ہوم << خوشی اور غم کا میزان - ریاض علی خٹک

خوشی اور غم کا میزان - ریاض علی خٹک

زندگی کو ہم نے پانے اور کھونے کا میزان بنادیا، اپنی خوشیوں اور غموں کو اس میزان کے ساتھ ہم منسلک کر چُکے ہیں. جب خواہش پر کچھ پالیا تو خوش ہوگئے.. خوشی کا پلڑا جھک گیا. جب خواہش پر کچھ نہ ہوا تو غمزدہ ہوگئے، غم کا پلڑا جھک گیا. اس میزان کے تماشے نے اتنا مشغول کر دیا کہ بس ہم ہر وقت اسی میزان کو تول رہے ہوتے ہیں. اگر فرصت ملتی بھی ہے, کبھی آس پاس دیکھتے بھی ہیں تو زندگی کا مشاہدہ نہیں کرتے بلکہ تب بھی اسی میزان کی خوشی والے پلڑے کو وزن دینے کے لیے نگاہیں تلاش کرتی ہے.
بچپن میں انسان فطرت پر ہوتا ہے، وہ خوشی و غم کے میزان سے ناآشنا ہوتا ہے، تب وہ زندگی کی تلاش میں ہوتا ہے، اسے سمجھنے کی خواہش غالب ہوتی ہے. اس تلاش میں
اگر خوشی آئے تو بھی بے ساختہ ہوتی ہے اور روح تک اُتر جاتی ہے، دُکھ بھی بے ساختہ ہوتا ہے تو روح تک محسوس کرتی ہے. تب ہی بچپن یادوں کے خزانے کا سب سے انمول وقت ہوتا ہے.
شعور کے دور میں ہم اپنی خوشیوں کی بے ساختگی چھین لیتے ہیں. ہم تب خوش نہیں ہوتے بلکہ ہم خوشی بنانے کی کوشش کرتے ہیں. کبھی اپنی خوشی کو دولت کی شکل دے
دیتے ہیں، کبھی شہرت، کبھی طاقت، کھبی اقتدار. کبھی محبت، کبھی نفرت. یہ بنائی گئی خوشی تب وہ بےساختگی کھو دیتی ہے، وقتی لذت بھی مزید سے مزید کی تلاش اور
خواہش پر اپنا اثر کھو دیتی ہے، انسان اپنی تخلیق کا حجم طے نہیں کرپاتا اور زیادہ سے زیادہ کی حرص میں مبتلا ہوجاتا ہے، یہ بھول جاتا ہے کہ اپنی تخلیق کیے معیار کی جستجو میں متاع حیات جو خرچ ہو رہی ہے، وہ کسی اور ذات کی تخلیق ہے، جس نے اپنی تخلیق واسطے اس دُنیا میں ایک مخصوص وقت مقرر کیا ہوا ہے اور اس کاعلم بھی صرف اپنے پاس رکھا ہے.
تب ایک دن ایک لمحہ مقرر پر ایک دم بُلاوا آتا ہے، اور ہر چیز ہر حاصل یہاں ہی رہ جاتا ہے. زندگی کی کُل متاع چھوٹ جاتی ہے، اور ذات مکان بدل لیتی ہے. یہ ادراک کا وقت ہوتا ہے، انسان تب جانتا ہے کہ میزان جو میں نے سجایا تھا، اُس کے پلڑے خالی ہوگئے ہیں. ان میں سے ہر چیز یہاں رہ جانی ہے. اور جو میرا میزان ہے وہ تو اس اگلی منزل پر سجایا گیا ہے. ابدی زندگی کا میزان. پر وہ بھی کیا ویسے ہی ہے جیسا ہم نے بنایا تھا؟
اللہ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغام پہنچانے والے بھیجے جنہوں نے اللہ کا پیغام اور اس کا کلام انسان کو پہنچایا، وہ پیغام اسی میزان کی سمجھ کاہے. وہاں خوشی اور غم کے پلڑے نہیں، وہاں نیکی و بدی کے پلڑے ہیں. وہاں رحمان و شیطان کے منظور شدہ اعمال کے پلڑے ہیں. ہاں خوشی اور غم وہاں بھی ہے، اُس خوشی اور غم کی کیفیت بھی بچپن کی خوشی اور غم جیسی کہ روح اپنی مکمل احساس کے ساتھ اسے محسوس کرے گی. بچپن میں تو اس احساس کی صرف جھلک ہے. وہاں یہ تکمیل پر ہوگا. وہاں کے غم اور خوشی کی ڈور اعمال کے میزان کے ساتھ بندھی ہوگی نہ کہ خواہشات کے میزان کے ساتھ. یہ زندگی اور اس کے میسر پل اُس ابدی زندگی کے میزان واسطے ہیں نہ کہ چند دن کے اس سفر کے ہمھارے سجائے میزان کے ساتھ. اس چند روزہ مسافت میں علم و عقل کی معراج اسی میزان کی سمجھ ہے.

Comments

Click here to post a comment