ہوم << سرقہ - نورین تبسم

سرقہ - نورین تبسم

چہرہ انسان کے جسم کا آئینہ ہوتا ہے اور لفظ اُس کی سوچ کی پرتیں کھولتے ہیں۔ جسمانی طور پر قریب آنے والے ہمارا چہرہ پڑھ کر ہماری شخصیت کا تانا بانا بنتے ہیں۔ ہمارا لہجہ، ہماری آواز دیکھتے ہیں، ہماری طلب جانچتے ہیں، کبھی گزر جاتے ہیں، کبھی ٹھہر جاتے ہیں۔ جبکہ سوچ سفر کے ساتھی ہمارے لفظوں سے ہمارا چہرہ تراشتے ہیں۔ اُس میں اپنے فہم یا اپنے دل کی آواز کے مطابق رنگ بھرتے ہیں۔
ایک چہرہ انسان کے دل کا بھی ہوتا ہے جس تک رسائی ہر ایک کے بس کی بات نہیں، اور نہ ہی ہر ایک کو اسے چھونے کا اختیار ملتا ہے۔ مادی وجود کا چہرہ ہو یا لفظ سے شخصیت کی پہچان، ہر دو چہروں کا اصل میک اپ کی دبیز تہوں میں بڑی کامیابی سے چھپایا جا سکتا ہے۔ ایک نیا چہرہ اتنی کامیابی سے نظروں کو چکاچوند کرتا ہے کہ اصل نقل کا فرق پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔
اپنی روزمرہ زندگی میں ہم اس جادوئی میک اپ کے کرشمے دیکھتے رہتے ہیں، بس ”پیسہ پھینک تماشہ دیکھ“ والی بات ہے۔ جیسے ایک نئی زندگی کا آغازکرنے کے لیے سب سے پہلی خواہش، پہلی طلب اپنےاصل چہرے کو چھپا کر عارضی چمک دمک سے آراستہ کرنے کی ہوتی ہے۔ وہ چہرہ جس کی زندگی محض رنگوں، روشنیوں اور جانےانجانے لوگوں کی اچھی یا بری نظر کے چند گھنٹوں پرمحیط ہوتی ہے۔ دھلائی کے بعد جب اصل چہرہ سامنے آئے اور وہ بالکل الٹ ہو تو پھر صرف سمجھوتے کا غازہ ہی کام کرتا ہے۔ یہ انسانی فطرت بھی ہے کہ ہم ہمیشہ اپنی اصل شخصیت کی کمتری کے احساس میں مبتلا رہتے ہیں اور اس سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ”لوگ صرف ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں“۔
لفظ لکھنے کے لیے، لفظ بولنے کے لیے بھی بناؤ سنگھار کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں۔ کہیں روٹی روزی کا سوال ہے، کہیں دنیاوی امتحانات میں کامیابی معیار ہے، تو کہیں اپنے جذبہ خودنمائی کی تسکین مقصود ہے۔
لفظ کہانی چہرہ کہانی کی طرح ہوتے ہوئے بھی اس سے یوں مختلف ہے کہ لفظوں کی ملمع سازی ہرکس و ناکس کی گرفت میں نہیں آتی۔ بعض اوقات نسلیں گزرجاتی ہیں، صدیاں بیت جاتی ہیں، اس جادو کا توڑ کبھی نہیں ملتا۔ کھرے اور سچے لفظ اپنا مقام رکھتے ہیں۔ حال میں جگہ نہ بھی بنا پائیں، آنے والے وقتوں میں تاریخ کا حصہ بن کر اوراق میں زندہ رہتے ہیں۔ شاید کسی کی یاد میں جگنو کی چمک بن کر یا پھر کسی بوسیدہ ڈائری میں سوکھے ہوئے پھولوں کےنشان کی صورت۔ اور اگر کچھ نہ بھی ہو تو لکھنے والے کو دلی سکون دیتے ہیں۔ اپنے وجود کی شناخت کا ہنر عطا کرتے ہیں۔
آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ لفظوں کی چوری پکڑنے کے جدید ترین طریقے دستیاب ہیں، جو چند لمحوں میں ہی سب کچا چٹھہ سامنے لے آتے ہیں۔ لیکن اس چوری کو ابھی صرف نصاب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ طالب علم کی ذہنی استعداد کا اندازہ لگانے کے لیے کہ کسی مضمون کو لکھتے وقت کہاں تک اُس کا تخلیقی جوہر سامنے آیا ہے۔ یہ حیرت انگیز سافٹ وئیر بہت کمال کی چیز ہے۔ اساتذہ اس کی مدد سے لمحوں میں لفظ کی چوری پکڑتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے ”ذہین“ طالب علم اس کا بھی توڑ نکال ہی لیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ”پلیجریزم“ بہت بڑا جرم ہے اور اگر اس کا ذرا سا بھی شائبہ ہو جائے تو لکھنے والے کا پورا کیریر داؤ پر لگ جاتا ہے۔
ادب کے حوالے سے اور خصوصاً اردو ادب میں شاید ہی کسی نے اس سافٹ وئیر کو استعمال کیا ہوگا۔ صرف پڑھنے والے کا احساس ہے جو کسی کی تحریر پڑھتے وقت ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر اس تجربے سےگزرتے ہیں جب کسی کے لکھے لفظ یوں لگیں کہ پہلی بار سے پہلے بھی کہیں اور پڑھے ہوں۔ یہ بات، یہ خیال حق ہے بالکل اسی طرح جیسے کسی انجان کا چہرہ بہت شناسا بہت اپنا اپنا سا لگے اور ذہن پر زور ڈالنے کے بعد بھی یاد نہ آئے کہ اس سے پہلے کب اور کہاں ملے تھے۔
اصل چہرے کا بناؤ سنگھار کسی حد تک جائز ہے کہ یہ انسان کی چاہنے اور چاہے جانے کی فطری خواہش اور طلب بھی ہے، مگر کسی اور کے لفظ سے اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑا جرم ہے جو علمی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ جرم جو ایک فن ہے اور پکڑنے والے جب تک ثبوت نہ ہو شک اور یقین کے درمیان معلق رہتے ہیں۔ حقیقت صرف لکھنے والا ہی جانتا ہے اور پڑھنے والا اپنے گمان کو حقیقت سمجھتا ہے۔
آخری بات
مطالعہ بےشک علم حاصل کرنے کا راستہ ہے لیکن لکھنا ایک الگ صلاحیت ہے جو آمد کی مرہونِ منت ہے، آورد کی نہیں۔ پلیجریزم یعنی سرقہ پڑھنے والے کی اصطلاح ہے لیکن اُس اصطلاح کو کیا نام دیا جائے جب لکھنے والے کواپنا احساس، خیال یا اسی طرح کا نفس ِمضمون خود لکھنے کے بعد بہت جلد کہیں اور لکھا مل جائے۔ روزمرہ کے اخباری کالم میں، کسی پرانے اخبار میں، کسی الماری میں رکھی پرانی کتاب میں اور یا پھر میڈیا کی رنگین دُنیا میں کہیں بھی سماعتوں کو چھو جائے، اور حد تو یہ ہے کہ کسی کو فی البدیہہ سنتے وقت اپنا خیال، اپنے لفظ اس کی زبان سے ادا ہو جائیں۔ اس لمحے دل تشکر کے بس ایک ہی احساس کا ورد کرتا ہے۔ وہ ہے ”مہر“، ”سند“ جسے دُنیا کا کوئی بھی انسان دینے کی اہلیت نہیں رکھتا، اور یہی احساس شوقِ سفر کو مہمیز کرتا ہے، اپنے اندر کی دُنیا کی وسعتیں کھوجنے پر اُکساتا ہے اور اپنی ذات پراعتماد بھی قائم رکھتا ہے۔

Comments

Click here to post a comment