تیسری قسط
احرار کے شعلہ بیان مقرر شورش کاشمیری اپنی کتاب ”بوئے گل“ کے صفحات 243 میں بہ عنوان ”میری شادی “ میں لکھتے ہیں:
مولانا مظہر علی اظہر کی تحریک ، والد کے اصرار اور بہتوں کی خواہش پر مجھے سر جھکا دینا پڑا ، اور میں اپنی شادی کے لیے تیار ہو گیا ، اصل سوال روپے کا تھا اور میرے پاس یہی نہیں تھا۔مولانا مظہر علی اظہر نے ایک خاص رقم دینے کا وعدہ کیا جس کا انتظام مستری شمس الدین کے سپرد تھا، میں اس خیال میں تھا کہ مولانا رقم اپنے پاس سے دے رہے ہیں لیکن مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا جب میں نے یہ سنا کہ انہوں نے مختلف دوستوں سے چندہ لیا ہے۔
دنوں تک پریشان رہا، میرے اضطراب کا یہ حال تھا جیسے کسی نے انگاروں پر لٹا دیا ہو ، ممکن ہے راز ہی رہتا لیکن راز کھلا اس طرح کہ لاہور میں ایک بزرگ ملک محمد امین بیرسٹر تھے ، ایک دن سرِراہ مل گئے۔ فرمایا مولوی مظہر علی آپ کی شادی کے لیے آئے تھے۔ میں نے سو روپیہ دے دیا تھا، ان کا تو شکریہ ادا کیا۔لیکن مجھے سر بازار پسینہ چھوٹ گیا۔ زمین میں غرق ہونے کو جی چاہ رہا تھا۔ امرتسر میں ایک صحاب جمال الدین بٹ تھے۔ ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ میں ان کی دو ایک بسیں تھیں۔ مولانا نے ان سے بھی مدد مانگی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اپنے اس انکار کو بہت دنوں بعد جمال الدین بٹ نے خود مجھ سے بیان کیا۔ میں حیران رہ گیا کہ مجھ پر یہ سانحہ بھی گذر چکا ہے ۔میاں قمر الدین رئیس اچھرہ پہلے ہی شادی کے لیے پانچ سو روپیہ دے چکے تھے۔
میں ان سے ایک وفعہ ناراض بھی ہو گیا، میرا جوان بھائی اقبال ہر سانس کے ساتھ تیر تپ دق سے مر رہا تھا۔ شادی اُس کی موت کے انتظار میں رک گئی اور جب مرگیا تو ملتوی ہو گئی ، میاں صاحب نے ایک دن شادی کا ذکر چھیڑ دیا، اچانک ان کے منہ سے نکل گیا۔ پانچ سو روپے بھائی کی بیماری میں تو نہیں لگا دیے ؟ یہ الفاظ دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو گئے۔گھر لوٹ کر مستری شمس الدین کو بلوایا۔ انہی کے پاس وہ روپیہ تھا اُن سے کہا فوراً پانچ سو روپیہ میاں صاحب کو واپس کر آئیں ۔ وہ حیران رہ گئے، معاملہ کیا ہے ؟ آخر میرے اصرار پر میاں صاحب کو رقم لوٹا آئے۔ میاں صاحب بیمار تھے، مولانا مظہر علی دوڑے دوڑے آئے ، معلوم ہوا کہ میاں صاحب نے ان کو بلا کر ساری کتھا سنائی اور مجھے یاد کیا ہے۔مولانا مجھے کھینچ کھانچ کے ساتھ لے گئے۔، میاں صاحب نے سرزنش کی، گلا فرمایا اور معذرت چاہی، پھر دیر تک پر جاتے رہے، پانچ سو روپیہ مولانا کے حوالے کیا، انہوں نے مستری شمس الدین کو دے دیا ،میں دل برداشتہ تھا۔“
مسلم لیگ سے احرار کی دغابازی
1936ء میں مسلم لیگ، جمعیت العلماء ہند اور احرار میں اتفاق ہوا تھا، لیکن احرار نے معاہدے کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ کیوں؟ اس الیکشن کے بعد احراری لیڈر شیخ حسام الدین کی قائد اعظم کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے۔ قائد اعظم کہتے ہیں: ”حسام ! یہ آپ نے کیا کیا؟ ہمارے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا کہ الیکشن میں آپ ہمارے ساتھ چلیں گے ۔ اور عین وقت پر تم نے ہمیں Let down (مایوسں) کیا اور کانگریس کے ساتھ جا ملے ۔“ حسام الدین صاحب کہتے ہیں: ”سر ہمیں فنڈ ز کی کمی تھی“۔ اس پر قائد اعظم نے کہا: ” آپ فنڈز کی بات کرتے ہیں۔ فنڈز کی ضرورت کیا ہے۔ میں الیکشن کے لیے کھڑا ہوتا ہوں میرے صرف تین سو روپے خرچ آتے ہیں۔ میں تین سو روپے کے پوسٹ کارڈز خریدتا ہوں اور ہزاروں دوستوں کو لکھ بھیجتا ہوں کہ میں الیکشن لڑ رہا ہوں ، اگر آپ مجھے اس قابل سمجھیں تو اپنا وٹ دے دیں ۔ یہ چندالفاظ لکھ کے میں پوسٹ کارڈ ز بھیج دیتا ہوں ۔ ( دی گریٹ لیڈر ۔اردو ۔ جلد دوم ۔ صفحہ: 137 ۔ جون2012ء – پبلشر : آتش فشاں لاہور ) ۔
اب تک دستیاب معلومات کے مطابق محمد علی جناح کو سب سے پہلے قائد اعظم لقب سے جمعیت العلماء ہند کے رہنما مولانا احمد سعید دہلوی نے پکارا۔ احمد سعید کتنے مخلص اور ایماندار تھے ۔ یہ پڑھیے۔محمد امین زبیری لکھتے ہیں۔پھر انہوں نے لیگ کی حمایت میں دورے کئے اور 7 دسمبر 1936 ء کو اسی غرض سے مراد آباد کی جامع مسجد میں ایک وعظ کیا جس میں مسٹر جناح کی نسبت کہا کہ :
”آج مسلمانوں میں سیاست کو سمجھنے والا اس سے بہتر کوئی شخص نہیں لہذا مسلمانوں کے قائد اعظم ہونے کے بجاطور پر وہ مستحق ہیں ۔ “ ( سیاست ملیہ صفحہ: 253)۔
حسین ملک آل انڈیا مسلم لیگ کے جائنٹ سیکرٹری تھے۔ انہوں نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا: جمعیت العلماء ہند کانگرس کی ہم نوا تھی۔ دہلی کے زمانے میں مولوی احمد سعید سے اکثر ملاقات رہی۔ مولوی صاحب نیشنلسٹ تھے۔ ایک روز مولوی صاحب کی باتوں سے میں نے تاثر لیا کہ اگر انہیں ماہانہ ملتا رہے تو وہ مسلم لیگ میں آجائیں گے۔ میں نے قائد اعظم کو لکھا کہ اگر ہم ایسا انتظام کر دیں تو جمعیت العلمائے ہند میں شگاف پڑ سکتا ہے۔ قائد اعظم نے لکھا: بالکل نہیں ، ایک آدمی آج پیسے لے کر آپ کے ساتھ کام کرتا ہے کل کسی اور کے ساتھ ہوگا ۔ ( دی گریٹ لیڈر، جلد سوم ) ۔
یہ تھا عظیم راہ نما اور عظیم لیڈر کی لالچی اور ٹھگ بندوں کے بارے میں دل کی رائے .ایک دفعہ ایک آدمی نے قائد اعظم سے کہا۔: ” آپ بڑے دیانت دار ہیں ۔ قائد اعظم نے جواب دیا: یہ کوئی قابل فخر بات نہیں۔ یہ تو ہر شریف آدمی کا بنیادی وصف ہے۔ البتہ یہ چیز قابل داد ہوسکتی ہے کہ میں کسی کو خرید تا نہیں۔“
آغا شورش کے نام نہاد امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد جن کے متعلق شورش صاحب ” چٹان“ میں لکھا کرتے تھے۔ہندوستان میں امام ابن تیمیہ، اپنے اسی امام الہند اور ابن تیمیہ کے متعلق شورش جب گواہی دیتے ہیں کہ احرار کے روح رواں مولانا مظہر علی اظہر نے کانگریس کی طرف سے مولانا ابوالکلام آزاد کی سفارش اور عنایت سے پچاس ہزار وصول کئے اور یہ بھی کہ مولانا حبیب الرحمن کلکتہ گئے ۔ مولانا ابوالکلام ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ رقم دینے کو تیار ہو گئے مگر سردار پٹیل جو کانگرس کے خازن تھے۔ اس سے اختلاف کیا اور پچاس ہزار روپے کی رقم کا چیک لالہ بھیم سین سچر کی تحویل میں دے دیا گیا۔ جوان کی معرفت دفتر احرار میں پہنچا۔ پھر اس رقم کی بندر بانٹ کی گئی ۔�
آج کی جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان کتنا ہی حقائق سے دور بھاگتے رہیں۔ ان کے والد کا وہ جملہ قبر تو کیا قیامت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
”شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے جرم میں شریک نہیں ہوئے۔“
یہاں پر بس نہیں کیا۔ مفتی محمود اور مولوی یوسف بنوری نے مولوی شبیر احمد عثمانی کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان بنانے کے جرم کی پاداش میں قبر میں عذاب مل رہا ہے۔“ حوالہ دی گریٹ لیڈر79
عطاء اللہ شاہ بخاری نے لاہور جلسے میں ایک بار کہا۔
”پاکستان کا بننا تو بڑی بات ہے کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو پاکستان کی پ بنا سکے۔“( آزاد اور پاکستان صفحہ 10)
عطاء اللہ شاہ بخاری نے سوچا ہوگا ، ہندو جو معاشی، تعلیمی اور معاشرتی لحاظ سے بہت زورآور ہیں اور سکھ بھی اپنے روایتی اکھڑ پن سے قیام پاکستان کے کرخت بیری۔ مسلمانوں میں خاکسار بھی اسی شمار میں اور جمیعت علمائے ہند اور احرام ہندو کانگریس کی پورے خلوص کے ساتھ حاشیہ نشین ۔ مسلم لیگ میں ایسا کوئی مقرر و خطیب نہیں، جو مسلمانوں کو عشاء سے فجر تک خطیبانہ سحر سے بت بنائے رکھے اس لیے مسلمانوں کی اکثریت ہمارے ساتھ، اور ملک کے سیاہ و سفید کا مالک انگریز بھی قیام پاکستان کا کڑا دشمن، پاکستان بنے گا کیسے! اس لیے یہ راگ لاپنہ چاہیے ۔ جو علما ہندو کانگریس کے ساتھ تھے ان کی مالی دیانت ہم نے انہی کے ایک کڑیل پیرو کار آنا عبدالکریم شورش کا شمیری نور اللہ مرقدہ کی تحریروں سے بیان کر دی۔ انہی نیشنلسٹ علما کی حقیقت بینی اور سچ بیانی پر شورش کا شمیری لکھتے ہیں ۔نیشنلسٹ مسلمانوں کا متحدہ محاذ خواہاں تھا کہ وزارتی مشن سے اُن کی ملاقات ہو، چنانچہ مولانا ابوالکلام آزاد کی سفارش پر مولانا حسین احمد مدنی (صدر جمعیۃ العلماء ہند ) ، شیخ حسام الدین (صدر مجلس احرار اسلام) ، شیخ ظہیر الدین ( صدر مومن کا نفرنس ) اور خواجہ عبدالمجید (صدر مسلم مجلس) کا چار رکنی وفد 26 اپریل کو مشن سے ملا۔
اس ملاقات میں لارڈ پیتھک لارنس غیر حاضر تھے۔لارڈ ویول اثنائے گفتگو میں اُٹھ کر چلے گئے، سر کرپس کے استفسار پر ارکان وفد نے اپنا اپنا نقطہ نگاہ پیش کیا ، مولا نامدنی علیہ الرحمۃ کی ترجمانی کے فرائض حافظ ابراہیم نے انجام دیئے۔مولانا سے کرپس نے سوال کیا آپ کی جماعت کے متبعین کی تعداد کتنی ہے؟ مولانا نے فرمایا دو کروڑ ، شیخ ظہیر الدین نے کہا کہ وہ انصار کے رہنما ہیں، اُن کی تعداد کوئی ساڑے تین کروڑ ہے، خواجہ عبدالمجید نے دو کروڑ کے لگ بھگ اپنے ہم خیالوں کی تعداد بتائی ، شیخ حسام الدین نے کہا کہ احرار نے پنجاب میں پچیس فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ کرپس نے شیخ صاحب سے پوچھا آپ کے پیرو کار کتے ہوں گے؟ شیخ صاحب نے کہا پچاس لاکھ کر پس مسکرائے ، کہنے لگے آپ لوگوں نے اپنے اپنے پیرو کاروں کی جو تعداد بتائی ہے وہ مل جل کر آٹھ کروڑ بنتی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو مسٹر جناح کسی خطہ کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ ( بوئے گل ، نالۂ دل ، دود چراغ محفل ۔ صفحات: 353۔354 )
1946ء کے انتخابات ہو گئے۔ مسلم لیگ جیت گئی ۔ بہ قول آغا شورش کا شمیری’ گاندھی جی کے ذہن میں اُس پچیس لاکھ روپیہ کی غارت زدگی کا احساس تھا جو عام انتخابات میں نیشنلسٹ مسلمانوں پرصرف کئے گئے۔‘ (بوئے گل ص: 386 ) ۔
گاندھی اور عطاء اللہ ملاقات
اس احساس کی جھلک گاندھی اور عطاء اللہ شاہ بخاری ملاقات میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ شورش کا شمیری لکھتے ہیں کہ گاندھی جی نے شاہ جی کے لیے ایک دن کے وقفہ سے یہی پانچ بجے کا وقت دیا۔ (بوئے گل صفحہ: 388) ۔
جب ملاقات کا وقت کٹ گیا تو ہم نے شاہ صاحب کو اشارہ کیا کہ وقت ہو گیا ہے۔ گاندھی جی کی گھڑی میں دو منٹ باقی تھے ۔ شاہ جی نے کہا چھوڑو میاں ! میرے اور گاندھی جی کے درمیان وقت کی کوئی قید نہیں ۔ گاندھی جی ہنس کر چپ ہو رہے ۔ جونہی دو منٹ گزرے، گاندھی جی نے گھڑی اٹھائی۔اٹھ کھڑے ہوئے ۔“ (بوئے گل صفحہ: 389)۔ جو شخص عشا سے فجر تک گاندھی جی کے رام راجیہ کے لیے تقریریں کرتا رہا، جب اس نے بڑےمان سے کہا:
”چھوڑو میاں ! میرے اور گاندھی جی کے درمیان وقت کی کوئی قید نہیں تو گاندھی جی نے ، دو چار منٹ سہی ، رک کر بھری محفل میں اس کا بھرم رکھ لیا ہوتا۔ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا:
” شاہ جی ! میں آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ پرارتھنا کا وقت ہو گیا ہے اور میں جا رہا ہوں ۔ اور گاندھی جی لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ عزیز الرحمن نے گاندھی جی سے آٹو گراف لینا چاہا۔گاندھی جی نے کہا، پانچ روپے لاؤ۔ شاہ جی نے کہا، اس کے پاس پانچ روپے کہاں؟ گاندھی جی مسکرائے نہیں شاہ جی مولوی لوگ بہت زیادہ روپیہ کماتے ہیں۔ دستخط تو پانچ روپے ہی میں ملیں گے۔ شاہ جی نے اصرار کیا لیکن گاندھی جی اصول کے پکے تھے۔ آخر عزیز الرحمن نے پانچ روپے پیش کئے ، اور گاندھی جی نے اردو میں لکھ دیا کہ گاندھی ۔ ( بوئے گل صفحہ:389)۔ مولوی لوگ بہت زیادہ روپیہ کماتے ہیں ۔“ یہ گاندھی جی کا کس طرف اشارہ تھا۔ اُس 25 لاکھ روپیہ کی غارت زدگی کا احساس۔
بہر حال ، گاندھی جی نے یہاں بھی شاہ جی کی نہ مانی۔ گاندھی جی کے اس رویے سے یہ موقف قوی ہوتا ہے کہ کانگریس ان علمائے حق کو روپے کے زور پر مسلم لیگ کے خلاف استعمال کرتی رہی۔وقت گزر گیا ، تو کون ، میں کون ! اس کی تصدیق بھی آغا شورش کا شمیری کی زبانی۔ وزارتی مشن کے دنوں میں احرار اور جمعیۃ العلماء نے مل کر ہندو مسلم تصفیہ کے لیے ایک فارمولا تیار کیا جو وزارتی مشن کے علاوہ گاندھی جی کو بھی پیش کیا اس فارمولا کا نام مدنی فارمولا تھا، کانگرس نے کوئی جواب نہ دیا، جب مولانا حفظ الرحمن اور شیخ حسام الدین نے ورکنگ کمیٹی سے استفسار کیا تو گاندھی جی نے انہیں بلا کر نہ صرف فارمولا مسترد کر دیا بلکہ فرمایا کہ اس سے پاکستان بہتر ہے آپ لوگ لیگ میں شامل ہو جا ئیں تو زیادہ اچھا ہے۔ (بوئے گل صفحہ 315 )۔
آخری قید کے سات برسوں میں ایک چیز جس نے مجھے خیالات کے اتار چڑھاؤ میں مدردی وہ کانگرس کے ہندو رہنماؤں کی اجتماعی ذہنیت کا مطالعہ تھا، عام سوشلسٹوں اور عام کمیونسٹوں کو چھوڑ کر کانگرس کے ہندو رہنما با طبع ہندو تھے وہ مسلمانوں کو بہرحال پسند نہیں کرتے تھے، کانگرس میں بلاتے ضرور لیکن دروازے بند رکھتے تھے۔ اس کا اندازہ میں نے صاف صاف کر لیا تھا کہ ان کے لیے کسی شخص کا مسلمان ہونا ہی تنفر کا باعث ہے، مولانا ابوالکلام آزاد کانگرس کے صدر تھے لیکن پنجاب کے کانگرسی رہنما انہیں بڑی سے بڑی تنقید کا ہدف بناتے ، میاں افتخار الدین صرف مسلمانوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معتوب رہے ، حالانکہ انہیں اسلام سے کوئی خاص تعلق نہ تھا۔ کوئی ادنی و اعلیٰ مسلمان ان کی نگاہ میں محبوب و محترم نہ ہو سکا، ان کے نزدیک احرار اور بھی معتوب تھے، اس لیے کہ احرار کے ساتھ اسلام کا لفظ لگا ہوا تھا، وہ شیام پر شاد مکر جی اور ساورکر کوتو قومی ہیرو سمجھتے تھے لیکن عطاء اللہ شاہ اور حسین احمد مدنی کو نہیں ان کے ذہن میں نیشنلزم کے معنی خود سپردگی کے تھے۔
اسی زمانہ میں آچاریہ کر پلانی نے ایک مضمون لکھا تھا کہ انڈین نیشنل کانگرس گاندھی جی کے فلسفہ و فکر کانام ہے، اور جو شخص گاندھی جی کا پیرو نہیں وہ کانگرسی ہی نہیں۔( بوئے گل صفحہ 241)۔ اس زمانے ہی میں روزنامہ آزاد نکالا، شیخ حسام الدین نیوز پرنٹ کا کوٹہ بڑھانے کے لیےسول سپلائی کے وزیر را جگو پال اچاریہ سے ملے اور ان سے ذکر کیا کہ پنجاب میں نیشنلسٹ مسلمانوں کا ایک ہی روز نامہ ہے تو اچاریہ نے ان سے کہا۔
نیشنلسٹ مسلمان تو سارے ہندوستان کے لیے پرابلم بن گئے ہیں۔ ( بوئے گل صفحہ 371 ) ۔ میں نے آزاد میں سخت سے سخت اداریے لکھنا شروع کئے ، ہندو نیشنلزم کی قلعی کھولی ، خود میرے ساتھی مجھ سے ناراض ہو گئے۔“ ( بوئے گل صفحہ 478)۔بوئے گل صفحہ 212 پر شورش کاشمیری نے لکھا ایک مرتبہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے سلام کے مصافحہ کرنا چاہا تو بخاری نے سرد مہری دیکھائی۔
یونی نسٹ کا چراغ گل
جون 1937ء میں قائد اعظم محمد علی جناح پنجاب مسلم لیگ کا پارلیمانی بورڈ قائم کرنے لاہور آئے اس وقت یونی نسٹ پارٹی کا زور فل قوت میں بج رہا تھا۔ ٹرین جب اسٹیشن پر رکی تو قائد اعظم نے جیسے پلیٹ فارم پر قدم رکھا تو لائٹ چلی گئی ۔ تو قائد اعظم نے برجستگی سے کہا۔
دیکھا میرے آنے سے لاہور میں یونی نسٹ پارٹی کا چراغ گل ہو گیا۔



تبصرہ لکھیے