ہوم << ٹافی، قلفی اور بوتل کی قیمت میں لڑکیاں - عاصم حفیظ

ٹافی، قلفی اور بوتل کی قیمت میں لڑکیاں - عاصم حفیظ

عاصم حفیظ پاکستانی میڈیا دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے کہ اس پر جس کا جو دل چاہے دکھا سکتا ہے۔ کوئی روک ٹوک یا قاعدہ قانون نہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے اس ملک میں کسی بھی قسم کے اپنے طور طریقے، رسم و رواج اور سماجی و ثقافتی روایات سرے سے موجود ہی نہ ہوں۔ خیر میڈیا کے حوالے سے کسی بھی قسم کے قواعد و ضوابط کی بات کرنا تو یہاں دقیانوسیت اور روشن خیالی پر بھیانک حملہ قرار دیاجاتا ہے۔ میڈیا پر پیش کیے جانیوالے لباس اور مواد پر بحث کرنے کی کسی میں ہمت نہیں۔
پاکستانی میڈیا پر پیش کیے جانے والے اشتہارات میں نوجوان لڑکیوں کو ایک خاص روپ میں دکھایا جاتا ہے جو کہ واقعی انتہائی افسوسناک ہے۔ آپ کئی اشتہارات ایسے دیکھ سکتے ہیں جن میں لڑکیوں کو لالچی اور اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خاطر اپنا آپ قربان کرتی نظرآتی ہیں۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے سافٹ ڈرنک کے اشتہار میں دکھایا جاتا ہے کہ لڑکیاں ایک بوتل کی خاطر ایک سے دوسرے شخص کے پاس ماری ماری پھرتی ہیں۔ ایک قلفی ایڈ میں بھی لڑکی کو انتہائی للچائی نظروں سے قابل ترس حالت میں دکھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کے درجنوں بلکہ سینکڑوں اشتہارات آپ ٹی وی چینلز پر دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خاطر ایک لڑکی کسی سے متاثر ہو جاتی ہے، حتی کہ لڑکوں کی جانب سے اچھی بنی ہوئی شیو اور اپنے جسم کی بدبو کا اثر زائل کرنے کے لیے لگائے گئے باڈی سپرے جیسی چیزوں کی خاطر بھی لڑکیوں کو کسی پر مر مٹتے دکھایا جاتا ہے۔ یہ کتنا بھیانک روپ ہے جس میں نوجوان لڑکیوں کو پیش کیا جاتا ہے۔
اس طرح کے اشتہارات کا ایک دوسرا رخ یہ ہے کہ بہت سے نوجوان لڑکے ان سے متاثر ہوکے اپنے اخراجات بے پناہ بڑھا لیتے ہیں۔ بےچارے اشتہار میں دکھائے گئے ملبوسات پہن کر اور ہاتھ میں اسی طرح کی قلفیاں، ٹافیاں، چاکلیٹ اور بوتلیں پکڑ کر شوخیاں مارتے مارتے تھک جاتے ہیں لیکن ویسا کوئی بھی کرشمہ نہیں ہوپاتا جو انہوں نے ٹی وی اشتہار میں دیکھا ہوتا ہے۔ اس سے کسی اور کو فائدہ ہونہ ہو، مختلف قسم کے برانڈز والوں کو ضرور بہت زیادہ فائدہ ہوجاتا ہے۔ معاشرے میں بے راہ روی اور فحاشی و عریانی کے فروغ کی بات ایک طرف لیکن یہ سب حقیقی دنیا سے کس قدر مختلف ہے۔ کیا روشن خیال اور ماڈرن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کو لالچی اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے گھٹیا سے گھٹیا انداز میں پیش کیا جائے۔
ہمارے ہاں خواتین کے حقوق اور معاشرے میں انہیں ’’معزز مقام ‘‘ دلانے کے حوالے سے سینکڑوں این جی اوز سرگرم ہیں، جو ہر معاملے پر چیختی چلاتی پائی جاتی ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ میڈیا پر پیش کیا جانیوالا خواتین کا یہ روپ کیا ان کی عزت و توقیرمیں کمی اور ان کے حقوق کی پامالی کے زمرے میں نہیں آتا۔ عورت کومعاشرے میں ’’باعزت مقام‘‘ دلانے کی دعویدار یہ روشن خیال بیگمات اس حوالے سے بات کیوں نہیں کرتیں کہ میڈیا پر انہیں اچھے انداز میں پیش کیا جائے۔ اسلام نے تو عورت کو باعزت مقام دیا تھا، مغرب کی تقلید میں اختیار کی جانے والی روشن خیالی نے ہمارے معاشرے میں اسے شوپیس بنادیا ہے۔
آج کے پاکستان کی حقیقت یہی ہے کہ میڈیا میں خواتین خصوصا نوجوان لڑکیوں کو لالچی اور چند ٹکے کی چیزوں کے لیے اپنا آپ قربان کرتے دکھایا جاتا ہے۔ کاش معاشرے اور میڈیا و اشتہار انڈسٹری میں کبھی ان خواتین کو باعزت مقام دیا جائے!!