روح میں پیوست تقسیم، ہجرت اور آزادی کی کہانیاں - عمران زاہد

میرے ددھیال اور ننھیال دونوں جالندھر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ میرے ابو دو ڈھائی سال کے تھے اور داداجان کے کندھوں پر بیٹھ کر پاکستان پہنچے تھے۔ میرے دادا مرحوم کا نام چوہدری نظام الدین تھا اور میرا بچپن میں ان سے بہت طویل ساتھ رہا ہے۔ ان کا حقہ تازہ کرنے کا شرف مجھے لاتعداد بار حاصل ہوا ہے۔ وہ تقسیم اور ہجرت کے قصے مجھے سنایا کرتے تھے۔ ان سے پنجابی صوفیانہ کلام بھی سنا، جو انہیں ازبر تھا۔ ان کے قصے ختم نہیں ہوتے تھے۔ ہر بار کوئی پرانی بات شروع کر لیا کرتے تھے۔ بار بار کے قصے بار بار سننے پڑتے تھے، لیکن ہر دفعہ ان کے قصوں میں ایسے لمحات بھی آتے تھے جب جسم میں سنسنی سی پھیل جاتی تھی۔ اگر کبھی بور ہو جاتا تو میں نیند میں چلے جانے کا ناٹک کرتا۔
:
وہ جالندھر میں اپنے وسیع و عریض گھر کی باتیں سنایا کرتے تھے جہاں وہ پردیسیوں کی دل کھول کر مہمان نوازی کرتے تھے۔ صوبہ سرحد کے پٹھانوں کے قافلے وہاں سے گزرتے تو رات پڑنے پر انہیں ٹھہرا لیا جاتا۔ ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا۔ انتظام اس قدر وسیع ہوتا کہ سو سو اونٹ بھی ایک قطار میں باندھ دیے جاتے تو تنگی نہ ہوتی۔ وہاں کی مسجد کا حال سناتے جو گاؤں والوں نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی تھی۔ بعد میں اپنے گاؤں سے آنے والوں سے سن کر آزردہ ہوتے کہ سکھوں نے مسجد کو کاٹھ کباڑ ڈال کر بند کر دیا ہے۔ اپنے پیچھے رہ جانے والے والد، ہمارے پردادا چودھری شمس الدین، کی باتیں کرتے۔ ہمارے پردادا نے ضد باندھ لی تھی کہ وہ اپنا گھر بار نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے اپنے خاندان کو جانے دیا اور خود وہیں چارپائی پر بیٹھے حقہ پیتے رہے۔ اصرار اور بار بار اصرار پر بھی نہیں آئے۔ کیمپ سے بھی واپس آئے کہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں، لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ان کا ذکر کرتے داداجان کا گلا بھر آتا۔ انہیں آخری دم تک افسوس تھا کہ وہ اپنے والد کو کیوں نہ ساتھ لے آئے۔

وہ اپنے کھیتوں کی باتیں کرتے۔ وہاں لگے کنویں کی باتیں کرتے، اس کنویں پر چلتے رہٹ کی باتیں سناتے۔ گنے کا رس نکالنے والے بیلنے کی باتیں کرتے، اس کڑاہ کی باتیں کرتے جس میں رس کو کاڑھ کر گڑ کی شکل دی جاتی ہے، اپنے بھائی عمردین کی قوت اور دلیری کی باتیں کرتے جس نے ایک سکھ سے شرط لگا کر کڑاہ ایک ہاتھ سے اٹھا کر ہوا میں گھما دیا تھا۔ اپنے بھائی عمردین کے قتل کا واقعہ سناتے کیسے پاکستان آ کر ان کے دوستوں نے ہی نشیلی چیز پلا کر گلا گھونٹ دیا اور جسم دہکتے ہوئے اینٹوں کے بھٹے میں پھینک دیا۔ وہ اس دیوانے کا ضرور بتاتے جو حال پڑنے پر گمشدہ فرد کے کپڑوں کی بو کو سونگھ اس کے بارے میں بتا دیتا تھا۔ اسی نے قتل کا یہ واقعہ بتایا۔ ورنہ نہ کوئی ثبوت، نہ جسم، نہ مدعی نہ مدعا الیہ۔ پولیس نے تھوڑی بہت کاروائی بھی کی لیکن بالآخر فائل بند کر دی۔ یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ اس کا نتارا اب روزِ قیامت ہی ہوگا۔
:
وہ آزادی اور تقسیم کے دنوں میں سکھوں کے بدلتے تیوروں کی باتیں سناتے۔ سکھوں کے جتھوں کی باتیں بتاتے۔ بتاتے کہ انہیں یقین تھا کہ انہیں ہجرت نہیں کرنی پڑے گی، لیکن تقسیم کرنے والے جج نے وڈّی یعنی رشوت کھا لی اور جالندھر ہندوستان کو دے دیا۔ بھرے پُرے گھر کھلے چھوڑنے کی باتیں کرتے۔ سارا گاؤں چلا گیا اور صرف ان کا گھر رہ گیا۔ آخر میں نکلے۔ اپنے ایک عزیز کو ایک بھالے کو کھیس میں لپیٹ کر ساتھ لے جانے کا قصہ سناتے۔ کیسے اس نے بھالا سیدھا کھڑا کیا تو کھیس ہٹ گیا اور ایک فوجی نے آ کر ان سے وہ واحد ہتھیار بھی لے لیا۔ راستے میں پڑی کٹی پھٹی لاشوں، روتے بچوں اور پانی کے کنووں میں زہر کا بیان کرتے۔ دورانِ سفر اپنے ڈھائی سالہ بچے بشیر، میرے والد، کا ذکر کرتے کہ کیسے وہ سارے سفر میں کندھے پر سوار روتے رہے اور یہی دہراتے رہے کہ "میں منجی تے سوناں" ۔۔ یعنی مجھے سونے کے لیے چارپائی چاہیے۔
:
پاکستان میں اپنے سفر کا حال سناتے کیسے وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچے، کیسے وہاں سے اوکاڑہ آئے، فیصل آباد پہنچے اور پھر بدین جا پہنچے۔ وہاں سے بھی ایک ہجرت 1993ء میں کی کہ وہاں سندھی قوم پرست پنجابی آبادکاروں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اپنے پیارے کتے کا ذکر کرتے جو ایک فوجی کا تحفہ تھا اور سمجھ بوجھ میں انسانوں سے بڑھ کر تھا۔ اپنے علاقے کے تمام کتوں کا بادشاہ تھا، اپنے اور پرائے کا فرق جانتا تھا، خوددار تھا، بیماری میں بھی تنگ نہیں کرتا تھا۔ کسی بدطینت نے اسے زہریلا گوشت کھلا کر قصہ تمام کر دیا۔
:
پاکستان میں آکر اپنے زمین جائیداد کے کلیموں کی بربادی کا قصہ سناتے۔ نہ جانے علاقے کے معتبر بندے کے حوالے وہ کلیم کیے کہ زمین کا ایک چپہ بھی اس کے عوض نہ مل سکا۔ اپنی مزدوریوں کے قصے سناتے۔ سونے چاندی کی ہانڈی جو ساتھ لائے تھے، چھ سات سال اسی کو کھایا۔ اس کے بعد اس جڑی بوٹی (نام ذہن میں نہیں آ رہا) کو پیس کر روٹی بنا کر بھی کھاتے رہے جو منہ میں ریت کی طرح کرچتی تھی۔
:
اپنے قصوں میں کبھی کبھار اپنی شادی کا قصہ سنانا نہ بھولتے۔ کیسے بارات گئی۔ کیسے وہاں ٹھہری اور کیا کیا رسومات انجام پائیں۔ اپنے بچوں کا ذکر کرتے۔ ان کی محنتوں کا ذکر کرتے۔ چچا نذیر کی محنت کی بات کرتے۔ بتاتے کے چچا نذیر بہت لائق تھے لیکن مزدوری کے لیے انہیں تعلیم سے ہٹا کر نہر کھودنے کی مزدوری پر ساتھ لگا لیا۔ چچا پڑھ نہ سکے۔ ان کے تعلیمی نقصان کا انہیں آخری دم تک قلق تھا۔ میرے والد کا ذکر تو بہت ہی زیادہ کرتے۔ ان کی تعلیمی محنت کا ذکر کرتے کہ کیسے میرے والد نے بورڈ کے امتحانات میں ضلع بھر میں اول آکر گاؤں بھر میں ان کی شان میں اضافہ کر دیا تھا۔ جب ابو نے ایک استاد کے رویے سے تنگ آ کر سکول تبدیل کرنے کا اعلان کیا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نمبردار کی سفارش لے کر دادا کے پاس آئے، لیکن دادا نے اپنے بیٹے کی مرضی کے خلاف کچھ بھی کرنے سے معذرت کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:   کوٹا سسٹم اور پاکستان - حبیب الرحمن

پچھلے سال اوکاڑہ کے اس گاؤں میں جانے کا اتفاق ہوا تو یقین مانیے گاؤں کے معززین نے مہمانِ خصوصی کا درجہ دیا۔ نہ جانے کون کون مصافحہ کرنے آیا اور اپنا تعارف کرایا۔ وہاں کے سکول میں ابو کا نام اب بھی سنہرے حروف سے لکھا ہوا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ کبھی کیمرہ لیکر جاؤں اور اپنے ماضی کے اس پرتو کو ریکارڈ کر لوں۔ دادا جان پاکستان میں اپنے محسنین کا ذکر کرتے، بار بار کرتے، جن کے احسانوں کا بدلہ چکا دیا وہ بھی بتاتے، اور جن کے احسانوں کو بدلہ نہیں چکا پائے وہ بھی بتاتے۔ گفتگو میں پنجابی کے صوفی شعراء کا کلام اپنی ضعیف آواز میں سناتے۔
:
میں اپنے دادا کا پوتا، بیٹا، دوست اور بھائی سب کچھ تھا۔ انہیں رات کو نیند بہت مشکل سے آتی تھی۔ اور ان کا ماضی ان کی آنکھوں کے سامنا تیرتا رہتا تھا۔ اگر کبھی کوئی دوائی یا کھانا نہ کھانے کی ضد کرتے تو ابو مجھے بلاتے کہ دادا کو یہ دوا یا کھانا کھلاؤ۔ وہ میری بات کبھی نہ ٹالتے۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے رات کے اس پہر میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو ٹپک رہے ہیں۔ کبھی کسی کے مرنے پر نہیں رویا، آنسو تک نہیں بہائے، حتٰی کہ اپنے والد کی وفات پر نہ رویا، لیکن نہ جانے کچھ سالوں سے دل کو کیا ہو گیا ہے کہ ان کی کوئی بات یاد آتی ہے تو گاڑی چلاتے ہوئے، کچھ پڑھتے ہوئے، لیٹے ہوئے حتٰی کہ نماز میں آنسو بہنے لگتے ہیں۔ کوئی پاس نہ ہو تو بعض اوقات بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونا آ جاتا ہے۔ بس میرے پاس تو ان کے لیے مناجات ہی ہیں۔ شو کمار بٹالوی نے شاید ایسی ہی کسی حالت کی منظر کشی کی تھی۔
ادھی ادھی راتیں اُٹھ رون موئے مِتراں نوں، مائیں سانوں نیند نہ پوے،
مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک پوے
:
میں ان کے آخری ایام میں ان کے ساتھ رہا۔ جب ان پر فالج گرا تب بھی ان کے پاس تھا۔ پھر ابو کا تبادلہ ہو گیا۔ میں اگلی کلاس میں داخل ہو گیا۔ پھر سب مل کر ابو کے پاس ساہیوال چلے گئے۔ دو سال بعد پھر وہاں سے واپس فیصل آباد تبادلہ ہوا۔ آج احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے یار کی خدمت نہ کر سکا۔ ان کی خدمت کی کمی والد صاحب کے بستر مرگ کے دنوں میں پوری کرنے کی کوشش کی۔ دل بھر آتا ہے کہ ساری خدمت بھی انہیں بچا نہ سکی۔ نہ جانے کہاں کمی رہ گئی۔ ڈاکٹروں کی غلطیاں بھی اپنی غلطیاں ہی لگتی ہیں۔
:
دادا جب یہ کہتے کہ انگریز کے دور میں امن و امان تھا اور انصاف تھا۔ اب یہ دونوں چیزیں ناپید ہیں تو میں ان سے بہت بحث کرتا۔ میرے مطالعہ پاکستان پڑھے ذہن میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ ہم آزاد ہو کر پہلے سے بھی کمتر کیسے ہو سکتے ہیں۔ میری کج بحثی سن کر وہ آہ بھر کر چپ تو ہو جاتے لیکن پھر کسی نشست میں یہ بات دہرا دیتے۔ اب ان کی وفات کے قریباً تئیس چوبیس سال بعد لگتا ہے کہ وہ درست ہی کہتے تھے۔ جب وہ یہ بات کرتے کہ پاکستان کی طرف ہجرت کے سفر میں انہیں پاکستان سے آنے والے ہندو شرنارتھی بھی ملتے جن کے ساتھ پاکستان میں ویسا ہی سلوک ہوا تھا جیسا ان کے ساتھ ہندوستان میں، تو یقین نہ آتا۔ ہم نے تو یہ پڑھ رکھا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر مظالم توڑے تھے، لیکن یہ چیز میرے ننھے سے دماغ میں نہیں آتی تھی کی مسلمان اتنا نیچ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دوسروں پر ظلم کرے ۔ وہ بتاتے کہ پاکستان سے آنے والے ہندو یا سکھوں سے وہ پوچھتے کہ آپ پر کیا گزری تو وہ مظلومیت سے یہی بتاتے کہ بھائیو، آپ لوگوں کے ساتھ یہاں بری ہوئی، ہمارے ساتھ وہاں بری ہوئی۔ ہم دونوں کے ساتھ ہی ظلم ہوا۔ میں یقین نہیں کرتا تھا۔ کافی بعد جب یونیورسٹی کے دنوں میں شہاب نامہ پڑھی تو ان کی باتوں پر یقین آیا۔
:
دادا جی سے جو وقت بچتا، اس میں دادی اور پھوپھو تقسیم اور ہجرت کی باتیں سناتے۔ یہاں پاکستان میں اپنی جدوجہد کی باتیں سناتے۔ وہ بتاتیں کیسے وہ کپاس چننے کی مزدوری کیا کرتی تھیں، کیسے وہ چھوٹے بھائی کی تختی پر گاچی لگایا کرتی تھیں، کیسے ان کا بستہ تیار کرتیں۔ کیسے ان کے لیے سرسوں کے تیل کا دیا تیار کرتیں جس کی لو میں وہ رات رات بھر پڑھائی کیا کرتے۔ وہ ابو کو مکمل طور پر اپنی پراڈکٹ سمجھتیں۔ انہیں فخر تھا کہ ان کا بھائی کھیتوں میں کام کرتا کرتا پڑھ لکھ کر ایک بڑا افسر بن گیا ہے۔ اور افسر بھی ایسا کہ جو اپنے محکمے میں کرپشن کے خلاف ایک استعارہ تھا۔ نہ چھوٹوں کو کرپشن کرنے دیتا تھا نہ بڑوں کو۔ بہت بوجھ اپنے سر لے لیا تھا انہوں نے۔ ان کی جدوجہد دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کبھی سرکاری نوکری نہیں کرنی۔ ہم چار بھائیوں میں سے کوئی بھی سرکاری نوکری میں نہیں گیا، حالانکہ آسانی سے مل سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل اسمبلی میں حسینہ واجد کے الزامات، حقیقت کیا ہے؟ آصف محمود

پھپھو کئی دفعہ کہتیں کہ حکومت کو چاہیے کہ ان کے بھائی کو کوئی تمغہ دے، کیا کوئی اور اتنا ایمانداز اور قابل افسر ہے؟ میں بہت چھوٹا اپنے دل میں سوچتا کہ تغمے تو صرف میدان جنگ میں لڑنے والوں کو ملتے ہیں۔ کھمبوں اور تاریں لگانے والوں کو کس چیز کے تمغے؟ آج میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا نظام ضرور ہونا چاہیے کہ جس سے، ہر شعبہ زندگی میں، محنت اور ایمانداری کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھانے والے افراد کو قومی سطح پر سراہا جائے، قوم و ملک کے لیے ان کی کاوشوں کا اعتراف کیا جائے۔
:
آج بچوں کو ہر وقت کمپیوٹر، موبائل اور ٹیبلیٹ میں گم دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کون ان کو اپنی جڑوں سے روشناس کرائے گا۔ کون بتائے گا کہ ان کی آباء کہاں سے آئے تھے اور ان کا کیا مقصد تھا۔ یہ وطن کیوں حاصل کیا گیا تھا اور اس نے کیا بننا تھا۔ اب تو میں بھی داداجان کے بتائے ہوئے واقعات بھولتا جا رہا ہوں۔ نام، مقام اور سنین تو میرے ذہن سے بالکل محو ہوتے جا رہے ہیں ۔ بس ایک خواب آسا ہیولہ سا رہ گیا ہے جو اوپر بیان کر دیا۔ پھر جب بچوں اپنی مادری زبان پنجابی اور قومی زبان اردو سے کٹتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دل ہی کٹ جاتا ہے۔ کیا کوئی قوم اپنی زبان اور تہذیب سے کٹ کر بھی زندہ رہی ہے؟ مستقبل کی آرزوئیں اور امنگیں تو اپنی تاریخ اور تہذیب سے ہی کشید کی جاتی ہے۔ اپنے ملک کے تعلیمی اداروں میں انگریزی کو فروغ دینے کی کوششیں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پھر انگریز کی غلامی کیا بری تھی؟
:
میرا بیٹا اسامہ جب بہت چھوٹا تھا، وہ اپنے دادا کا بہت لاڈلا بن گیا تھا۔ میرے والد کا وہ جیسے دوست ہی بن گیا تھا۔ انھی دنوں ایچ ای سی کے بیرونی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے لیے وظائف اناؤنس ہوئے۔ تقریباً سارا پراسس مکمل کرنے کے بعد اس لیے باہر جانے کا ارادہ فسخ کر دیا کہ میرے ابو اپنے پوتے سے محروم نہ ہو جائیں۔ باہر جانے کے بجائے لاہور میں رہ کر لمز میں داخلہ لیکر جو ڈگری کی جا سکتی تھی، وہ کر لی۔ مجھے آج بھی اپنے اس فیصلے پر فخر ہے۔ میرے بیٹے نے اپنے دادا کے ساتھ بہت بھرپور وقت گزارا ہے۔ لیکن افسوس اس کے بچپن میں ہی ان کو جانا پڑا۔ اب کئی دفعہ اسامہ کے مسائل کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس کے دادا ہوتے تو یقیناً اس کی شخصیت کے بہت سی خامیاں دور ہو جاتیں۔ وہ اپنے دادا کو بہت مس کرتا ہے۔ میں اپنے دادا اور ابو کو بہت مس کرتا ہوں۔
:
قومی زبان اور تہذیب کے زوال کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ایک آدھ نسل کے بعد تو شاید ہمیں بھول ہی جائے کہ ہمارے پرکھوں نے کس خواب کے لیے ہجرت کی تھی اور کس لیے اتنی قربانیاں دی تھیں۔ یوم آزادی کے موقع پر موٹرسائیکلوں کے سائیلنسر نکال کر ون ویلنگ کرتے اور گاڑی کے ڈیک پہ قومی نغمے لگا کر بیچ سڑک پر تھرکتے نوجوانوں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کیا قوم کے اس مستقبل کو آزادی کا درست مفہوم معلوم بھی ہے؟ ہمیں تو پھر بتانے والوں نے بتایا۔ انہیں کون بتائے گا؟
: