرہ ٹریلین ڈالر امریکا کا شرح نمو، سولہ ٹریلین امریکا کا قرضہ، کل اکتیس ٹریلین۔ بتیس ٹریلین ڈالر امریکا کے سرمایہ داروں نے کیون آئی لینڈ میں ٹیکس چوری کرکے رکھے ہیں۔ کوئی ایک شخص پارلیمنٹ میں اس کے خلاف آواز نہیں اُٹھاسکتا۔ 1923ء میں ایک شخص نے کہا تھا یہ پیسہ ہمارا ہے، اسے واپس لانا چاہیے۔ اسے کہا گیا: ’’تم ہمارے کتے ہو، ہماری طرف سے بھونکا کرو۔‘‘

ڈاکٹر اسرار احمد پر اعتراض وہ لوگ زیادہ کرتے ہیں جو ساری زندگی نسل کی بنیاد پر امامت کی گفتگو کرتے رہے۔ جو سادات کے ظالم ترین اور فاسق ترین آدمی کو بھی برتر سمجھتے ہیں۔

کہاں جنگ لڑنی ہے؟ کس کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے ہیں؟ فیصلہ یہی لوگ کرتے ہیں۔ جمہوری نظام سے زیادہ کوئی جابرانہ اور ظالمانہ نظام نہیں۔ یہ اکثریت کی آمریت ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگلے پچاس سالوں میں بھی اس جمہوری نظام کے تحت ہندوستان میں کوئی مسلمان وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ یہ اقلیت کا دشمن نظام ہے۔ بارہ سال سے وہاں ایک مذہبی کٹھ ملا اقتدار پر قابض۔ آخر یہ انصاف ہے کہ آپ 51 فیصد ہندوئوں کے ووٹ پر 49 فیصد اقلیتوں کا استحصال کریں۔

سوال: آپ مجسٹریٹ بھی رہے، پاکستان کے عدالتی نظام کو کیسے پایا اور اس میں کیا کمی بیشیاں ہیں جنہیں درست کیا جاسکتا ہے؟
اوریا مقبول جان: پاکستان کا عدالتی سسٹم اسلام کے عدالتی نظام سے مختلف ہے۔ اسلام کے قریب قریب فرنچ نظام ہے۔ Anglo-Saxon law اسلام سے جد ا۔ یہ adversarial ہے۔ مثلاً: کوئی شخص آتا ہے اور الزام لگاتا ہے کہ فلاں شخص چور ہے۔ اسے ثابت کرنا ہے اس کا دعویٰ درست ہے۔ جج جانتا ہے اس شخص کی بات درست ہے، مگر فیصلہ نہیں کرسکتا۔ صفحہ مثل پر جو چیز آئے گی، اسی پر فیصلہ کرنا ہے۔ فرنچ قانون اسلامی اصولوں کے قریب ہے۔ اس کے مطابق قاضی تحقیق بھی کرسکتا ہے۔ اسے inquisitorial سسٹم کہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جب اپنا کیس لے کر گیا تو یہی گزارش کی کہ آپ اسے inquisitorial بنائیں۔ سارا ریکارڈ حکومت کے پاس ہے، تحقیق کیسے ہوگی؟ چنانچہ گزارش سن لی گئی۔ جب تک آپ اس نظام کو inquisitorial نہیں بنائیں گے، تب تک مسائل رہیں گے۔

آپ جب کہتے ہیں میرے ملک کا وزیراعظم، تو آپ اس کا موازنہ چرچل اور نیرو کے ساتھ کریں گے۔ آپ جب صدر کہیں گے تو آئزن ہاور اور ڈیگال کے ساتھ کریں گے۔ جس دن آپ نے اپنے حکمران کو خلیفہ کہنا شروع کردیا، اس کا موازنہ لامحالہ ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، عثمان غنیؓ اور علی المرتضیٰؓ سے ہونا شروع ہوجائے گا۔

دوسرا، اسلام نے کچھ اصول نافذ کیے ہیں۔ 1253ء میں التمش کے دور میں اسلام کا حنفی قانون قاضی منہاج سراج کے تحت نافذ کیا گیا۔ تب سے لے کر 1857ء تک اسی قانون کا نفاذ رہا۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ اکثریت میں آئو تو قانون نافذ کرو۔ جو گورننس کے قوانین ہیں، ان کا مذہب کے ساتھ تعلق نہیں۔ چور شیعہ ہے نہ سنی، وہابی نہ دیوبندی اور بریلوی، عیسائی ہے نہ یہودی۔ اسی طرح ڈکیت اور زانی کا بھی کوئی مذہب نہیں۔ اللہ کہتا ہے، یہ قانون نافذ کرلو، تم امن میں آجائوگے۔ ’’ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب۔‘‘ تم قصاص نافذ کردو، تمہاری لیے اسی میں زندگی ہے۔‘‘ ان اصولوں کی بنیاد پر فیصلے ہوتے تھے تو امن تھا۔ 1875ء کے لارڈمیکالے کے نوٹس اُٹھاکر پڑھیں، وہ کہتا ہے میں برصغیر کے کونے کونے میں گھوما، مجھے کوئی فقیر نظر آیا نہ چور۔ اصول متعین تھے۔ بلاتخصیص مذہب یہ قوانین نافذ کردئیے تھے،، امن ہوگیا تھا۔

بنیادی طور پر ریاست کے دو مقاصد ہیں: ایک امن وامان، دوسرا انصاف۔ ’’واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسروا المیزان‘‘ انصاف کے نفاذ کے لیے مذہب کا ہونا بھی ضروری نہیں۔ آپ اسلام کے ’’سول لاز‘‘ نافذ کردیں، تمام لوگوں کو جائیداد میں حصہ ملے گا، آپ کے ہاں تنازعات ختم ہوجائیں گے۔ آپ خلفاء کے ’’ویلفیئر لاز‘‘ کا نفاذ کردیں، کسی کو کلمہ پڑھانے کی ضرورت نہیں۔

6 اعشاریہ 8 بلین ڈالر بارک اوباما کے پاس نہ ہوتے تو امریکی انتخابات میں اس کے اُترنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ 4 بلین یورو سرکوزی کا بل تھا۔ 3 اعشاریہ 8 بلین گورڈن برائون نے خرچ کیا۔ یہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ کارپوریٹ کلچر سے۔

سوال: سود سے متعلق آپ کی رائے کافی سخت ہے، آپ نے اس سلسلے میں کام بھی کیا، اسلامی بینکاری سے متعلق کیا کہتے ہیں؟

اوریا مقبول جان: اس پر طویل گفتگو ہوسکتی ہے۔ میں اسے دوسرے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ اس وقت پوری کی پوری مغربی جمہوریت اور کارپوریٹ کلچر کی عمارت اس پر کھڑی ہے۔ گھنٹوں بحث ہوسکتی ہے، مختصر یہ کہہ دوں کہ آپ نے بینک میں رقم رکھی ہے، آپ کی مجبوری ہوسکتی ہے، لیکن اسلامی بینکاری کے نام پر کم ازکم حیلے نہ کریں۔ اسلامی بینکاری بکری کے نام پر سور کھانے کے مترادف ہے۔ میری مولانا تقی عثمانی صاحب کے ساتھ اس پر گفتگو ہوئی۔ وہ کہتے ہیں آپ عزیمت کی بات کرتے ہیں، ہم لوگوں کے لیے رُخصت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مجھے ان کے اخلاص پر شک نہیں، لیکن مولانا سلیم اللہ خان آخری وقت تک یہی کہتے رہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسلامی بینکاری حیلہ سازی ہے۔ بنی اسرائیل یہی کام کرتے رہے۔

سوال: زندگی کا بیشتر حصہ بلوچستان میں گزارا، وہاں ملازمت کی، آج پھر وہاں حالات گھمبیر ہیں، اسے کیسے دیکھتے ہیں اور حل کیا ہے؟

اوریا مقبول جان: بلوچ سرداروں کو ریاست نے خود کھڑا کیا۔ وہ ریاست کو فائدہ دیتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست رابطہ سردار کا ہوتا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ گھمبیر بھی ہے، مگر آسان بھی بہت۔ آسان ایسا کہ ان کے معاملات کو نہ چھیڑا جائے جیسے انگریز نے کیا۔ اس نے وہاں کی قبائلی اقدار نہ چھیڑیں۔ سنڈیمن کی پالیسی یہی تھی۔ قانون کے بارے میں کہا جاتا ہے: ’’قانون لوگوں کی روایات اور اقدار سے پیدا ہوتا ہے، باہر سے نہیں آتا۔‘‘ اس نے انہیں ان کی اقدار اور روایات کے مطابق چلنے دیا۔

بلوچستان کے مسئلے میں انڈیا سب سے آخر میں آتا ہے۔ خرابی کی بنیادی ذمہ داری پہلے دُبئی، قطر اور پھر ایران پر ہے۔ ان کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔

البتہ ایک مسئلہ ایسا تھا جس میں ہم اور گورے نے غلطی کی۔ گورے نے بھی بلوچستان کو صحیح نہ سمجھا، ہم بھی اسی کے نقشِ قدم پر چلے۔ دونوں نے اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً: گورے نے نواب دودا خان کو خیربخش مری کے والد کے مقابلے میں کھڑا کیا۔ انہوں نے اسے قتل کردیا۔ خیربخش مری لامحالہ سردار بن گیا۔ نور الدین مینگل کو کھڑا کیا۔ انہوں نے وہی غلطی کی۔ گورا سمجھ گیا تھا کہ یہ قبائلی لوگ اپنے سردار کو اسی خاندان سے مانتے ہیں، کسی اور کو نہیں۔ ہم نے اکبر بگٹی کے دور میں پھر وہی غلطی دہرائی۔ ان کے مقابلے میں اپنا وفادار لانے کی کوشش کی۔ جب بھی اپنا وفادار لانے کی کوشش کریں گے، نقصان اُٹھائیں گے۔ 2005ء کا کرائسز اسی وجہ سے ہوا۔ بلوچستان کے باقی بلوچ اکبر بگٹی کے ساتھ صلح نہیں چاہتے تھے، ورنہ وہ تو سوئی کے ایرپورٹ پر آگئے تھے۔ وہ جانے والے تھے، جہاز ہی کسی نے بھیجنے نہیں دیا۔ ظفر اللہ جمالی نے نہ ہی جام یوسف نے۔ وہ بے چارے وہاں بیٹھے رہے، قبائلی معاشرہ ہے، واپس قبیلے میں جا نہیںسکتے تھے، پہاڑوں پر چلے گئے۔ مسئلہ چٹکیوں میں حل ہوسکتا ہے اگر ہماری اسٹبلشمنٹ میں عقل وشعور ہو۔ اب مگر گھمبیر اس لیے ہوگیا ہے کہ عالمی قوتیں درمیان میں آگئی ہیں۔ دو تین طاقتیں اسے مزید خراب کررہی ہیں۔ بلوچستان کے مسئلے میں انڈیا سب سے آخر میں آتا ہے۔ خرابی کی بنیادی ذمہ داری پہلے دُبئی، قطر اور پھر ایران پر ہے۔ ان کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔

فیض احمد فیض اچھے شاعر تھے، مگر انہیں بہت بڑا بنادیا گیا۔

سوال: آخری سوال، نثر اور شاعری میں کس نے زیادہ متاثر کیا؟

اوریا مقبول جان: زیادہ کے لفظ کا جواب تو نہیں دیا جاسکتا، البتہ نثر سے متعلق عرض کروں کہ ہر طرح کی پڑھی۔ تذکرہ غوثیہ میں سید غوث علی شاہ کی نثر اچھی لگی، انتظار حسین کی نثر اچھی لگتی ہے۔ مولانا مودودی کی نثر بہت خوبصورت ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر کا ڈنکا بجا، مگر ان کے اسلوب کا زمانہ اب نہیں رہا۔ منٹو کبھی اچھا نہیں لگا، مجھے اس کے کرداروں سے نفرت ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایسے کردار تخلیق کرتا ہے جو معاشرے کے اندر وجود نہیں رکھتے۔ مثلاً: اس کے نزدیک ہر مولوی کے اندر ایک مجرم چھپا ہوتا ہے جبکہ ہر طوائف اندر سے بڑی نیک سیرت ہوتی ہے۔ انہیں کوئی بری طوائف ملتی ہے نہ ہی کبھی کسی اچھے مولوی سے سامنا ہوتا ہے۔ نثر کی ہی بات کروں تو غالب کے خطوط میں بہت کمال کی نثر ہے۔ شاعری میں اقبالؔ سے آگے سوچتا ہوں نہ پیچھے۔ دائیں بائیں بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ میں نے ایک بار تضمین لکھنے کی کوشش کی، مگر پھرکبھی اس دیوار کو عبور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ کئی سو سال پہلے اقبالؔ پیدا ہوا، نہ اگلے سو سالوں میں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ رومانوی شاعری کی بات کی جائے تو یگانہ چنگیزی اچھا لگتا ہے۔ فراق خوب شاعر تھے۔ فیض احمد فیض اچھے شاعر تھے، مگر یار لوگوں نے انہیں بہت بڑا بنادیا۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں