پچاس سالہ بوڑھا، جس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور چہرے پر جھریاں واضح نظر آتی تھیں۔ قمر دین گزشتہ بیس سال سے اُس فیکٹری میں کام کر رہا تھا۔ پہلے تین چار سال تو اُس...
ادبیات
راہداری میں جمیز بڑی بے چینی سے ادھر اُدھر چکر لگا رہا تھا۔ اس کے بال پریشان کن حد تک بکھرے ہوئے تھے۔ آنکھیں سرخ اور کپڑے میلے کچیلے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ...
ابو قاسم کے الفاظ ۔۔.۔ جو آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں پندرہ مئی انیس سو اڑتالیس۔ یہ دن ہر فلسطینی کے دل پر نقش ہے۔ تاریخ میں اسے نکبہ کہتے ہیں. تباہی، قیامت۔...
ایک عجیب طرح کا، بہت پرانا سا بوڑھا وہاں بیٹھا تھا اور آنے والوں کو غور سے دیکھتا تھا۔ اس کے ساتھ دو اور آدمی بھی تھے اور کوئی گپ شپ جاری تھی کہ ہم بھی وہاں...
“چلیں ابو!”، میرا بیٹا سر پہ ٹوپی جمائے تیار کھڑا تھا۔ “ابو!آج تو میں آپکے ساتھ صف میں کھڑا ہوں گا۔” اُس نے بٖڑے اعتماد سے کہا۔ اُس وقت...

