ہوم << افواہ - عمران زاہد

افواہ - عمران زاہد

کالج کے دنوں میں بینکوں کے نظام کو پڑھانے والے سر ثناء اللہ قمر صاحب نے فرمایا تھا کہ کوئی بھی بینک چند گھنٹوں میں دیوالیہ ہو سکتا ہے۔ ایک ایسی افواہ جس کی وجہ سے سب کھاتہ دار ایک ہی دفعہ اپنے ڈپازٹ نکلوانے کے لیے بینک پر ٹوٹ پڑیں، بینک کو دیوالیہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ بینکوں نے ایک اندازے کے مطابق ٹوٹل ڈپازٹ کا کچھ فیصد حصہ روزانہ لین دین کے لیے رکھا ہوتا ہے اور باقی رقم کھاتہ داروں کو منافع دینے کے لیے اِدھر اُدھر انویسٹ کیا ہوتا ہے۔
:
اتنے بڑے اربوں کھربوں کا کاروبار کرنے والے بینکوں کی جان ایک جھوٹی افواہ منٹوں میں ختم کر سکتی ہے۔
:
معاشیات کے استاد شاہد صدیق صاحب نے ڈیمانڈ اور سپلائی پڑھاتے ہوئے بتایا کہ بعض اوقات مصنوعی بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے یہ افواہ پھیل جائے کہ فلاں چیز مہنگی ہونے والی ہے تو لوگ اس چیز کو بلاضرورت خرید کر سٹاک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بازار میں اس چیز کی قلت ہو جاتی ہے۔ جنگوں وغیرہ میں یہ صورتحال پیش آتی ہے کہ لوگ غیریقینی صورتحال کے سبب کھانے پینے کی چیزیں خرید کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے مارکیٹ میں وہ چیز غائب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ 1965ء کی جنگ شاید وہ واحد جنگ ہے جب لوگوں نے چیزوں کو ذخیرہ کرنے کے بجائے اپنے اپنے ذخیروں کو باہر نکال کر رضاکارانہ طور پر تقسیم کرنا شروع کر دیا تھا۔ چوری چکاری کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا اور کسی بھی چیز کی قیمت میں اضافہ نہ ہوا بلکہ تاجروں نے اپنے منافع کی شرح کم کر دی تھی۔
:
اسی طرح بچوں کو وسیع پیمانے پر اغوا کرنے کی افواہوں نے بھی معاشرے کی نفسیات کو بری طرح متاثر کیا۔ چند دن پہلے تک ایک خوف پھیلا ہوا تھا کہ بچے دھڑا دھڑا اغوا ہو رہے ہیں، اغواکار بچوں کو ہاتھوں میں سے چھین چھین کر اغوا کر رہے ہیں۔گھروں میں کام والی مائیاں ادھر ادھر کے واقعات سنا کر گھروں میں مزید سنسنی پھیلا رہی تھیں اور ہمارا میڈیا اکا دکا انفرادی واقعات پر مرچ مصالحہ لگا کر اسے ایسی شکل دے رہا تھا کہ گویا کوئی یاجوج ماجوج معاشرے میں پھر رہے ہیں جو بغیر کسی ڈر خوف کے بچوں کو اغوا کر رہے ہیں۔ ہمارے اینکروں نے اپنی ساری عقل و دانش ان واقعات پر انڈیل دی۔ سوشل میڈیا کے جیالوں نے اس افواہوں کے اس بازار میں اپنا حصہ ڈالا اور نیٹ سے دوسرے ملکوں کے اغوا شدہ بچوں کی تصویروں کو پھیلا کر آگ پر مزید تیل چھڑکا۔
:
ان افواہوں کا نتیجہ یہ تھا کہ بچوں کے پارک ویران ہو گئے ۔۔ تفریح گاہیں ویران ہو گئیں۔ ماں باپ نے یہ خوف بچوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔ بچے جب آپس میں بات چیت کرتے تو ان کی باتوں میں بھی اغوا کے واقعات ہی سننے کو ملتے۔ سکول کھلنے سے پہلے یہ افواہیں پھیلنی شروع ہو گئیں کہ حکومت چند ہفتے مزید چھٹیاں بڑھانا چاہتی ہے۔ میرے ایک جاننے والے نے بتایا کہ ان کے کچھ عزیز بیرون ملک سے آنا چاہتے تھے مگر انہوں نے بچوں کے اغوا کی خبروں کی بنیاد پر اپنی ٹکٹیں منسوخ کروا دیں۔
:
ان افواہوں کے ردعمل میں لوگوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیا۔ بے شمار مردوں اور خواتین کو لوگوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ تقریباً تمام مشکوک افراد تفتیش کرنے پر بےگناہ ثابت ہوئے۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے کہ اغوا کے شک کی بنیاد پر اصلی والدین کو لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا۔ میڈیا نے سنسنی خیر خبریں دیں کہ ایک ہی خاندان کی پانچ لڑکیاں غائب ہو گئیں۔ اور چند دن بعد پتہ چلا کہ وہ خود ناراض ہو کر گھر سے چلی گئیں تھیں۔ ایک ہجومِ بدتمیزی میڈیا پہ پھیلا ہوا تھا۔
:
اب سکول کھل چکے ہیں۔ بچے سکول آ جا رہے ہیں اور بچوں کے اغوا کی افواہیں دم توڑ چکی ہیں۔ اکا دکا انفرادی واقعات تو پہلے بھی ہوتے تھے اور اب بھی ہو رہے ہوں گے۔ لیکن وہ خوف مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اکثر دیدہ ور پہلے دن سے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ سب افواہیں ہیں لیکن ان کی باتوں کو حکومت کی مخالفت کے جنون میں نہ سنا گیا بلکہ الٹا ٹھٹھا اڑایا گیا۔ اپوزیشن والوں کو ابھی 35 پنکچروں والے جھوٹ پہ ہونے والی شرمندگی شاید بھول گئی ہے کہ وہ ہر انٹ شنٹ کو حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ وہ شاید اس کہاوت پہ یقین رکھتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں ہر حربہ جائز ہے۔
:
جن جن میڈیا گروپوں نے اس افواہ سازی میں حصہ لیا۔ خبروں کو twist کر کے معاشرے میں خوف پھیلایا۔ جن جن بڑے لوگوں نے سنی سنائی کو آگے پھیلا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بننے کا شوق پورا کیا اور جن لوگوں نے فرضی واقعات گھڑے وہ سب ہماری لام عین نون تے کے مستحق ہیں۔
:
دوستوں سے درخواست ہے کہ آئندہ کوئی الٹی پلٹی افواہ آپ تک پہنچے تو بہتی رو کا حصہ بننے کے بجائے اپنا دماغ استعمال کریں اور بغیر کسی تحقیق کے ایسی باتوں کو آگے نہ پھیلائیں۔ ویسے بھی ہمارے دین میں سنی سنائی باتوں کو بغیر تصدیق کے آگے بڑھانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ دینی لحاظ سے گناہ ہونے کے علاوہ یہ قانونی طور پر جرم بھی ہے۔
:
حکومت کا فرض ہے کہ عوام میں افواہوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے والے بڑے بڑے کھڑپینچوں کے خلاف قانونی کاروائی کرے، ان کا محاسبہ کرے، اور انہیں قرارواقعی سزا دے تاکہ آئندہ کسی کو افواہیں پھیلانے کی جرات نہ ہو۔

Comments

Click here to post a comment