ہوم << دو قومی نظریہ اور وطنیت: کیا قومیں وطن سے بنتی ہیں؟ محمد زاہد صدیق مغل

دو قومی نظریہ اور وطنیت: کیا قومیں وطن سے بنتی ہیں؟ محمد زاہد صدیق مغل

زاہد مغل ایک بھائی نے بھارت اور پاکستان کی حالیہ کشیدگی میں دونوں طرف کے مسلمانوں کا اپنے اپنے دیش کے حق میں دوسرے کے خلاف بیان بازی کرنے سے دو قومی نظرئیے پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے دو قومی نظریے کے مقابلے میں دی جانے والی اس تاریخی رائے کو وزنی قرار دیا ہے کہ ”قومیں وطن سے بنتی ہیں نہ کہ مذہب سے۔“ مگر یہ نتیجہ کچھ مزید غور و خوض کا متقاضی ہے۔
دو قومی نظریے میں اصولا جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا طرز زندگی الگ ہے اور اس بنا پر انہیں یہ حق ہے کہ اپنی مرضی کا طرز زندگی اختیار کرنے کا بندوبست کریں۔ برصغیر کے مخصوص حالات کے تناظر میں یہ رائے رکھنے والوں کا خیال تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد جمہوری اصولوں کے مطابق یہاں ہندو نہ صرف مستقل اکثریت بن جائیں گے بلکہ مسلمانوں کی تاریخ کے پیش نظر مسلمانوں کے ساتھ انکے اچھے رویے کی امید بھی کم تھی جس کے کچھ مظاہرے تقسیم بنگال اور بہت سے دیگر معاملات میں سامنے آچکے تھے۔ لہذا انہوں نے یہ کہا کہ جہاں جہاں مسلم اکثریتی علاقے ہیں وہاں مسلمانوں کی الگ ریاست قائم کردی جائے۔
اب رہی یہ بات کہ قومیں تو بنتی ہی وطن سے ہیں اور اس کی دلیل کے طور پر جنگ میں دو ریاستوں کے مسلمان باسیوں کے آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے کو پیش کیا جائے تو یہ بات ان معنی میں درست نہیں کہ اس طرح تو پہلے بھی ایک مسلم بادشاہ کے مسلم فوجی دوسرے بادشاہ کے مسلم فوجیوں سے لڑا کرتے تھے، تو کیا اب یہ کہا جائے کہ قومیں بادشاہوں سے بنتی ہیں؟ فرد کس چیز کو اپنی بنیادی شناخت قرار دے کر یا کسی مفاد سے مغلوب ہوکر لڑنا شروع کردے گا، ظاہر ہے عملی دنیا میں اس پر بہت سے عناصر کارفرما ہوسکتے ہیں جس میں سے کچھ غلط اور کچھ درست ہوسکتے ہیں۔ جہاں وطن کو سب سے اعلی ترین خیر بتانے والا ڈسکورس کار فرما ہو وہاں فرد یقینا اس سے متاثر ہوکر غلط ترجیحات اختیار کرسکتا ہے۔
پھر جن حضرات کا یہ دعوی ہے کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں انہیں اس سوال کا جواب بھی دینا چاہیے کہ وطن کس چیز سے بنتے ہیں؟ یعنی یہ کس عقلی اصول سے طے ہوتا ہے کہ انسانوں کا یہ ایک خاص مجموعہ جو چند فرضی جغرافیائی لکیروں میں مقید ہے یہ ایک وطن کے باسی ہوں گے اور ایسا ہونا ہی حق ہے؟ آخر اس بات کی کیا دلیل ہے کہ برصغیر میں متعدد زبانیں بولنے والے، مختلف عادات و اطوار و ثقافت رکھنے والے، مختلف رنگ و نسل والے سب لوگ ایک قوم بن کر ایک وطنیت کی بنیاد قائم کرتے ہیں؟ پرسوں تک افریقا ایک وطن تھا تو وہ ایک قوم تھے، کل وہ جنوبی اور شمالی میں تقسیم ہوگئے تو بعینہ ایک ہی تاریخ کے لوگ اچانک دو قومیں کس بنیاد پر بن گئے؟ آخر شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں سوائے ایک نظریاتی فرق کے ایسی کون سی چیز حائل ہے جو انہیں ایک قوم بن کر ایک وطن نہیں بننے دیتی، حالانکہ رنگ، نسل اور تاریخ دونوں کی ایک ہے؟ آپ غور کرتے جائیں، دنیا کے ہر حصے میں قوم کی کوئی ایک بنیاد نہیں ملے گی، ہر جگہ بس ایک فرضی جغرافیائی لکیر ملے گی، تو جب جدید وطنوں کے قیام کی کوئی ایسی عقلی بنیاد ہے ہی نہیں جو سب کے لیے قابل توجیہ ہو تو نظریہ پاکستان (مذہب) کی بنیاد پر اگر ایک عدد وطن دنیا میں وجود میں آگیا تو اس سے منطق کا کون سا اصول ٹوٹ گیا اور کس اٹل سماجی حقیقت کا انکار ہوگیا؟ دنیا بھر میں یورپی استعمار کی بندر بانٹ سے کھینچی جانے والی جغرافیائی لکیروں کی آخر کون سی عقلی توجیہ موجود ہے کہ دو قومی نظریے پر قائم ہونے والے وطن کی بنیاد عقلا غلط دکھائی دیتی ہے؟