ایک منٹ کی کہانی: “انصاف” – شہاب رشید

آج شریف الدین کے مقدمہ کا فیصلہ سنایا جانا تھا اس کا بیٹا سپریم کورٹ پہنچ چکا تھا اورکمرہ عدالت میں وہ بڑی بے چینی سے جج صاحب کے فیصلے کا انتظار کررہا تھا، وہ نمناک آنکھوں سے اپنے باپ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ کمرہ عدالت میں چہ مگویاں ہو رہی تھیں کہ مزید پڑھیں

مٹ جائے گی مخلوق تو..؟ حنا تحسین طالب

اسلام سلامتی کا مذہب، جو جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی نرمی اور کم سے کم تکلیف دینے کا حکم دیتا ہے. جو کسی قوم یا فرد کے خلاف کارروائی سے قبل تحقیق کی نصیحت کرتا ہے کہ مبادا تم کسی فاسق کی خبر پر کسی قوم/فرد کے خلاف کاروائی کرو اور بعد میں پچھتانا مزید پڑھیں

ماورائے عدالت واقعات کی روک تھام، کرنے کا کام – محمد زاہد صدیق مغل

مختلف جرائم میں ماورائے عدالت قتل (یا مار کٹائی) کے واقعات کی تعداد میں وقت گذرنے کے ساتھ ہمارے یہاں اضافہ ہوا ہے مگر اس کے باوجود اس کی سالانہ اوسط شاید ترقی یافتہ ممالک سے کم ہی ہوگی۔ ہمارے معاشرے کو مذہبی و لبرل جیسے طبقات میں تقسیم کرنے کا سہرا مشرف صاحب کو مزید پڑھیں

معاشرے کی تباہی، انصاف اور عوام – ڈاکٹر اسامہ شفیق

عدلیہ کی آزادی، جمہوریت کی بحالی اور مسلح افواج کے لیے اس قوم کی قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا. نوزائیدہ ریاست پاکستان میں جب 1948ء میں کشمیر کا معرکہ درپیش ہوا تو یہ عوام ہی تھے جو فوج کے شانہ بشانہ اگلے مورچوں پر داد شجاعت دے رہے تھے. 1965ء میں سیالکوٹ کے جانثار مزید پڑھیں

اللہ کرے ہو جائے – جاوید چوہدری

جسٹس شوکت عزیز صدیقی جماعت اسلامی کے بانی رکن مولانا نعیم صدیقی مرحوم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، یہ دبنگ، دلیر اور خوددار انسان ہیں، یہ اسلام‘ عشق رسولؐ اور نظریہ پاکستان کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں، جج بننے سے قبل راولپنڈی میں 23 سال وکالت کی، نام، عزت اور رزق حلال کمایا اور مزید پڑھیں

اس جنگ کو کون روکے گا-انصار عباسی

\n\nہندوستان سے جنگ کے خطرات کی گھنٹیاں بجیں تو پوری پاکستانی قوم متحرک ہو گئی۔ وزیر اعظم نے کابینہ کا فوری اجلاس طلب کیا، سیاسی اتفاق رائے کے لیے حکومت نے وزیر اعظم کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر لی، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی بلا لیا گیا۔ مسلح افواج اپنی تمام تر مزید پڑھیں

اردگان کیسے تیار ہوتے ہیں؟ زبیر منصوری

اردگان کیسے تیار ہوتے ہیں ؟ انھیں کون سی مائیں جنم دیتی ہیں؟\nیہ ننھا بچہ ایک کوسٹ گارڈ کا بیٹا تھا، استنبول تعلیم حاصل کرنے پہنچا تھا، شہر کی سڑکوں پر غبارے بیچتا تھا\nٹیلنٹ کی تلاش میں سرگرداں رہنے اور دعوت کے فروغ کے نئے راستے ڈھونڈنے والے تحریکیوں کی نظر پڑی تو انھوں نے مزید پڑھیں