ہوم << رگِ عاشقی ‌- نیرنگ خیال

رگِ عاشقی ‌- نیرنگ خیال

ذوالقرنین چوراہے کے ایک طرف مرزا اور رائے صاحب بیٹھے محو گفتگو تھے۔ کافی دیر سے صنف نازک کے موضوع پر بڑی ہی تفصیلی روشنی ڈالی جا رہی تھی۔ مرزا اپنے وسیع تر تجربے کی وجہ سے حاوی ہوتے جاتے تھے، جبکہ رائے صاحب بھی کسمسا کر اپنی شد بد ثابت کرنے کو کوشاں تھے۔ باتوں باتوں میں حسن بھی زیر بحث آگیا۔
میاں یہ حسن کو سمجھنا بھی ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ یہ حس صدیوں میں بیدار ہوتی ہے۔ آج کل کے لونڈے لپاڑے کیا جانیں کہ حسن کو پرکھنے کا معیار کیا ہے۔ مرزا نے فخریہ انداز میں کہا۔
رائے صاحب پہلو بدلتے ہوئے، آپ پھر بڑے مرزا (صاحبہ والے) کی طرف جا رہے ہیں۔ یقین مانیے کہ وہ تاریخ میں ہوس انگیز مشہور ہے۔
نہیں رائے! تم جانتے نہیں۔ اہل ہند میں اگر کسی نے حسن کو سمجھا ہے تو وہ صرف مرزا ہیں۔ مرزا نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔
میں آپ کی بات سے اتفاق ضرور کر لیتا۔ اگر تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم نہ رہا ہوتا۔ رائے صاحب نے اصرار کیا۔
مرزا نے بھنویں اچکاتے ہوئے۔ تاریخ کس قسم کی تاریخ؟
چھوڑیے حضور! ’’سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں‘‘ رائے صاحب نے شرارتی انداز میں کہا۔
تم پھر اسلاف کی کردار کشی کی طرف جا رہے ہو۔ اس بار میں بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا۔ مرزا بھڑک کر بولے۔
اس سے پہلے کہ دونوں میں بحث زور پکڑتی۔ گلی کی نکڑ سے ایک منحنی سا نوجوان، بکھرے بالوں اور شاعر نما چہرے سے اداسی مترشح، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا، ڈولتا، ڈگمگاتا، نمودار ہوا۔
یہ اناڑی عاشق ہے۔ مرزا نے رازدارانہ انداز میں رائے صاحب کو مخاطب کر کے کہا۔
عاشق اناڑی نہیں ہوتا۔ رائے صاحب نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
رائے یار عاشق اناڑی ہوتا ہے۔ تم سمجھتے کیوں نہیں۔ جس طرح ہر چیز کے درجے ہوتے ہیں۔ اس طرح عاشقی کے بھی درجات ہیں۔ مرزا نے یوں کہا جیسے کسی ناسمجھ بچے کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہوں۔
یاحیرت! رائے صاحب نے انگشت بدنداں کی عملی صورت پیش کرتے ہوئے کہا۔
ہمارے ساتھ رہو گے تو سیکھو گے۔ پہلے پہل اس عمر میں جس سے یہ نوجوان گزر رہا ہے۔ انسان ہر کسی پر عاشق ہی ہوا رہتا ہے۔ عاشقی کو روٹی کی جگہ استعمال کرتا ہے۔ دن کو عاشقی رات کو عاشقی چلاتا ہے۔گریبان چاک کیے رہتا ہے۔ ’’دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں‘‘ کی عملی صورت ہوتا ہے۔ اس ابتدائی درجے میں حسن کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ زیادہ تر عاشقی محض عاشق کہلانے اور عمر کا تقاضا سمجھ کر کی جاتی ہے۔ اس کے بعد کے عشق میں کچھ پختگی آتی ہے۔ محبوب کا معیار بھی نسبتاً بلند ہوجاتا ہے۔ البتہ حال وہی ہوتا ہے کہ ’’ایک نام اور شام لے کر بیٹھ گئے۔‘‘ اس کے بعد کچھ مزید پختگی آتی ہے۔ انسان جب کوئی دس کے قریب عشق کر گزرتا ہے تو اس کو آہ کرنے کے آداب آتے ہیں۔ اور جب کوئی عاشق پختہ ہوجائے تو زمانہ اس کو ہوس انگیز کہنے لگتا ہے. اس بات کو یکسر نظر انداز کر کے کہ اس نے کیسی کیسی نہریں کھود ڈالی ہیں۔ مرزا نے عشق و عشاق کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
یعنی بڑے مرزا (صاحبہ والے) پختہ عاشق تھے، اور فرہاد بھی مرزا تھا، رائے صاحب نے استعجابی انداز میں پوچھا۔
کس کند ذہن سے پالا پڑ گیا ہے۔ مرزا جھلا کر بولے۔ میاں فرہاد ایک ہی نہر میں پار ہوگیا تھا۔
اوہ۔ لیکن مجھے تو یہ عاشق کم شاعر زیادہ نظر آتا ہے۔ رائے صاحب نے اس لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئےکہا، جو اب بہت قریب پہنچ چکا تھا۔
مرزا اس لڑکے کا یوں جائزہ لینے لگے کہ جیسے قصاب آنکھوں آنکھوں میں جانور کو تولتا ہے۔
’’چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘ ہلکے سروں میں وہ لڑکا گنگناتا پاس سے گزرتا چلا گیا۔
دوندا ہے۔ مرزا نے انکشاف کیا۔
دوندا؟ دوندے سے کیا مراد ہے آپ کی۔ رائے صاحب نے حیرت سے مرزا کو دیکھا۔
دو عشق فرما چکا ہے۔ اناڑی پن سے دونوں کو کھو چکا ہے۔ مرزا نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ رائے کو دیکھا۔ جو کسی کرامت پر مرید کی حیرانی سے کھلی آنکھیں دیکھ کر پیر کے چہرے پر نمودار ہوتی ہے۔
لیکن یہ تو کوئی کاروباری آدمی لگتا ہے۔ رائے صاحب نے اپنی ہٹ قائم رکھی۔
یہ اندازہ تم نے کیسے لگایا؟ مرزا کے چہرے پر پہلی بار حیرت کے آثار دیکھے گئے۔
کچھ چلن اور کچھ غزل کے انتخاب سے۔ رائے صاحب نے اپنی جہاں دیدہ رائے پیش کی۔
نہیں میاں! گلشن کا کاروبار محض مرزا یاروں کی وجہ سے قائم ہے۔ مرزا نے بڑے تفاخر سے گردن اکڑا کر کہا۔
ہیں! رائے صاحب کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ لیکن مرزا تو مار کر کھانے کے عادی تھے۔’’خراب کر گئی شاہین بچے کو صحبت زاغ۔‘‘ ایسا کب سے؟
اوہ یار! ہمارا مطلب کہ چمن پر بہار ہم سے ہے۔ یعنی فصل عشق کی آبیاری ہم سے عمدہ کوئی نہیں کر سکتا۔ مرزا تڑپ کر بولے۔
اوہ اچھا! میں سمجھا۔ رائے صاحب نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ بات کاٹ کر کہنے لگے۔ تمہاری عقل کا ماتم بنتا ہے۔
ویسے یہ بچہ باذوق ہوگا جو مہدی حسن کی غزل گنگنا رہا تھا۔ رائے صاحب نے بات کا رخ موڑنے کو کہا۔
میاں! یاد رکھو۔ عورت کی آواز ہی سر صحیح لگا سکتی ہے۔گائیکی مردانہ کام نہیں۔ مرزا نے گائیکی کے اسرار و رموز بیان کرنے شروع کیے۔
لیکن یہ تو مہدی نے ہی گائی ہے۔ رائے صاحب نے اصرار کیا۔
بھئی گائی مہدی نے ہو یا کسی چوراسی گھرانے کے فرد نے، لیکن کبھی تم اس کو فریدہ خانم کی آواز میں سنو۔
آپ ہمیشہ بوڑھی عورتوں کا ہی تذکرہ کرتے ہیں۔ رائے صاحب نے جھلا کہا۔
بھئی ہم بے وفا نہیں۔ بچپن کے تمام عشق بازیوں کے قصے ابھی تک سینے سے لگا رکھے ہیں۔ مرزا نے پکے ٹوٹے عاشق کے انداز میں کہا۔
آپ کا ان سے معاشقہ رہا ہے۔ رائے صاحب نے سوالیہ نشان بن کر کہا۔
یکطرفہ۔ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر مرزا نے کہا۔
خیر۔ یہ بلونگڑا یہاں اس اڑن کھٹولے کے لیے آیا ہے جو تین پہیوں پر نوجوان اٹھا کر لے جاتا ہے۔ میں اس کو کئی دن سے دیکھ رہا ہوں۔ مرزا نے پرانے زخموں کو کریدنے سےگریز کرتے ہوئے کہا۔
لیکن بوڑھے اور بچوں کا کیا قصور ہے۔ رائے صاحب بھی خاموش کہاں ہونے والے تھے۔
اوہ بھائی! ’’نو‘‘ ’’جوان‘‘۔ ایک تو یہ زبان کی باریکیوں نے ہم کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ مرزا سٹپٹا کر بولے۔
اچھا وہ آیا تو تھا ایک۔ لیکن یہ اس پر بیٹھا کیوں نہیں۔ رائے صاحب نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
بیٹھے کیسے؟ اس میں گلشن نہیں بیٹھی ہوئی میاں، جب تک گلشن نہیں آئے گی، یہ یہیں کھڑا دھوپ کو سزا دیتا رہے گا۔ مرزا شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے بولے۔
مرزا آپ کے تجربے کے مطابق یہ دوسرا عشق ہے۔ رائے صاحب نے کہا۔
نہیں میاں۔ یہ نوجوان اب تیسرے کے لیے پر تول رہا ہے۔ لیکن حالات اس کے عشق اولیں والے ہی ہیں۔ یعنی کچھ سیکھ نہیں پایا ۔
اتنے میں ایک اڑن کھٹولے میں ایک دوشیزہ جلوہ افروز نظر آئی۔ وہ نوجوان اس کی طرف یوں لپکا۔ گویا کسی عوامی مرکز پر آٹا ملنے لگا ہو۔ اور یہ جا وہ جا۔
اس کے بعد بڑی دیر تک خاموشی رہی۔ پھر جو لب ہلے تو موضوع عارفانہ ہو چلا تھا۔

ٹیگز