ہوم << ہنگاموں سے دورگزری چند گھڑیاں - محمد عامر خاکوانی

ہنگاموں سے دورگزری چند گھڑیاں - محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی پچھلے تین دن شہر کے ہنگاموں سے دور گزرے۔ میڈیا کی بک بک چھک چھک سے دور مری کی گلیات کا خنک ماحول اور پھر دوستوں کا ساتھ… اور کیا چاہیے؟ ویسے بھی پلانٹیڈ انٹرویو کی لیکڈ وڈیو والے معاملے کے بعد عجب سا ڈپریشن چل رہا تھا۔جو ہوا وہ اس قدر افسوسناک تھا کہ یوں لگا بطور صحافی کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے۔ ویسے تو یہ سب غیر متوقع نہیں تھا۔ میرے جیسے بہت سے پرنٹ میڈیا کے قلم کار بار بار یہ لکھ رہے تھے کہ اینکر حضرات کو کسی ضابطہ اخلاق کے تحت لایا جائے کہ ان کا طرز عمل صحافت کے اصولوں کے منافی ہے۔ ’’زنگار‘‘ کے قارئین گواہ ہیں کہ انہی کالموں میں اس حوالے سے متعدد بارلکھا گیا۔ ایک خوشی تو بہرحال ہے کہ کھرے اور کھوٹے کی چھانٹی کا عمل تیز ہو رہا ہے ۔ جنرل مشرف کے دور میں کچھ لوگ ایکسپوز ہوئے، بہت سے عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد میں پہچانے گئے، کچھ کی اس بار باری آ گئی۔
خیر یہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے، ذکرہنگاموں سے دور پہاڑپر گزرے لمحات کا ہو رہا تھا۔اس بار البتہ ایک سوغات ساتھ تھی۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ چھٹیوں کے ان وقفوں میں اخبار اور ٹی وی سے دور رہا جائے۔ ہمارے دوستوں میں سے بعض عاقبت نااندیش ہر بار ٹریکنگ اور واک کے لئے اکساتے رہتے ہیں۔ الحمد اللہ اس کوشش کو ہمیشہ ایک باوقار متانت اور پر وقار سنجیدہ انکار کے ساتھ ناکام بنایا۔
اس خاکسار کا تفریح کے بارے میں سیدھا سادا فارمولا ہے کہ جی بھر کے نیند پوری کی جائے ، ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد کچھ نہ کچھ کھایا پیا جائے،بھاپ اڑاتی چائے اور قہوہ جات کے دور چلتے رہیں، دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہو اور باقی ماندہ لمحات کھڑکی کے پاس آرام دہ کرسی پر نیم دراز ہو کر اپنی من پسند کتاب پڑھی جائے۔ گاہے گردن اونچی کر کے باہر جھانکا اور اللہ سوہنے کے تخلیق کردہ حسین نظارے دیکھ کر زیرلب داد دی جائے۔ٹریکنگ کو ہم نے ہمیشہ پہاڑی بکروںکا حق ہی تصور کیا ہے۔ یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ہانپتے کانپتے دو تین گھنٹے پیدل چل کر کسی منحوس سے تھکا دینے والے ٹریک کوطے کیا جائے اور پھر سال بھر اس کا فخریہ ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ ویسے اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ ہم واک کے مخالف ہیں۔ چہل قدمی کو ہم نے ہمیشہ شرفا کا دستور قرار دیا ہے۔گاہے گاہے یہ شوق فرماتے بھی رہے ہیں، ہمارا اصرار صرف یہ رہا ہے کہ یہ واک ’’چہل قدمی‘‘ یعنی صرف چالیس قدموں تک ہی محدود رہے۔
اس بار ایک ایسی کتاب ہمارے ساتھ تھی، جسے پڑھنے کی خاصے عرصے سے آرزو تھی۔ ایڈورڈ گبن مشہور مغربی (برطانوی) مورخ گزرے ہیں۔ ان کی کتاب انحطاط و زوال رومتہ الکبریٰ یعنی Decline And Fall Of Roman Empire ایک غیرمعمولی کتاب ہے۔ گبن کی اس کتاب کے ترجمے کے بارے میں چند دن پہلے ہی پتہ چلا۔ معلوم ہوا کہ مقتدرہ قومی زبان نے اسے چار جلدوں میں شائع کیا ہے۔ انگریزی میں یہ کتاب تین جلدوں میں دستیاب ہے۔ مقتدرہ قومی زبان کے سربراہ آج کل مشہور ادیب ،نقاد اور استاد ڈاکٹر انوار احمد ہیں۔ ڈاکٹر انوارملتان کی بہائوالدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے بہت مقبول استاد رہے ہیں۔شاگردوں میں پرستش کی حد تک مقبول۔ میری ان سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ذکریا یونیورسٹی میں تعلیم تو درکنار میں نے کبھی اس یونیورسٹی کا مین گیٹ تک عبور نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب سے فون پر ایک بار بات ہوئی ، وہ بھی ایک غلط فہمی کی بنیاد پرکچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ تاہم ملاقات نہ ہونے کے باوجود میں ڈاکٹر انوار کا باضابطہ قسم کا مداح ہوں۔ کوئی سال بھر پہلے میں نے ان کے خاکوں کا مجموعہ پڑھا اور سحرزدہ ہو کر رہ گیا۔ کمال کے خاکے لکھے ہیں۔ ایسے تیکھے، بولڈ اور کاٹ دار خاکے کبھی پڑھے، نہ سنے۔ احمد بشیر کے خاکوں کا مجموعہ مجھے پسند آیا تھا، مگر ڈاکٹر انوار نے اپنے دوستوں عرش صدیقی، محسن نقوی، ڈاکٹر اے بی اشرف وغیرہ کا جس طرح خاکہ اڑایا ، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ایسا سفاکانہ سچائی جس کے تصور ہی سے بڑے بڑے بولڈ ادیب بھی بوکھلا جائیں۔ بعد میں ایک ویب سائیٹ ٹاپ سٹوری آن لائن پر ان کے چند مضامین پڑھے تو میری مرعوبیت بڑھ گئی۔ ملتان کے مخصوص سرائیکی کلچر کی عکاسی کرتی دلکش تحریریں، زندگی کے ایسے کردار جو اپنی بے پناہ قوت سے مبہوت کر دیں۔ ڈاکٹر انوار اردو فکشن کے اہم اور سنجیدہ نقاد بھی ہیں۔ ان کی مشہور کتاب ’’اردو افسانہ ، ایک صدی کا قصہ ‘‘ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کر چکی ہے۔ کئی سو صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب کا ایک پورا ایڈیشن صرف ڈیڑھ سو روپے میں شائع کیا گیا تھا، مقصد صرف یہ کہ اردو ادب کے طالب علموں کے لئے اس ریفرنس کتاب کو خریدنا ممکن ہو جائے۔ ڈاکٹر انوار جیسے ادیب کو ویسے تو اکادمی ادبیات پاکستان کا سربراہ بنانا چاہیے کہ اس ادارے کی زمام آج کل ایک ایسے صاحب کے ہاتھ میں ہے جس کا ادب سے دور دور تک تعلق نہیں۔ تاہم یہ بھی شکر ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت نے مقتدرہ قومی زبان کی سربراہی کسی جینوئن ادیب کو دی۔ چلوکوئی عہدہ تو میرٹ پر دیا گیا۔
خیر بات گبن کی کتاب کی ہو رہی تھی۔ ایک رات اس کتاب کے ساتھ گزری، تین حسین صبحوں کا آغاز گبن کی خستہ، کراری تحریر پڑھنے سے ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ابھی گبن کا یہ کتاب لکھنے کا ارادہ نہیں تھا ،مگر تاریخ سے اپنی دلچسپی کے باعث اس نے شوقیہ ہزاروں صفحات کا مواد جمع کیا۔ مشہور ادیب ای ایم فورسٹر لکھتا ہے،’’ گبن نے تاریخ کے حوالے سے جو کتابیں پڑھیں، جو نوٹس تیار کئے ، ان کی تعداد حیران کن ہے ، تاہم اس زمانے میں اسے مطلق علم نہیں تھا کہ وہ یہ سب کچھ کیوں پڑھ رہا ہے۔‘‘ بنیادی طور پر یہ روم کے ابتدا سے زوال تک کی داستان ہے۔ تاریخ کی اہم ترین کتابوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔گبن کی تحقیق، اس کا شاندار اسلوب، غیرجذباتی اور غیر متعصب تجزیاتی انداز اسے تاریخ انسانی کے عظیم مورخین میں شامل کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی سنجیدہ اور اعلیٰ کتاب ہے جسے ہر پڑھے لکھے کی نظر سے گزرنا چاہیے۔ ویسے تو چاروں جلدیں ہی باکمال ہیں ،مگر تیسری اور چوتھی جلد میں جب اسلام کی آمد اور پھر مسلمان فاتحین کے رومیوں پر حملوں کا تذکرہ آتا ہے، قاری ایڈورڈ گبن کے بے مثل غیر جانبدارانہ نقطہ نظر کا قائل ہو جاتا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے جو اردو میں اچھی کتابیں نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ اردو کا دامن اب بہت سی اعلیٰ کتابوں سے لبریز ہے۔ ٹائن بی کی سٹڈی آف ہسٹری (ناشر مجلس ترقی ادب) ہو،ابن خلدون کی مقدمہ، ہیروڈوٹس کی’’ تواریخ‘‘ وغیرہ یا پھر عالمی ادب کے وار اینڈ پیس، برادرز کرامازوف ، کرائم اینڈ پنشمنٹ جیسے شاہکار ناول ہوں… اردو میں ان سب کے عمدہ تراجم موجود ہیں ۔ ہمیں صرف اپنے نوجوانوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا ہوگا، کتابوں کی کمی نہیں۔ خود مقتدرہ قومی کی کتابوں کی فہرست میں ایسی بہت سی کتابیں نظر آئیں جنہیں لینے کو دل مچل گیا۔چھ جلدوں میں مکالمات افلاطون بھی شائع ہوئے ہیں ، قیمت بھی ان کی مناسب ہے کہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے پچاس فیصد تک رعایت مل جاتی ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Click here to post a comment