ہوم << خونِ مسلم پہ اتنی خاموشی کیوں - محمدبلال خان

خونِ مسلم پہ اتنی خاموشی کیوں - محمدبلال خان

محمد بلال خان ورلڈ آرڈر کا ڈھنڈورا پیٹنے والا امریکا دنیا بھر میں امریکی باشندوں اور یورپی ممالک کے افراد کو تو ہر سطح پر اپنا سمجھتے ہوئے دنیا کے ہر ملک میں ان کےلیے امریکی چال چلن کی نہ صرف کھلی آزادی چاہتا ہے بلکہ نیوورلڈ آرڈر کی آڑ میں اسے اپنا حق سمجھتا ہے، مگر یورپی ممالک بالخصوص امریکہ میں مقامی مسلمانوں اور بیرون ممالک سے آئے مسلمانوں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جو کسی اور مذہب کے شخص کو دی جاتی ہے، مغرب میں اسلام مخالف زہریلا پروپیگنڈہ اس قدر گھولا گیا ہے کہ یورپین ممالک میں مسلمان اور اسلام سے نفرت خون میں شامل ہوتی جا رہی ہے. اہل مغرب اس حقیقت سے ناآشنا رکھے گئے ہیں کہ مسلمانیت اصل ہے کیا؟ امن و سلامتی کا علمبردار کون ہے؟ مغربی حاکموں نے عام افراد کو ایک منظم سوچ کے تحت مسلمان اور اسلام کی حقیقت سے نابلد رکھا ہے۔
مغربی ممالک میں مسلمانوں اور دیگر اقوام میں صریح تفریق برتی جاتی ہے، جب ایک غیرمسلم کو قتل یا زخمی کیا جائے تو پورا مغرب سوگ میں ڈوب جاتا ہے، پرچم سرنگوں ہوجاتے ہیں، اور مسلمان ممالک پر دہشت گردی کا الزام لگا کر اس ایک کے بدلے ہزاروں مسلمانوں کو بم و بارود کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن اگر انہی مغربی ممالک میں کسی مسلمان کا قتل ہوجائے تو مغربی انسانیت کے نام نہاد علمبرداروں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔ امریکی شہر اور دنیا کا دارالحکومت سمجھے جانے والے نیویارک میں دنیا کے مختلف مقامات سے مختلف مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ مختلف مقاصد کےلیے قیام پذیر ہیں. بیرونی ممالک کے مسلمانوں کے علاوہ مقامی مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے. 13اگست کو اسی نیویارک میں الفرقان مسجد کے خطیب اور نائب خطیب کو شہید کر دیا گیا،  imam-akhonjeeمولانا اخون جی 55 سالہ بنگالی عالم دین تھے، جو الفرقان مسجد کے خطیب تھے، وہ 13 اگست کی دوپہر اپنے نائب 64 سالہ بزرگ عالم طہارالدین کے ساتھ ایک پارک کے قریب چہل قدمی کررہے تھے کہ ایک حملہ آور نے ان دونوں پر فائر کھول دیا، جس کے نتیجے میں مولانا اخون جی موقع پر شہید ہوگئے جبکہ ان کے نائب طہارالدین زخمی حالت مین ہسپتال منتقل کیے گئے مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگئے. عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور لاطینی امریکی باشندہ لگتا تھا، جس نے ان دونوں اشخاص کو عقب سے نشانہ بنایا اور سر میں گولیاں ماریں، حملہ آور موقع سے فرار ہوگیا، عینی شاہدین کی نشاندہی پر قاتل کا خاکہ بھی ترتیب دیا گیا ہے، لیکن نیویارک پولیس اب تک قاتل کوگرفتار نہیں کر سکی۔
نیو یارک میں مقیم بنگالی کمیونٹی اور دیگر مسلمانوں نے احتجاج بھی کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتل کو گرفتار کرکے انصاف دلایا جائے. مولانا اخون جی 3 بیٹوں کے باپ تھے، ان کے 23 سالہ بیٹے نعیم کا کہنا تھا کہ ہم صرف اپنے والد کا قصور جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا جرم کیا تھا؟ وہ نیویارک میں مسلمانوں کے ترجمان اور امن کے سفیر بن کر آئے تھے. یاد رہے کہ مولانا اخون جی نے رواں ہفتے اپنے بیٹے کی شادی پر بنگہ دیش جانا تھا، لیکن اس دہشت گردی کی وجہ سے ان کی میت روانہ کی گئی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مولانا اخون جی کا قتل امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام اور مسلمان دشمن پروپیگنڈے کا شاخسانہ ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے مغرب میں مسلمانوں کے خلاف پہلے سے زیادہ نفرت اور تعصب پھیل رہا ہے اور اب نوعیت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امن کے نام پر دنیا کو چکنا چور کرنے والوں کے اپنے ممالک بدامنی کا شکار ہیں اور وہاں نہتے امن پسند مسلمان بھی موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں۔

Comments

Click here to post a comment