ہوم << احراریوں کی عیاشیاں , مجلس احرار کے سربراہوں کی عیاشیوں کی ذلت آمیز داستان (2)- عرفان علی عزیز
600x314

احراریوں کی عیاشیاں , مجلس احرار کے سربراہوں کی عیاشیوں کی ذلت آمیز داستان (2)- عرفان علی عزیز

قسط دوم

احراریوں نے مسلم لیگ کی راہ میں ، جہاں تک ممکن ہو سکا ، روڑے انکائے ۔ ان میں سے بعض مسلم لیگی امید واروں کے کاغذات نامزدگی کا استر داد بھی تھا۔ اندرو کے کاغذات نامزدگی کا استر داد بھی تھا۔ اندرون لاہور حلقہ میں مسلم لیگ کی طرف سے میاں امیر الدین اور بیرون لاہور حلقہ میں میاں عبدالعزیز مالواڈہ امیدوار تھے۔ دونوں کے کاغذات مسترد ہو گئے۔

اندرون لاہور حلقے میں ایک عام شہری ملک وزیر محمد نے بھی کاغذات جمع کرائے تھے۔ بہ قول آغا شورش کا شمیری وہ احرار کا رضا کار تھا اور اس نے کاغذات از راہ تفنن جمع کرائے تھے۔ مسلم لیگ نے اس سے بات کی اور وہ مسلم لیگی امیدوار بننے پر راضی ہو گیا۔ میاں امیر الدین کے کاغذات مسترد ہونے سے پاکستان دشمن ہندو کانگرس ، یونینسٹ پارٹی اور احرار میں خوشی کی جولہر دوڑ گئی تھی، ماند پڑ گئی، کیونکہ وز یر محمد کی کامیابی کے لیے مسلم لیگی امیدوار ہونا ہی کافی تھا۔ وزیر محمد ایک غریب آدمی تھا۔ اسے یونینسٹ امیدوار ملک محمد دین کے حق میں بٹھانے کے لیے ہندو سیٹھوں کی تجوریوں کے منہ کھل گئے۔ پنجاب کانگریس کے صدر مولانا داؤد غزنوی تھے۔ یونینسٹ پارٹی اور کانگریس کی طرف سے غریب مسلم لیگی امیدوار وزیر محمد کو جو ترغیب و تحریص دی گئی ، اس کے متعلق آغا شورش کا شمیری لکھتے ہیں۔ وزیر محمد کی تہی دامنی کو ترغییں دی گئیں تحریص کا رشتہ تہدید تک پہنچا، لیکن کوئی چیز بھی کارگر نہ ہوئی ، اس نے مظہر علی سے کہا میرے ایم ایل اے بن جانے سے آپ کا نقصان کیا ہے؟

تقدیر کا کھیل ہے اب میں اس لیے بیٹھ جاؤں کہ غریب ہوں ، اور ملک محمد دین اس لیے ہو جائے کہ دولتمند ہے، کونسی تُک ہے اس میں؟
یونینسٹ پارٹی نے وزیر محمد کو تقریبا پچیس ہزار روپے پیش کئے ، دومربعے زمین کالالچ دیا ، اس نے سب کچھ ٹھکرادیا مولا نا داؤد غزنوی نقد پچیس ہزار روپیہ لے کر گئے ، وزیر محمد نہ مانا، مولانا سے کہا۔ آپ لوگوں ہی نے کل تک یہ پڑھایا اور لکھایا ہے کہ پالیٹکس میں خود کو بیچنا سب سے بڑا گناہ ہے ، اب آپ خود ہی خریدنے کے لیے آئے ہیں، میں کسی کے ٹکٹ پر کھڑا نہیں ہوا تھا ، اپنے طور پر کاغذات داخل کیے تھے، اب اگر مسلم لیگ کا ٹکٹ لے لیا ہے اور کامیابی کے واضح آثار موجود ہیں تو آپ کے لیے اس میں کونسی خرابی یا خلل ہے۔مولانا نے اُس سے وعدہ لینا چاہا کہ وہ کامیابی کے بعد ان سے آملے گا لیکن اُس نے انکار کر دیا کہ یہ قرآن و اسلام دونوں کے منافی ہے، وہ چاہتا تو اس سے لگنی چوگنی رقم لے کر بیٹھ سکتا تھا ۔ اس نے ہر چیز سے انکار کیا ، اس نے اپنے تمام بزرگوں اور دوستوں سے کہا ” ہر غریب بکاؤ مال نہیں ہوتا،اور نہ ہر تنگ دست کو زیر دست کیا جا سکتا ہے۔( بوئے گل صفحات 335/334)۔

شورس کاشمیری پر حملہ
ہندو کانگریس کے ہم نوا نیشنلسٹ علما، جماعتوں اور لیڈروں میں یونینسٹ اور کانگریسی روپے کی ترسیل و تقسیم کے چشم آشنا شورش کا شمیری مزید لکھتے ہیں۔واقعات کا ایک انبار تھا جس نے میرے شیشۂ دل کو مکدر کر دیا تھا، ایک چیز جس نے میری عقیدت کو نفرت میں بدل دیا وہ ان کے حلقہ انتخاب میں جنڈیالہ گورو کے پولنگ اسٹیشن کا ہنگامہ تھا، میں وہاں قتل ہوتے ہوتے بچا۔مظہرعلی کو معلوم تھا کہ وہاں خون خرابہ ہوگا ، اپنے بیٹے خاقان بابرکو اسی باعث میرے ساتھ جانے سے روک دیا، ورنہ ہر جگہ کرتا دھرتا ان کے بیٹے تھے، کانگرس اور یونی نیسٹ پارٹی سے روپے کی بڑی بڑی قسطیں بھی انہی کی معرفت وصول کی تھیں، آج بھی اس ہوشربا تصور سے مجھ پر ایک کپکپی سی طاری ہو جاتی ہے۔دوسری چیز جو میرے نزدیک جماعت احرار کی ویرانی کا باعث ہوئی اور جس کا علم سب سے پہلے مجھی کو ہواوہ روپیہ تھا جو مظہر علی نے کانگرس اور یونی نسٹ پارٹی سے وصول کیا اور اپنے گھر میں رکھا تھا۔

مولانا داؤد غزنوی اولاً دس ہزار روپے کی پہلی قسط لے کر دفتر احرار میں آئے تو اس وقت مظہر علی کے پاس صرف میں تھا، مجھے کہا ذرا نیچے چائے کے لیے کہہ آؤ ، میں نیچے گیا۔ مولانا نے دس ہزار کے نوٹ غڑب سے جیب میں ڈال لیے، میں ابھی لوٹا نہیں تھا کہ مولانا داؤد غزنوی مسکراتے ہوئے نیچے آگئے، میں نے کہا مولانا چائے آ رہی ہے، کہنے لگے۔”چائے پی اور پلا آیا آؤں۔“ پچاس ہزار کی دوسری قسط ( تفصیل آگے آئے گی ) مولانا نے لالہ بھیم سین سچر کی معرفت وصول کی ۔یونی نسٹ پارٹی کا رو پید اس کے علاوہ تھا۔ (بوئے گل صفحات: 337 338 ) ۔آگے شورش صاحب کی تحریر میں قیصر مصطفی کا ذکر آرہا ہے۔ قیصر مصطفیٰ مولانا مظہر علی اظہر کے بڑے بیٹے تھے۔ اور شیخ صاحب سے مراد ہے، شیخ حسام الدین۔

چودھری ہری سنگھ لہری خضر وزارت میں کانگرس کی طرف سے وزیر بلدیات تھے۔ انہوں نے لاہور کارپوریشن کی خاص نشست کے لیے قیصر مصطفی کو نامزد کیا، قیصر اندر پہنچتے ہی میئر شپ کے امیدوار ہو گئے ، مقابلہ میاں امیر الدین اور نواب مظفر علی قزلباش کے چھوٹے بھائی ذوالفقار علی قزلباش میں تھا ، رسہ کشی اس نقطہ پر تھی کہ ایک ووٹ کا فرق تھا۔وزارت کا قیصر کے دوٹ پر استحقاق تھا، قیصر نے آنکھیں پھیر لیں کہ مجھے میئر منتخب کر دنہیں تو ووٹ امیر الدین کو دونگا اور یہی ہوا، اپنا ووٹ لیگ کو دے کر ذوالفقار کو ہرادیا ، جماعت نے قیصر کی اس حرکت پر مظہر علی سے استفسار کیا تو وہ جھنجھلا گئے۔
کہنے لگے۔ ”قیصر نے کونسی غلطی کی ہے؟ وہ کانگرس کا زرخرید نہیں ؟“

سوال زرکا نہیں ، زرتو آپ لے چکے ہیں ، سوال اصول کا ہے، اولا آپ نے صوبہ بھر میں لیگ کا مقابلہ کیا، ثانیاً قیصر کو وزارت نے نامزد کیا ہے، اُس کے امیدوار کو ووٹ دینا اس کا اخلاقی فرض تھا، پہلے وہ خود امیدوار کھڑا ہو گیا ، سودا کرنا چاہا، بات نہ بنی تو لیگ کو ووٹ دے کر پانسہ پلٹ والا ، احرار سے پوچھا تک نہیں، بلکہ الٹا احرار کے خلاف بغاوت کی ہے۔ شیخ صاحب نے کہا۔ یہ سن کر مظہر علی تیز ہو گئے۔کہنے لگے۔ ” قیصر نے جو کیا درست کیا ، وہ کسی سے فیصلہ لینے یا کوئی اس پر فیصلہ تھوپنے کا مجاز نہیں اور نہ اسے کسی نے خریدا ہے ۔“
شیخ صاحب بولے ۔”بہر حال اس کا فعل احرار کی رسوائی کا باعث ہوا ہے ۔ اس کو دو سال کے لیے جماعت سے خارج کر دینے کی تجویز آئی ہے۔“، مظہر علی بھڑک اٹھے، ڈنڈا اٹھا کر جانے لگے ، شاہ جی نے روکا۔ مولوی صاحب، کہاں جا رہے ہیں آپ؟ تشریف رکھیں آپ کے خلاف شورش نے کچھ الزام لگائے ہیں ۔ مولوی صاحب ٹھٹھک کر ٹھہر گئے۔

مظہر علی نے جہاں سے جو کچھ لیا تھا میں نے اس کی تفصیلات پہلے ہی قاضی احسان احمد کو بتادی تھیں، وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے، پھر مولوی غلام غوث کو آگاہ کیا انہیں تعجب ہوا کہنے لگے ثابت کر سکو گے؟ میں نے کہا ضرور فرمایا، نہ ہو سکا تو ؟ میں نے کہا تو مجھے جماعت سے نکال دیجیے گا، مولانا حبیب الرحمن کانگرس کی رقم کے راز دار اور حصہ دار تھے، انہوں نے ٹالنا چاہا مگر شورش بر پا ہو چکی تھی ۔ (بوئے گل صفحات۔342 343)۔
بوئے گل ، نالۂ دل ، دود چراغ محفل ۔ یہ کتاب شورش کا شمیری کی ان یادداشتوں کا مجموعہ ہے جو وہ اسی عنوان سے اپنے ہفتہ وار چٹان میں قسط وار لکھتے رہے۔ پیچھے شورش صاحب نے جو لکھا ہے کہ شاہ جی نے مولوی مظہر علی اظہر کو روکا، تشریف رکھیں ، آپ کے خلاف شورش نے کچھ الزام لگائے ہیں۔ ان الزمات کی تفصیل ہفتہ وار چٹان سے دی جارہی ہے۔ احراری مولویوں کو ہندو کانگریس اور انگریز کے پٹھو یونینسٹوں کی طرف سے ملنے والے روپے کے عینی شاہد اور احراری لیڈر شورش کا شمیری 107 ویں قسط میں لکھتے ہیں.

میں نے ترتیب وار چارج لگانے شروع کیے۔ کانگرس کا روپیہ ساٹھ ہزار ۔ دس ہزار کی ایک قسط اور پچاس ہزار کی دوسری قسط ۔ اور یونینسٹ پارٹی ابھی فقرہ پورا بھی نہ ہوا تھا کہ مولانا غلام غوث نے ایک ایک شق پر زور دیا۔ کچھ دیر تو سناٹا چھایا رہا۔ پھر سکوت ٹوٹا۔ مولانا نے تسلیم کیا کہ روپیہ لیا گیا ہے۔ لیکن اس وقت اُن کے ذہن میں صحیح یاد نہیں کہ یہ رقم کتنی ہے، بات صبح پر ملتوی ہوگئی ۔ مجھے صاحبزادہ فیض الحسن شاہ، مولانا مظہر علی اظہر کے مکان پر لے گئے ۔ رات وہیں کانی ۔ مولانا اس افشا کو برا خیال کرتے تھے اور مضطرب بھی تھے۔ لیکن وہ اختفا کے حق میں تھے۔ میں نے عرض کیا ۔ جب تمام لوگ آپ سے روپیہ لے چکے ہیں تو پھر وہ معصوم عن الخطا کیوں بنتے ہیں ؟ رات جو گزری سو گذری۔ صبح پھر وہی حیث بحث ، صاحبزادہ صاحب نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کہیں یہ کہہ دیا کہ شورش اپنے الزام واپس لیتا ہے۔ میں موجود نہ تھا۔ جب پہنچا تو مجھے حیرت ہوئی، خیر دوبارہ وہی قصہ چھر گیا۔ مولانا مظہر علی نے تسلیم کیا کہ رو پیہ لیا گیا ہے۔ لیکن اس کے سزاوار وہ تنہا نہیں بلکہ با قاعدہ مشورہ سے رقم قبول کی گئی ہے۔

پہلا دس ہزار روپیہ مولانا داؤد غزنوی نے دیا تھا اور شیخ حسام الدین اس وقت موجود تھے ۔ دوسری قسط بھی انہی حضرات کے مشورے سے حاصل کی گئی۔ یعنی شیخ حسام الدین نے مولانا حبیب الرحمن کو لدھیانہ خط لکھا کہ وہ کلکتہ میں کانگرس ہائی کمانڈ تک پہنچیں ۔ یہ خط لے کر خاقان بابر مولانا مظہر علی کے صاحبزادے لدھیانہ پہنچے۔ مولانا حبیب الرحمن کلکتہ گئے ۔ مولانا ابوالکلام ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ رقم دینے کو تیار ہو گئے مگر سردار پٹیل جو کانگرس کے خازن تھے۔ اس سے اختلاف کیا اور پچاس ہزار روپے کی رقم کا چیک لالہ بھیم سین سچر کی تحویل میں دیا گیا۔ جو اُن کی معرفت دفتر احرار میں پہنچا پھر اس رقم کی بندر بانٹ کی گئی ۔ وہ رقم جو یونینسٹ پارٹی سے وصول کی گئی اور جس کو یہ اختلاف مولانا نے تسلیم کیا اور وہ رقم جو دو چار ہزار بطور چندہ فراہم کی گئی۔ یہ تمام مل ملا کر پچھانوے یا پچاس ہزار بنتے تھے۔ جب مولانا مظہر علی نے بتایا کہ نواب زادہ نصر اللہ خاں کے سوا ورکنگ کمیٹی کے ہر اُمید وارممبر نے اُن سے روپیہ لیا ہے تو سب نے تسلیم کیا ۔

شیخ حسام الدین بھی مان گئے ۔ ماسٹر تاج الدین نے بھی سر ہلا دیا۔ مولانا حبیب الرحمن نے بھی صاد کیا۔ اس مجموعی رقم میں سے لے دے کر صرف میں ہزار بچتے تھے ۔ مولانا مظہر علی نے دس ہزار اپنے الیکشن کا صرفہ بتایا اور دس ہزار روپے کے متعلق کہا کہ وہ روزنامہ آزاد نکالنے کے لیے جمع رکھا گیا ہے۔ (حوالہ ہفت روزہ چنان لاہور ۔ 16 اپریل 1951 ء – بحوالہ: نیشنلسٹ علما اور تحریک پاکستان ۔ چودہری حبیب احمد ۔ صفحہ: 1015, 1016 – بار اول فروری 1966 ء ۔ ناشر: محمد حنیف رامے، البیان، چوک انار کلی ، لاہور ) ۔

احراری لیڈر کی ہوس
احراری لیڈر مولانا مظہر علی اظہر کی ہوس ختم نہ ہوئی۔کئی احراری لیڈروں کی طرح موصوف نے بھی الاٹمنٹوں سے خوب ہاتھ رنگے ۔ مال روڈ لاہور ، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے عقب میں جو 64 کنال ہندومتروکہ پراپرٹی الاٹ کرائی ، اولاد میں فساد کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پتہ نہیں کیا کیا کچھ الاٹ کرایا۔شورش صاحب نے بوئے گل، نالۂ دل ، دور چراغ محفل کے صفحہ 331 پر کانگریس کی طرف سے ملنے والی ایک قسط کے حوالے سے لکھا ہے کہ مولانا مظہر علی اظہر نے پچاس ہزار روپے مولانا ابوالکلام آزاد کی سفارش اور عنایت سے وصول کئے۔ اور یہ کہ مولانا حبیب الرحمن اس روپے کے راز دار تھے۔صفحہ 344 پر شورش صاحب لکھتے ہیں: ”مولانا حبیب الرحمٰن کانگرس کی رقم کے راز دار اور حصہ دار تھے ۔

اپنے ہفتہ وار چٹان میں شورش کا شمیری صاحب نے لکھا۔ جہاں تک کانگرس کے روپے کا تعلق ہے وہ تو خود مولانا حبیب الرحمن کے علم میں ہے بلکہ پچاس ہزار روپے کی قسط دلوانے کے حصہ دار ہی آپ تھے ۔ ( ہفت روزہ چٹان لاہور ۔ جلد شمارہ 16 – 16 اپریل 1951ء)۔ یہ کانگریسی روپیہ ہی تھا نا، جو مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے رگ و پے میں اس قدر سرایت کر چکا تھا کہ قائد اعظم ، مولانا شوکت علی اور مولانا ظفر علی خاں کے متعلق بھیا تک ہرزہ سرائی پر اتر آتے۔مثلاً مولانا ظفر علی خاں لکھتے ہیں۔میرٹھ میں مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی صدر مجلس احرار اس قدر جوش میں آئے کہ دانت پیتے جاتے تھے، غصہ میں آ کر ہونٹ چباتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ دس ہزار جینا اور شوکت اور ظفر جواہر لال نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جا سکتے ہیں ۔ (حوالہ : چمنستان ۔ از : ظفر علی خاں – صفحہ 165 – بار اول – 1944ء – پیشر یو نائنڈ ۔ چوک انار کلی لاہور ۔ قیام پاکستان کے بعد یہ کتاب چودہری عبد الحمید کے مکتبہ کارواں ، کچہری روڈ لاہور نے شائع کی۔حوالہ مذکور صفحہ 101 پر)۔

اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے بعد انہی مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے ساتھ یہی ہندو کانگریس کیا سلوک کرتی ہے؟ خود مولانا کی زبانی پیچھے اس کا ذکر آ چکا ہے۔
آغا شورش کا شمیری اپنی اس تصنیف کے باب ”مشاہیر سے ملاقاتیں“ میں گاندھی جی سے بھنگی کالونی دہلی میں ہونے والی اس ملاقات کا ذکر کرتے ہیں جس میں نوابزادہ نصر اللہ خاں ، انور صابری اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے بیٹے عزیز الرحمن بھی ان کے ساتھ تھے، بلکہ اس ملاقات کا ذریعہ عزیز الرحمن تھے۔ شورش صاحب گاندھی جی سے پوچھتے ہیں ۔
”نیشنلسٹ مسلمانوں کی ناکامی کا باعث کیا ہے؟“گاندھی جی کھلکھلا کر ہنس پڑے،

”میں سمجھتا ہوں ان میں کوئی شخص بھی فقیری کرنا نہیں چاہتا ، بلکہ فقیری سے اُٹھ کر شہنشاہی کر رہا ہے، تو می خدمت صرف فقیری کرنے ہی سے ہو سکتی ہے ۔“
میرا خیال ہے گاندھی جی کے ذہن میں اُس پچیس لاکھ روپیہ کی غارت زدگی کا احساس تھا جو عام انتخابات میں نیشنلسٹ مسلمانوں پر صرف کیے گئے ، لیکن بعض لوگ صرف روپے کے لیےامیدوار ہو گئے تھے۔ مال اینٹها ، ہڑپ کیا اور بیٹھ گئے۔ (بوئے گل صفحہ 386)۔

مجلس احرار کی جی بھر کر جس نےمٹی پلیدکی وہ بلاشبہ مظہر علی اظہر ہی تھے۔ کیوں۔۔؟ ۔۔ اس کے لب لباب اگلی قسط میں ان شاءاللہ تعالیٰ

(جاری ہے)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment