صدیاں بیت گئیں اور جانے کتنی صدیاں ابھی اور بیتتی جائیں گی۔ وقت کے پلوں تلے سے جانے کتنا پا نی گزر ا او رزمانے کی مٹھی سے جانے کتنی ریت سرکنا ابھی اورباقی ہے...
کچھ خاص
ذہن کی دیوار پر سجا یہ سب سے پرانا فریم ہے جس پر وقت کے گرد و غبار نے جالے سے بن دیے ہیں. یہ تصویرایک تین سے چار سالہ بچی کے ہاتھ سے بنی جس نے اپنی سمجھ بوجھ...
ہمارے ہاں چند رٹے رٹائے جملوں کو ترقی کی بنیاد سمجھ لیا گیا ہے. لوگ اپنے اپنے نظریات کی جگالی کرتے ہوئے ہر دوسرے جملے پر جب تک یہ مغالطے اگل نہ دیں انھیں سکون...
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میں کوئی ریسرچر ہوں نہ ہی کوئی اتھارٹی۔ جو تھوڑا سا سیکھا ہے، اس کی بنیاد پر کوشش کر رہا ہوں کہ نوجوانوں کو اپنے محدود علم کے مطابق کچھ...
دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اس نے اپنے مخصوص انداز میں انہیں سر کے پیچھے رکھا اور بستر پر چت لیٹ کر جسم کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے اپنے تھکے...
