کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کافی نہیں - ابن حجر

پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی غیر ملکی شہری انفرادی طور پر کسی جرم کا مرتکب ہو تو وہاں کی مقامی عدالت سے ملنے والی سزا کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے. لیکن اگر کسی شخص کے جرم کے پیچھے کوئی ریاست ملوث ہو تو پھر بات اس ایک شخص کو سزا دینے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ جرم کی نوعیت اور شدّت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی ریاست کے خلاف اقدامات کیے جاتے ہیں، ان اقدامات میں معافی اور زر تلافی کے مطالبات، معاشرتی و معاشی پابندیاں، حتیٰ کہ جنگ بھی شامل ہیں. ان اقدامات اور ان کی سختی کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ جس ریاست کے شہریوں کے ساتھ ظلم ہوا، وہ ریاست اپنے شہریوں کو کتنا اہم اور عزت کا حقدار سمجھتی ہے، کیونکہ کسی ریاست کی غیرت کا پیمانہ ہی یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے.

آج دہشت گردی کی جس دلدل کی وجہ سے ہمارا معاشرہ شدید مایوسی اور انتشار کا شکار ہے، قتل و غارت دیکھ کر لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں اور انارکی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی. اتنے بڑے پیمانے پر تسلسل کے ساتھ دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیاں کسی بہت بڑی اور مضبوط معاشی و لاجسٹک سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ہیں.

کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی کچھ خفیہ ایجنسیز نے اس سلسلہ میں ایک ایسے شخص کو ٹریس کیا جو بلوچستان اور دیگر صوبوں میں بہت سی دہشت گردی کے واقعات کا سرخیل تھا. یہ شخص کوئی عام شہری تھا نہ عام سرکاری ملازم تھا، بلکہ بھارتی فوج کا آفیسر تھا، اس نے انڈیا کی خفیہ تنظیم را کو باقاعدہ جوائن کر کے تربیت لی، 2003ء ایک جعلی نام مگر اصلی بھارتی پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان آ رہا تھا، اور براستہ ایران اس نے پاکستان میں ایک لمبے عرصہ تک دہشت گردی کے لاتعداد واقعات کروائے.

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ڈر گئے؟ ڈاکٹر شفق حرا

شنید ہے کہ جس وقت پریشان پاکستانی شہری دہشت گردی کے واقعات پر ’مولویوں‘ اور’اسلام‘ کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے سے لڑ بھڑ رہے تھے، اس وقت ان واقعات کا اصل محرک ہمارا دشمن ملک ہمارے اس انتشار اور بے بسی کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا.

اب موجودہ صورت حال میں جو شخص دہشت گردی کے پیچھے ایک بہت بڑا کردار ہو، اس کو تو سزا دینا واجب ہے ہی، لیکن کیا یہ سب اس شخص کا انفرادی فعل تھا؟ ہرگز نہیں، تو پھر اس ایک فرد کو پھانسی دے کر یہ سمجھ لینا کہ جیسے ہم نے اپنے دشمن سے بدلہ لے لیا ہے، درست نہیں ہے، کسی ذی ہوش شخص سے ایسی احمقانہ سوچ کی توقع نہیں کی جا سکتی. بدی کی طاقتوں کے اس کھیل میں کلبھوشن یادیو صرف ایک مہرہ تھا، اس مہرے کو پھانسی دے کر کافی سمجھ لینا ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی دشمن ملک سے آنے والے میزائل کے پھٹنے سے ہزاروں جانیں گنوا دینے کے بعد اس میزائل کے ٹکڑوں پر جوتے برسا کر خوش ہوتے رہنا اور یہ سمجھ لینا کہ ہم نے خوب بدلہ لے لیا ہے. ضروری ہے کہ اس کے سہولت کاروں کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے اور روایتی دشمن بھارت کو بھی اسی انداز میں جواب دیا جائے.