ہوم << دین و سیاست کی جدائی، مغرب کا ایجنڈا - ابوسعدایمان

دین و سیاست کی جدائی، مغرب کا ایجنڈا - ابوسعدایمان

ابو سعد ایمان مغربی دنیا گزشتہ پانچ سو سال سے چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہی ہے کہ مذہب کا ریاست و سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا ریاست و سیاست کی تشکیل میں مذہب کو کوئی کردار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ نظریہ جدید دنیا کی عالمی طاقتوں کا ایک متفقہ عقیدہ بن چکا ہے اور وہ یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ کسی بھی ملک پر مذہبی قوانین کی بالادستی کسی صورت تسلیم نہیں کی جائے گی۔ جدید دنیا کے اس عقیدے کے آگے سارے مذاہب نے سرجھکادیا اور جدید دنیا کا یہ فیصلہ قبول کرلیا، سوائے اسلام کے۔ چنانچہ جدید دنیا نے فیصلہ کیا کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں کسی بھی ملک کی سیاسی و ریاستی تشکیل برداشت نہیں کی جائے گی۔ مغربی دنیا کے اسی جبر اور استبداد کا اظہار ہمیں الجزائر، مصر، ترکی اور افغانستان میں نظر آتا ہے کہ ان ملکوں میں جب جب اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ریاست کی تشکیل کرنے کی کوشش کی گئی، مغربی دنیا نے اپنے درندوں کو ان ملکوں پر چڑھا دوڑایا۔
جدید دنیا نے اپنے اس عقیدے کو پوری دنیا پر بالجبر نافذ کرنے کی کوشش کی، اس استبداد اور جبر کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت اسلامی دنیا میں کی گئی۔ مسلم دنیا گزشتہ دو سو سال سے جدید دنیا کے اسی عقیدہ کے خلاف مزاحم ہے۔ بیسویں صدی میں یہ مزاحمت کھل کر سامنے آئی۔ فکری و نظری سطح پر مسلم دنیا کی مزاحمت کے ہراول دستہ میں علامہ محمد اقبال، سید مودودی، حسن البنا اور سید قطب شہید وغیرھم شامل ہیں، جبکہ اس مزاحمت کے میمنہ و میسرہ میں مسلم دنیا کے دیگر تمام مکاتب فکر نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
مغرب کے اس فاسد عقیدہ کے خلاف مسلم دنیا کی فکری و سیاسی مزاحمت کی سب سے زیادہ مخالفت برصغیر میں غلام احمد قادیانی، سرسید احمدخاں نے کی. جبکہ فی زمانہ بھارت میں وحید الدین خان اور پاکستان جاوید احمد غامدی اس کے سب سے بڑے علمبردار کے طور پر موجود ہیں، جو بالواسطہ طور پر مغرب کے اس استبدادی اور جابرانہ عقیدے کی سب سے زیادہ حمایت اور اسلامی دنیا میں مذہب و سیاست کی علیحدگی کے عقیدے کو نظری غذا فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان اور نظریہ پاکستان مغرب کے اس جابرانہ اور استبدادی عقیدے کے خلاف مزاحمت ہی کی ایک علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی طاقتوں کی تخریبی وسازشی سرگرمیوں کی گزشتہ 69 سالوں (اپنے قیام ہی سے) آماجگاہ بنا ہوا ہے۔
بیسویں صدی کے مسلم مفکرین نے مغرب کے اس اندھے عقیدے کا دندان شکن جواب دیا۔ اور جدید دنیا کے اس اندھے عقیدے کو جاہلیت جدیدہ ثابت کیا۔ مغرب کا ریاست و جمہوریت کا نظریہ درحقیقت اسلامی دنیا کے نظریہ خلافت ہی کا جواب اور توڑ تھا۔ مسلم مفکرین نے ریاست و جمہوریت کو اسلام کے تابع کرنے کا نظریہ دے کر درحقیقت مغرب کے اسی جواب اور خلافت سے فرار کا توڑ پیش کردیا۔ مغرب نے بالواسطہ طور پر اسلامی نظریہ خلافت سے انسانیت کو روکنے کے لیے ریاست و جمہوریت کا جو نظریہ پیش کیا، مسلم مفکرین نے تصورخلافت کو ماڈرنائز کرکے اور اس میں مجتہدانہ تبدیلیاں کرکے درحقیقت مغرب کی خلافت کے خلاف اٹھائی گئی اس دیوار کو نظری سطح پر توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم مفکرین کے اس مجتہدانہ اقدام کے خلاف مغرب سخت غضب ناک اور طیش میں ہے۔ دوسری طرف بعض مسلم اہل علم کی طرف سے بھی مسلم مفکرین کے اس مجتہدانہ کردار پراعتراض کرنا، اس کا مذاق اڑانااور اس کی تحقیر کرنا درحقیقت مغرب کے غصے اور غضب کی بالواسطہ حمایت ہی ہے۔
اس تناظر میں جاوید غامدی صاحب کی طرف سے ریاست پر اسلامی قانون کی بالادستی کے انکار کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ان کا فکری ایجنڈا مغرب سے کامل ہم آہنگی اور مفاہمت پر مبنی اسلام کی تشکیل ہے۔ لیکن اگر کوئی دوسرا صاحب علم اور صاحب دانش ریاست اور اسلام کی علیحدگی پرزور دیتا ہے تو اسے اپنا مقصد واضح کرنا ہوگا کہ اس کے اس اصرار کے نتیجے میں علم کی کیا خدمت مقصود ہے؟ مسلمانوں کو اور انسانیت کو ریاست اور اسلام کی علیحدگی کے تصور سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ کیونکہ مقصد اور فائدے کو واضح کیے بغیر محض مبہم طور پر ریاست اور اسلام کی علیحدگی پر اصرار بالواسطہ طور پر مغرب کے سیکولرزم پر مبنی جابرانہ اور استبدادی ایجنڈے کو تقویت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

Comments

Click here to post a comment