ہوم << سکینڈلز کی تشہیر جائز کیوں نہیں ہے؟ حنا تحسین طالب

سکینڈلز کی تشہیر جائز کیوں نہیں ہے؟ حنا تحسین طالب

معاشرتی زندگی میں بارہا مختلف قسم کے سکینڈلز سامنے آتے رہتے ہیں، اور میڈیا کی بدولت جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل جاتے ہیں، شاید ہی کوئی گھر اس فتنے سے محفوظ رہ پاتا ہو، چھوٹا بڑا ہر ایک میڈیا کے غیر محتاط رویے کی بدولت اس موضوع پر اپنی معلومات میں اضافہ کرتا ہے جو کہ برائی ہی کی طرح خطرناک ہے۔
سورۃ النور میں اس طرح کے سکینڈلز اور معاشرے میں اس کے ردعمل کے متعلق بہت واضح احکامات موجود ہیں. اس حوالے سے شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کہیں ایسے گناہ کا ارتکاب ہوا ہے تو قصور وار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، لیکن اگر ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث مجرم کو سزا دینا ناممکن ہو تو پھر خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ اس سے معاشرے میں خرابی عام ہوتی ہے، بظاھر حکمت یہی نظر آتی ہے کہ جب گناہ بغیر سزا کے سامنے آتے ہیں تو لوگوں کے دل سے ان کی قباحت ختم ہونے لگتی ہے۔
جب اس طرح کا کوئی سکینڈل سامنے آئے تو ایک ذمہ دار اور با اخلاق فرد کا رویہ شریعت کے مطابق کیسا ہونا چاہیے، اس حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں.

  1. مؤمنوں کو صاف باطن رہنا چاہیے اور دوسرے مسلمان سے اچھا گمان رکھنا چاہیے. کم از کم وہ خیال کرنا چاہیے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو کیا یہ کام کرتا؟ کیا میں ایسا عمل کر سکتا ہوں؟ جب وہ خود کو ایسے قبیح فعل کے لائق نہ پائیں تو دوسرے کے متعلق بھی یہی گمان رکھنا چاہیے کہ وہ بھی یہ نہیں کرسکتا. (النور:آیت 12، مفہوم). یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق مؤمن کی حرمت بیت اللہ سے بھی زیادہ ہے، یہاں تک کہ اس کے ساتھ برا گمان بھی جائز نہیں.

  2. ایسی بے ہودہ بات کو سنتے ہی کہہ دینا چاہیے کہ ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا بھی زیب نہیں دیتا. ( مفہوم، النور: 16) یعنی اگر کوئی ایسا سکینڈل ڈسکس کرے بھی تو ہمیں یہی کہنا ہے کہ ہمیں ایسی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا کیونکہ یہ ایک مسلمان کے شایان شان نہیں کہ ایسے گناہوں کا ذکر بھی کرے، نہ ہی زبان سے بول کر اور نہ ہی لکھ کر. صحیحین میں ہے کہ ”انسان بعض مرتبہ خدا کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ گزرتا ہے جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی (یعنی وہ اسے کوئی بڑی بات نہیں سمجھتا) لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے کے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے.“ ( بخاری)

  3. تیسری تنبیہ اس حوالے سے یہ ہے کہ جو شخص کوئی ایسی بات سنے، اسے اس کا پھیلانا حرام ہے. یہ انسانی کمزوری ہے کہ ایک بات سن کر بغیر تحقیق کے اور بلاضرورت آگے پہنچا دیتا ہے. اس بارے میں ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ”انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے پہنچا دے. اشاعت فحش کی کوئی بھی صورت ہو، ایسا کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت کا عذاب ہے. (مفہوم، النور: آیت 19)

الغرض ایسے موقع پر انتہائی محتاط رویہ اپنانا چاہیے، ہماری زبان کی ذرا سی غلطی دوسرے انسان اور خود ہمارے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، غلاظت اپنی ہو یا دوسرے کی اس میں اپنے ہاتھ آلودہ نہیں کیے جاتے، جس مکھی کا ذوق غلاظت پر بھنبھنانا ہو وہ معاشرے میں صرف بیماریاں ہی پھیلا سکتی ہے.
ہاں! اگر جرم ثابت ہو جائے تو ایسی کڑی سزا دینی چاہیے کہ ایک کو سزا ہو اور سینکڑوں کو عبرت، مگر اس سے قبل معاشرے میں ایسی ہیجان انگیز خبروں کو عام کرنا کسی طور درست نہیں. حدیث میں ہے ”بندگان رب کو ایذا نہ دو، انھیں عار نہ دلاؤ. ان کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو. جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا، اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑ جائےگا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے.“ (احمد)

Comments

Click here to post a comment