ہوم << ڈارون کا نظریہ ارتقا، ایک مسلمہ حقیقت - تیمور حسن

ڈارون کا نظریہ ارتقا، ایک مسلمہ حقیقت - تیمور حسن

تیمور حسن علمی ذوق رکھنے والے احباب نے یقینا ڈارون کے نظریہ ارتقا کے بارے میں سن رکھا ہو گا. نظریہ ارتقا دراصل ڈارون نہیں بلکہ جین بیپٹسٹ لمارک کا مرہون منّت ہے جو اس نے انیسویں صدی کے اوائل میں پیش کیا. ڈارون نے اس نظریہ کو اپنی تھیوری آف نیچرل سلیکشن کے ذریعے جلا بخشی اور وہ میکانزم بتایا جس کے نتیجے میں جاندار ارتقائی منازل طے کر کے مختلف انواع میں ظاہر ہوتے ہیں. مغربی ممالک میں اس نظریے کو سائنسدانوں اور عوام میں عمومی قبولیت کا درجہ حاصل ہے، ان ممالک میں ستر فیصد سے زیادہ عوام اس کی صحت کی قائل ہے. اس کے برعکس وہ ممالک جہاں روزمرّہ کی زندگی میں مذہبی رنگ آج بھی غالب ہے، اسے جھوٹ کا پلندہ سمجھا جاتا ہے، جو لوگوں کو مذہب سے دور کرنے اور انھیں ملحد بنانے کے لیے استمعال ہوتا ہے. میں یہاں اس نظریہ کی تفصیل میں جائے بغیر اس سائنسی اپروچ کی بات کروں گا جسے اپنا کر یہ نظریہ بآسانی سمجھا جا سکتا ہے.
سائنس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ کسی طبعی مظہر کی سائنسی وضاحت کے لیے غیب کی طرف نسبت نہیں کی جا سکتی. اگر کسی شخص سے یہ سوال کیا جائے کے بارش کیسے برستی ہے اور وہ یہ کہے کہ خدا ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو بادلوں کو برسنے کا حکم دیتا ہے تو اس کا جواب مذہبی اعتبار سے تو ٹھیک ہے لیکن سائنس کے اعتبار سے اس کی وضاحتی افادیت صفر ہے. اسی طرح اگر اس بات پہ غور کیا جائے کہ زمین کے ٹھنڈا ہونے کے بعد جانداروں کی انواع مثلا شیر، بکری، مچھلیاں، مکھی، مچھر کہاں سے آئے تو یہ کہنا کہ انہیں خدا نے پیدا کیا، مذہب کے اعتبار سے تو ٹھیک ہے لیکن سائنسی اعتبار سے اس کی کوئی اہمیت نہیں. نظریہ ارتقا وہ واحد نظریہ ہے جو اس کرہ پر موجود مخلوقات کے تنوع کو طبعی قوانین کے تحت بیان کرتا ہے. اگر کسی کو اس نظریہ پر اعتراض ہے تو سو بسم اللہ! کوئی متبادل نظریہ دے جو اس تنوع کی وضاحت کر سکے، مگر در حقیقت ایسا کوئی متبادل نظریہ نہیں دیا جا سکا.
جین بیپٹسٹ اور ڈارون کا اعجاز یہ ہے کہ انہوں نے پیچیدہ جانداروں کی انواع کے ظہور کو سمجھنے کا ایک نہایت سادہ اصول دیا اور وہ یہ کہ کم پیچیدہ جاندار طبعی قوانین کے تحت ارتقا پذیر ہو کر آگے بڑھتے ہیں جس سے ان کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا ہے. یہ اصول صرف جانداروں کو ہی نہیں بلکہ اس کائنات میں موجود کئی دوسرے پیچیدہ پراسیس کو سمجھنے کے لیے بھی مددگار ہے.

Comments

Click here to post a comment