ہوم << نو بجے کا الارم - حنا نرجس

نو بجے کا الارم - حنا نرجس

کیا آپ بھی بہتر سے بہترین بننے کے سفر پر نکلے ہیں اور جا بجا رکاوٹوں سے پریشان ہو جاتے ہیں؟ یہ کہانی آپ ہی کے لیے ہے!
بالآخر اِس بار اُس کی برداشت جواب دے گئی. ایک جھٹکے سے سیل فون اٹھایا اور الارم بند کرنے کے بجائے ڈیلیٹ ہی کر دیا مگر غصہ تھا کہ پھر بھی کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا. کچھ دیر تک اس کا سر اسی طرح کھولتا رہا. وہ اسائنمنٹ بنانے کا کام موقوف کر کے بس اپنا سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا.
مگر معاملہ ایسا تھا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی نظر انداز نہیں کر سکتا تھا. دو ہی تو الارم سیٹ تھے اس کے سیل فون پر. پہلے کا نام ’’الصلوۃ خیر من النوم‘‘ تھا اور دوسرا جو ابھی ابھی اس کے ہاتھوں ڈیلیٹ ہوا، ’’مائے رپورٹ‘‘ یعنی’’میری کارکردگی‘‘ کے نام سے لگایا گیا تھا.
زندگی بہت بے ترتیب اور الل ٹپ گزر رہی تھی جب چند ماہ قبل اس نے اسے بامقصد بنانے اور اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے کچھ ضروری اصلاحات کرنے کا سوچا. وہ اپنی نماز، تلاوتِ قرآن، تفسیرِ قرآن و حدیث، نوافل، صلہ رحمی، جسمانی ورزش، آخری پارے کے حفظ، صبح و شام کے مسنون اذکار، متوازن و طیّب خوراک، صدقہ و انفاق، اخلاقِ حسنہ، مطالعہ کتب، اِبلاغ (بلغوا عنی ولو آیۃ) اور اپنے بین الانسانی تعلقات بہتر بنانے پر کام کر رہا تھا. روزانہ اپنا محاسبہ کرتا مگر سر توڑ کوشش کے باوجود وہ ان سب میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا. چھوڑے بھی تو آخر کس کو؟ ان میں کچھ بھی تو اضافی یا غیر ضروری نہیں تھا.
’’شاید میں نے خود پر ضرورت سے زیادہ بوجھ لاد لیا ہے. کچھ کم کر لیتا ہوں. بتدریج اضافہ کرتا جاؤں گا.‘‘ مگر کم کر کے بھی صورتحال وہی رہی. مصروفیت اتنی ہوتی کہ وہ سونے سے پہلے اپنا جائزہ تک نہ لے پاتا اور محوِ خواب ہو جاتا. جب دو تین دن کے وقفے سے جائزہ لینے بیٹھتا تو ٹھیک سے کچھ یاد ہی نہ آتا کہ کتنی نمازیں باجماعت پڑھیں، کونسی نماز قضا ہوئی، کس دن قرآن نہیں پڑھا، حفظِ قرآن میں کسی آیت کا اضافہ ہوا یا بس دہرائی ہی کی، جَنک فوڈ سے کس حد تک کنارہ کشی کی، فٹ بال کھیلنے گیا یا نہیں.
بہت سوچ بچار کے بعد اس نے روزانہ ایک بار کے بجائے، محاسبے کا وقت ایک نماز سے دوسری نماز تک مختصر کر لیا. یہ نسبتاً آسان تھا. ہر نماز کے بعد دو منٹ تک رک کر اپنی کارکردگی پر غور کر لیتا. مگر وہ یونیورسٹی، گھر، بہنوں کو اکیڈمی چھوڑنے، واپس لینے، آن لائن جاب، اپنی پڑھائی اور امی کے بتائے گئے باہر کے کاموں میں ایسا گھن چکر بنتا کہ بمشکل نماز کے لیے وقت ملتا. محاسبہ پھر رہ جاتا.
وہ ہر صورت خود کو احتساب کے کٹہرے میں لا کر بہتر سے بہترین تک کا سفر طے کرنا چاہتا تھا. اب کے اس نے گوگل شیٹ پر کالمز بنائے، عنوانات دیے اور تاریخ وار اپنی روز کی رپورٹ لکھنا شروع کر دی. دو دن تو خوب جم کر سب چیزوں کے لیے وقت نکالا. مگر نظم و ضبط کا دامن ایک بار پھر ہاتھ سے چھوٹ گیا. روزانہ ٹِک کراس لگانا بھی مشقت ہی لگنے لگا. ویسے بھی اب ٹک ✔ تو نہ لگ پاتے، بس شرمندگی سے دوچار ہوتے ہوئے نمازوں کے علاوہ سب خانوں پر کراس ❌ لگا دیتا.
وہ اب بہت جھنجھلانے لگا تھا. ’’لوگ اتنی سی زندگی میں بہت سارے مثبت و تعمیری کام کر لیتے ہیں اور میں گنتی کی چند چیزوں کو اپنے روزمرہ معمول کا حصہ نہیں بنا سکتا. آخر سب کے پاس چوبیس گھنٹے ہی تو ہوتے ہیں.‘‘
اُس رات اس نے گوگل شیٹ کو ڈیلیٹ کیا اور رجسٹر نکال کر مارکر سے لائنز لگا کر کالمز بنانے لگا. اس بار سب سے اوپر جلی حروف میں ’’و ما توفيقي إلا باللہ‘‘ لکھ دیا. دونوں تاریخوں کے لکھنے کا اہتمام بھی کیا. جیسے
14 اپریل 2016، 6 رجب 1437
رمضان شروع ہونے میں تقریباً دو ماہ باقی تھے اس لیے وہ رجب سے ہی زندگی کو ایک اچھے ڈھب پر لے آنا چاہتا تھا. وہ جانتا تھا کہ
وَانْ لَیسَ لِلْانْسَانِ الَّا مَا سَعَی
وَأَنَّ سَعْیہ سَوْفَ یُرَی
ثُمَّ یُجْزَاہ الْجَزَاءَ الْاوفی
’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے. اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی. اور اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی.‘‘
النجم ٣٩ تا ٤١
چار دن کی رپورٹ قابلِ رشک تھی. پانچویں دن تفسیر کا ناغہ ہو گیا.
’’چلو اتوار کی تو چھٹی کی جا سکتی ہے.‘‘ اس نے خود کو بہلایا.
مگر اگلے پورے ہفتے نوافل کے کالم میں کراس اور حفظ کے خانے میں بس ’’دہرائی‘‘ لکھا جاتا رہا.
پھر لگاتار دس دن نماز کے علاوہ ہر خانہ ویران تھا. وہ قلم ہاتھ میں لیے خالی دل، خالی ذہن اور بھری ہوئی آنکھیں لیے بیٹھا تھا. پھر سوچنے لگا،
’’ایک دن چچا کو فون کر کے حال احوال دریافت کیا تھا. چلو اس کو تو ’صلہ رحمی‘ کے خانے میں لکھوں. کل یونیورسٹی میں سموسوں کے بجائے فروٹ لے کر کھایا تھا، طیّب خوراک پر بھی ٹک ہو گیا. وہ ایک دن ٹریفک وارڈن نے بد تمیزی کی مگر میں برداشت کر گیا. اسے اخلاقِ حسنہ میں لکھ دیتا ہوں. ابلاغ پر تو سارے ٹِک لگا دیتا ہوں، جو بھی سیکھوں فیس بک پر یا باہر باتوں باتوں میں دوستوں کے ساتھ شیئر تو کرتا رہتا ہوں. ٹھیک ہے تفسیر نہیں سنی مگر فیس بک پر دروس کے کچھ مختصر کلپس تو سنے ہیں. لیکن میں تو سورۃ بقرہ ترتیب سے سن رہا ہوں. اب ان کلپس کا اندراج کیسے کروں؟ تاریخ بھی یاد نہیں کس دن سنے تھے. چلو یہ ساری جگہ خالی ہی تو ہے. کسی ایک تاریخ کے بجائے سب کے سامنے ترچھا کر کے لکھ دیتا ہوں. بس اب کل سے سستی نہیں دکھانی.‘‘
اور آنے والی کل اس کا حال یہ تھا کہ سونے سے پہلے مندی مندی آنکھوں سے موبائل پر ایک صفحہ قرآن پڑھا. اگلی آدھی آیت حفظ کی. تفسیر کا وہی حصہ جسے چودہ منٹ سن کر پاز کر دیا گیا تھا، سننا شروع کیا اور سولہ منٹ پر پھر سے پاز کر دیا. ’صلہ رحمی‘ کے ضمن میں خالہ کو حال احوال پوچھنے کے لیے میسج کر دیا. اس کیفیت میں نوافل پڑھنا تو ممکن ہی نہ تھا اور اسے تو یہ بھی پتہ نہ چلا کہ میسج لکھ کر ’سینڈ‘ کا بٹن پریس کیے بنا ہی وہ اس اطمینان سے سو چکا تھا کہ چلو پانچ خانوں میں تو ٹِک لگیں گے.
زندگی ہر روز نئی کروٹ لیتی ہے، اس کا چلنے کا اپنا ہی ڈھب ہے، اس کا سٹیئرنگ وھیل گزارنے والے کے ہاتھ میں کب ہوتا ہے. آج دس دن کے بعد پھر سے وہ تھا اور کارکردگی کا رجسٹر. تاریخیں سب لگائی جا چکی تھیں. نماز کے علاوہ سب خانے خالی.
’’چھوڑو اس بے کار کی مشقت کو. کرنا کچھ نہیں تو تاریخیں لگا کر صرف صفحات پلٹتا جاؤں کیا؟ بس بہت ہو گیا. مگر میرا اعمال نامہ تو وہاں بھی تیار ہو رہا ہے. چھوڑ کر بھی راہِ فرار تو کوئی نہیں. کم از کم یہ خالی صفحات مجھے سرپٹ بھاگتے وقت اور خالی دامن کا احساس تو دلاتے ہی ہیں نا. ہاں، روز کی بنیاد پر رپورٹ لکھنا لازم کر لوں تو شاید عمل میں بھی کچھ باقاعدگی آ جائے.‘‘
یہی سوچ کر روزانہ رات نو بجے ’’مائے رپورٹ‘‘ کے نام سے الارم سیٹ کیا تھا. ایک دو دن تو یہ ترکیب جزوی طور پر کارگر رہی. مگر پھر...؟
وہ کسی انتہائی ضروری کام میں الجھا ہوتا اور الارم زور و شور سے بجنے لگتا. وہ اسے اٹھاتا، کچھ دیر گھورتا رہتا پھر بند کر دیتا. الارم کا کام تھا کہ رپورٹ لکھنے کی یاد دہانی کروا دے. مگر رپورٹ میں لکھنا کیا ہے؟
ہر گزرتے دن کے ساتھ اسے الارم سے ہی چڑ ہونے لگی. وہ روز بھول جاتا کہ الارم بجے گا اور وہ اچانک ہی غیر متوقع طور پر بج اٹھتا. یہ گویا ایک آئینہ تھا جو اسے کسی بھی مصروفیت سے نکال کر اپنی طرف متوجہ کرتا اور جیسے ہی اس کی نظر اس پر پڑتی، اس کے اعمال کی سستی، کوتاہی اور بد صورتی کو جوں کا توں منعکس کر دیتا. یہی وجہ تھی کہ آج وہ اس نو بجے کے الارم کا گلا گھونٹ کر اب اپنا سر ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا.
کچھ وقت تو لگا، بالآخر غصہ جاتا رہا. سب چھوڑ کر بیٹھنے کی تو گنجائش تھی ہی نہیں کیونکہ
لا ملجا ولا منجا من اللہ الا الیہ
نہیں ہے جائے پناہ اور نہ جائے نجات اللہ سے، مگر اسی کی طرف.
کتابِ زندگی تو بہرحال لکھی جا رہی تھی. اس کی نیت خالص تھی. ربِ مہربان نے رہنمائی عطا کی. بس ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینے اور شیطان کے ہتھکنڈوں کے خلاف دل کی گہرائیوں سے مانگی گئی دعا کی مدد سے اللہ کی سپورٹ حاصل کرنے کی ضرورت تھی. اور اب تو شیاطین کو قید کیے جانے کا مہینہ قریب آ لگا تھا.
ایک بڑی غلطی وہ اب تک رات دیر تک جاگتے رہنے کی کرتا رہا تھا، پھر نمازِ فجر کے بعد چاہتے ہوئے بھی نیند کو بھگا نہ پاتا. اسی نیند کے لالچ میں تیار ناشتے کو بھی روزانہ چھوڑ کر بھاگم بھاگ نکلنا پڑتا. صبح کے وقت میں امت مسلمہ کے لیے خصوصی طور پر برکت رکھی گئی ہے. اس وقت کا ایک گھنٹہ کم از کم چار عمومی گھنٹوں کے مساوی ہوتا ہے. اور ماہرین کہتے ہیں کہ صحت و توانائی اور ذہانت و چستی کو برقرار رکھنے کے لیے ناشتہ دن کا سب سے بھرپور اور عمدہ کھانا ہونا چاہیے. اس نے اندازہ لگایا کہ اگر وہ نماز عشاء پڑھتے ہی سو جائے تو صبح فجر سے پہلے کے دو گھنٹے اپنے اہداف کو پانے کے لیے بآسانی استعمال کر سکتا ہے. جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ روزانہ ’’چھ اضافی گھنٹوں‘‘ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے. 🙂
اب وہ ایک نئے جذبے اور نئے یقین کے ساتھ مسکراتے ہوئے علی الصبح جاگنے کے لیے الارم سیٹ کر رہا تھا. اس بار الارم کا نام تھا،
لَا یُکلِّفُ اللَّہ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہا
اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا.

Comments

Click here to post a comment