سراج احمد تنولی کی کتاب "بات کر کے دیکھتے ہیں" - نقاش احمد

انٹر میڈیٹ کے بعد جہاں تمام دوستوں کی دوڑ یونیورسٹی کے ان شعبوں کی طرف لگ گئی جہاں سے نوکری کا حصول آسانی سے ہو وہیں سراج احمد سائنس کی اہم فیلڈ کو خیر آباد کہہ کر ہزارہ یونیورسٹی میں " Mass and media studies " کے ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیتے ہیں۔ یہ محض کوئی اتفاق نہیں ہوتا بلکہ اسکے پیچھے ایک جنون...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com