انسان کا سب سے بڑا المیہ جسمانی قید نہیں، بلکہ وہ غیر مرئی زندان ہے جسے وہ اپنی ہی سوچ، خوف اور عادتوں کی اینٹوں سے خود تعمیر کرتا ہے۔ یہ زندان آہنی سلاخوں سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی دیواریں روزمرہ کی بے حس تکرار، نامعلوم کے خوف اور عافیت پسندی کی اس مہلک آسودگی سے استوار ہوتی ہیں جو رفتہ رفتہ روح کی حرکی توانائی کو سلب کر لیتی ہے۔
انسان اکثر ایک مانوس اذیت کو ایک اجنبی آسودگی پر صرف اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ مانوسیت اسے تحفظ کا سراب عطا کرتی ہے، حالانکہ یہی سراب اس کی پرواز کی سب سے بڑی زنجیر بن جاتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سکون اور جمود میں وہی فرق ہے جو زندگی اور تعطل میں ہوتا ہے۔ کائنات کا ہر ارتقا کسی نہ کسی دائرے کے انہدام سے جنم لیتا ہے۔ کوئی ستارہ اپنی کشش کے خلاف پھٹ کر ہی نئی کہکشاؤں کی بنیاد رکھتا ہے، کوئی بیج اپنی خول نما قید کو چاک کیے بغیر درخت نہیں بنتا، اور کوئی دریا اپنے کناروں سے ٹکرائے بغیر سمندر تک نہیں پہنچتا۔ یہی قانون انسان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ عادتوں کے ثقلی دائرے سے باہر نکلنا محض ایک فیصلہ نہیں بلکہ اپنے اندر اور باہر کی تمام مزاحم قوتوں کے خلاف ایک شعوری جہاد ہے۔ جس طرح زمین کی کشش سے نجات کے لیے راکٹ کو غیر معمولی رفتار اور بے پناہ ایندھن درکار ہوتا ہے، اسی طرح ذہنی، سماجی اور معاشی جاذبیت سے آزادی کے لیے انسان کو ارادے کی ایسی آگ درکار ہوتی ہے جو ہر خوف کو راکھ بنا دے۔
یہ ایندھن کسی بازار میں دستیاب نہیں ہوتا، نہ کسی نصیحت سے منتقل ہوتا ہے۔ یہ انسان کے باطن میں سلگنے والی بے قراری، مقصد کی صداقت اور خوابوں کی حرارت سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اندر کی آگ باہر کے ماحول کی سرد مہری پر غالب نہ آ جائے، تب تک جمود کی دیواریں قائم رہتی ہیں اور امکانات کے دروازے بند رہتے ہیں۔ جب انسان اپنے مانوس دائرے سے باہر قدم رکھنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا پہلا سامنا نامعلوم کے خوف سے ہوتا ہے۔ یہی خوف انسانی نفسیات کا قدیم ترین محافظ بھی ہے اور سب سے بڑا قیدبان بھی۔ یہ ناکامی کے اندیشوں، لوگوں کی آرا اور تنہائی کے وسوسوں کو اس کے سامنے اس طرح کھڑا کر دیتا ہے جیسے منزل سے پہلے ہی شکست مقدر ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خوف کی طاقت حقیقت سے نہیں بلکہ ہمارے تصور سے جنم لیتی ہے۔ پہلا قدم اٹھتے ہی اس کا بیشتر جادو ٹوٹ جاتا ہے۔
اس مرحلے پر انسان کو بیرونی سہاروں سے زیادہ اندرونی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
خود شناسی وہ چراغ ہے جو نامعلوم کے اندھیروں کو روشن کرتا ہے، اور یقینِ محکم وہ قوت ہے جو خوف کو امکانات میں تبدیل کر دیتی ہے۔ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیتا ہے اور یہ شعور حاصل کر لیتا ہے کہ ناکامی انجام نہیں بلکہ ارتقا کا زینہ ہے، تب راستے کی ہر دشواری مقصد کی عظمت کے سامنے ہیچ محسوس ہونے لگتی ہے۔
تاریخ کا ہر روشن باب ان لوگوں کے نام سے منور ہے جنہوں نے اپنے عہد کے مسلط شدہ دائروں کو توڑنے کی جسارت کی۔ انہوں نے صرف اپنی تقدیر نہیں بدلی بلکہ آنے والی نسلوں کی تقدیر کے امکانات بھی ازسرِ نو لکھ دیے۔ ایک محروم گھرانے کا بچہ جب خواب دیکھنے کی جرأت کرتا ہے تو وہ دراصل وراثت میں ملنے والی محرومی کے خلاف پہلا فکری اعلانِ بغاوت کرتا ہے۔ اسی لمحے تاریخ کا دھارا تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے، کیونکہ ہر بڑی تبدیلی پہلے ایک انسان کے باطن میں جنم لیتی ہے، پھر معاشروں کی تقدیر بن جاتی ہے۔
زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ افق ہمیشہ ان لوگوں کے لیے وسیع ہوتا ہے جو کششِ عادت کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ خطرات سے فرار انسان کو محفوظ تو رکھ سکتا ہے، مگر عظیم نہیں بنا سکتا۔ عظمت ہمیشہ انہی قدموں کی رفیق بنتی ہے جو خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ بالآخر انسان پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ جسے وہ برسوں اپنی قسمت، حالات یا معاشرے کی قید سمجھتا رہا، وہ دراصل اس کی اپنی فکر کی محدودیت تھی۔ قید خانے باہر کم اور انسان کے اندر زیادہ ہوتے ہیں۔ جب شعور ان باطنی دیواروں کو منہدم کر دیتا ہے تو امکانات کی پوری کائنات اس کے سامنے اپنے در وا کر دیتی ہے۔ آزادی کوئی عطیہ نہیں جو زمانہ کسی پر نچھاور کر دے، نہ ہی یہ حالات کی مہربانی کا نام ہے۔ آزادی وہ گوہرِ نایاب ہے جسے انسان اپنے یقین، جرأت، مسلسل ریاضت اور بے خوف فیصلوں کی آگ میں تپا کر خود کشید کرتا ہے۔ جو لوگ خواب دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی خوابوں کو حقیقت کا لباس پہناتے ہیں؛ اور جو کششِ عادت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں، وہی آنے والے زمانوں کے لیے نئے آسمان دریافت کرتے ہیں۔



تبصرہ لکھیے