ہوم << کالم صحافت کی شاعری ہے - عبدالقادر حسن

کالم صحافت کی شاعری ہے - عبدالقادر حسن

عامر خاکوانی سینئر ترین کالم نگار عبدالقادر حسن کی کہانی ، ان کی اپنی زبانی
عامر خاکوانی
کالم کے بارے میں میری رائے کہ یہ صحافت کی شاعری ہے، یہ خداداد صلاحیت ہے۔ دوسرا یہ کہ کالم موضوعاتی ہوتا ہے اور یہ قاری کو ایک طرح کی انٹرٹینمنٹ اور اس کے ساتھ ساتھ تربیت دیتا ہے۔ جس طرح شاعری خداداد چیز ہے‘ اسے کوئی سیکھ نہیں سکتا‘ یہی با ت کالم کی ہے‘ مضمون نگاری البتہ سیکھی جاسکتی ہے۔ ایک اعتراض یہ کہاجاتا ہے کہ دنیا بھر کے اخبارات اور خود پاکستان کے انگریزی اخبارات میں قاری کی ذہنی اور فکری تربیت کی جاتی ہے جبکہ اردواخبارات کے روایتی کالموں میں صرف زبان کے چٹخارے اورلطیفہ گوئی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انگریزی کا اردو سے مختلف معاملہ ہے۔ اردو میں کالم کی روایت یہی ہے کہ ہلکے پھلکے انداز میں لکھا جائے‘ میرے ذاتی خیال میں تو اخبارات میں مضمون نگاری ہونی نہیں چاہیے۔ ادارتی صفحہ پر یا تو اداریہ ہوتا ہے یا اہم ایشوز پر کسی ماہر کا تبصرہ (Expert Opinion)‘ یا پھر کالم ہوتے ہیں۔ کالموں کو آسان اور عام فہم ہونا چاہیے۔ میں عربی فارسی جاننے کے باوجود ایک عام معمولی استعداد رکھنے والے قاری کے فہم کے مطابق لکھتا ہوں۔
میرے پسندیدہ کالم نگار
saadulla ایکسپریس میں میرے پسندیدہ کالم نگار سعد اللہ جان برق ہیں۔ وغیرہ وغیرہ لکھنے والے (عبداللہ طارق سہیل) بھی اچھا لکھتے ہیں۔ باقی عرفان صدیقی کبھی کبھی بہت اچھا لکھتے ہیں‘ ہارون الرشید بھی ٹھیک‘ عباس اطہرعباس اطہر کا نام سب سے پہلے لینا چاہیے کہ وہ زبردست کالم نگار ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو سب سے منوایا ہے۔ عطاء الحق قاسمی اچھا لکھتے ہیں‘ مگر آج کل وہ پی آر کے چکر میں بہت پڑ گئے ہیں‘ بہرحال ان کا اپنا ایک پاپولر سٹائل ہے۔ حسن نثار اچھا لکھ سکتا ہے‘ ان کا بالکل الگ سٹائل ہے‘ جاوید چودھری نے بھی بڑی محنت کرکے ایک خاص انداز اپنایا ہے‘ جسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔
کالم نگار کو سب سے زیادہ زبان پر توجہ دینی چاہیے‘ جس زبان میں وہ لکھ رہا ہو‘ اس پر مکمل عبور حاصل ہو۔ پھر مسلسل مطالعہ کیا جائے‘ کالم لکھنے سے پہلے کچھ نہ تحقیق ضرور کریں‘ خبر اٹھا کر کالم لکھ دینا کوئی بات نہیں۔ سٹائل ہلکا پھلکا ہو مگر اس میں کوئی پیغام بھی ہونا چاہیے۔
میرا کالم لکھنے کا طریقہ کار
اخبارات سچی بات تو یہ ہے کہ ہم روز کے کالم لکھنے والے مسلسل عذاب میں رہتے ہیں‘ میرا بھی یہی حال ہے‘ جب تک کالم کا موضوع ذہن میں نہیں آجائے‘ ذہنی الجھن باقی رہتی ہے۔ میرے کالم لکھنے کا کوئی خاص وقت نہیں ہے‘ میں تو رات کو بھی لکھ لیتا ہوں‘ عموماً صبح اخبار دیکھنے کے بعد کالم لکھا جاتا ہے کہ شاید کوئی نیا موضوع مل جائے۔ میرے گھربارہ تیرہ اخبار روز آتے ہیں‘ ان کو پڑھتے کم اور دیکھتے زیادہ ہیں‘ اس لیے لفظ دیکھنے استعمال کیا ہے۔
چینلز اور اخبارات
چینلز اخبارات کو دنیا بھر میں ٹی وی چینل سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ دراصل ریکارڈ صرف اخبارہی بنتا ہے۔ چینل صرف ہیڈ لائن دیتا ہے‘ اس کی تفصیل اخبار ہی میں ملتی ہے۔ اخبار کو اصل خطرہ تعلیم نہ ہونے سے ہے کہ قوم ان پڑھ ہوتی جارہی ہے۔ باقی کالم نگاری اخبار کا مستقل شعبہ تھا‘ ہے اور رہے گا‘ ہاں ٹرینڈز بدلتے جاتے ہیں‘ ہمارے دور میں کچھ اور تھے‘ اب اور ہوگئے ہیں‘ اسی طرح آگے بھی کچھ نہ کچھ بدلیں گے۔
سیاست دان
سچی بات تو یہ ہے کہ میرا کوئی آئیڈیل سیاست دان نہیں ہے۔ سب نے کسی نہ کسی حوالے سے مایوس کیا ہے۔ نصراللہ نواب زادہ نصر اللہ خان کا بہت کنٹری بیوشن رہا ہے مگر بعض معاملات میں حیرت ہوتی تھی کہ یہ کیا کررہے ہیں۔ میں ان معاملات کو دوبارہ سے نہیں چھیڑنا چاہتا مگر بہرحال سب نے مایوس کیا۔ آج کل کے سیاست دانوں کو تو سیاستدان کہنا ہی نہیں چاہیے۔ ان کی بڑی تعداد ایک فوجی آمر کے ساتھ ہے‘ جو نہیں وہ ڈیل کے چکروں میں ہیں تو یہ سیاست دان تو نہ ہوئے۔ دراصل ان کو کسی نے سیاست کی تربیت ہی نہیں دی‘ یہ لوگ سیاست کو محض پھنے خانی اور اثر و رسوخ کا ذریعہ بناتے ہیں۔
ایک سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں ہر شعبے میں اس قدر بڑے اور قدآور لوگ موجود تھے‘ آج کل قحط الرجال کیوں ہوگیا ہے؟ دراصل تقسیم سے پہلے انگریز کے خلاف جو تحریک چلی تھی‘ اس نے بڑے بڑے لوگ پیدا کیے‘ پھر پاکستان بن گیا‘ تو تحریک کا معاملہ ختم ہوگیا‘ پھر بڑے لوگ بھی پیدا نہیں ہوئے۔ بڑے لوگ بھی حالات پیدا کرتے ہیں‘ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔
نظریاتی تحریکیں ختم ہونے میں روس کے ٹوٹنے کا اہم کردار ہے۔ آپ دیکھیں جو لوگ کمیونسٹ پارٹی کے ریگولر تنخواہ دار ممبر تھے‘ ادھر روس ختم ہوا اور وہ پہلی فلائیٹ سے واشنگٹن چلے گئے۔ وہ سرخ انقلابی اب علی الاعلان امریکہ کا مال کھا رہے ہیں۔ آئی اے رحمٰن وغیرہ سب ایسا کررہے ہیں۔
دینی جماعتیں اور انسانی حقوق
دینی جماعتیں انسانی حقوق کے حوالے سے دینی جماعتوں کو سب سے پہلے آگے آناچاہیے کہ اسلام تو مظلوموں کا سب سے بڑا حامی ہے۔ دراصل ہماری دینی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اینٹی اسلام ہے‘ اب دین کے شعبے میں بھی ان پڑھ لوگ آگئے ہیں‘ یہ ان پڑھ مولوی ہیں ‘ اخبار تک نہیں پڑھتے۔ ان کا مطالعہ صرف پانچ چھ سو سال پرانی کتابیں پڑھنے تک محدود ہے‘ ہمارے پیغمبر ﷺ نے انتہائی فرسودہ اور جاہل قوم کو دنیا کا فاتح بنادیا مگر ہمارے یہ مولوی اسلام کی اصل روح نہیں سمجھتے۔
مدارس کا نصاب
مدرسہ میں تو کہتا ہوں کہ دینی مدرسوں میں قانوناً اصطلاحات ہونی چاہیے‘ جنرل مشرف یہ بات تو ٹھیک کہتا رہا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی این جی او ہے۔ مدرسوں کا نصاب بزور بدلنا چاہیے لیکن یہ کام کرنے کا حق ان کو ہرگز نہیں ہے‘ جنہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ قرآن پاک کے 30سپارے ہیں یا 40۔ یہ کام وہ کریں جنہیں سپاروں کی گنتی تو کم از کم آتی ہو۔
قوم میں موجود فرسٹریشن
qaum قوم میں مایوسی تو بہرحال ہے۔ مہنگائی اور بےروزگاری آپ کے سامنے ہے‘ افسوس یہ ہے کہ فوج کے آنے پر ہمارے تمام سیاستدان اس کے ساتھ مل جاتے ہیں‘ ایوب خان نے جب کنونشن لیگ بنائی تو قائد اعظم کی مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے تمام زندہ ارکان ایوب کے ساتھ مل گئے تھے۔ یہ جرنیل غلط کام کرتے ہیں‘ اس کی سپورٹ سیاست دان کرتے ہیں اور مارے عام لوگ جاتے ہیں۔ جنرل ضیاء کے زمانے میں چند فوجی افسر ہی سول انتظامیہ میں آئے تھے‘ اب تو انتہا ہوگئی ہے‘ اس کے باوجود میں مایوس نہیں ہوں۔ ابن خلدون کا مشہور قول ہے کہ ’’مٹتی ہوئی قومیں اپنے ہیرو ایجاد کرلیتی ہیں‘‘۔ اب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک جج ہیرو بن جائے گا‘ مگرایسا ہوا۔ دراصل ہماری قوم لیڈر کی بھوکی ہے اور اس کے انتظار میں ہے۔
عمران خان میں جان ہے‘ میں اسے پسند کرتا ہوں‘ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسے سیاست نہیں آتی‘ ویسے اس میں ایثار کا جذبہ ہے۔ نواز شریف میں بھی صلاحیت ہے اور کوئی کرپشن کا الزام بھی اس پر نہیں۔ دیکھیں بہرحال وہ پہلا وزیراعظم ہے جس نے دو چیف آف آرمی سٹاف الگ کرنے کی جرأ ت کی۔
کالم لکھنے میں تلخ تجربات
سب سے مشکل بھٹو صاحب کا دور تھا‘ وہ سیاست دان تھے‘ ان کے خلاف لکھنا مشکل ہوتا ہے‘ دلچسپ بات یہ کہ رکاوٹوں اور پابندیوں میں لکھنے کا مزا بھی آتا ہے۔ اس وقت بندہ بڑے آرٹ کے ساتھ لکھتا ہے۔ جنرل مشرف نے آزادی دی تو لکھنے کا مزا نہیں آتا رہا۔ مجھے اپنے لکھے کا ریسپانس ہمیشہ ملا ہے۔
ایک بار مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا کبھی لکھنے پر خوف محسوس ہوا؟ سچ بات یہ ہے کہ میرا دیہاتی بیک گرائونڈ ہے۔ مجھ میں خوف موجود نہیں‘ مصلحت یا مجبوری الگ شے ہے مگر مجھے کبھی خوف نہیں آیا۔ اگر آپ اپنے نظریات اور اعتقادات کو پوری طرح مانتے ہیں اور اس پر سٹینڈ لیتے ہیں تو قدرت مدد کرتی ہے۔ اگر خود ہی مصلحت پر آجائیں تو قدرت کی مدد شامل نہیں ہوتی۔ پھر انسان کو آخر کسی بات پر نقصان اٹھانے کے لیے تو تیار رہنا چاہیے۔ ایک بار جنرل پرویز مشرف کی صحافیوں کو بریفنگ میں ان کے ساتھ خاصی بحث ہوگئی۔ میں سوال پوچھنے کے لیے کھڑا ہوا اور بولا کہ جنرل صاحب! ڈاکٹر قدیر جو آپ کے بھی ہیرو ہیں … ابھی اتنا کہا تھا کہ جنرل مشرف ترنت بولے وہ میرے ہیرو نہیں ہیں۔ میں نے جواب دیا لیکن وہ میرے تو ہیرو ہیں۔ اس پر پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ میں نے سوال مکمل کیا کہ آپ یکطرفہ طور پر ڈاکٹر قدیر کے خلاف چارج شیٹ لگا رہے ہیں‘ ان کو تو اپنا مؤقف بیان کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ مشرف جنرل مشرف نے دوبارہ سے ڈاکٹر قدیر پر اپنے پرانے الزامات دہرانے شروع کردیے۔ بعد میں بعض لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو سوال پوچھتے خوف نہیں لگا تھا کہ ان دنوں خاصے لوگ پراسرار طور پر لاپتہ ہو رہے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی خوف محسوس نہیں ہوا۔ دراصل اگر آپ اخبار نویس بنے ہیں تو اس کے مسائل و مصائب کے لیے بھی تیار رہیں۔ ایسے واقعات بھٹو صاحب کے ساتھ بھی ہوجاتے تھے‘ مگر وہ سیاست دان تھے‘ ناراض ہونے کے بجائے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے تھے۔ جنرل مشرف کے دور میں مجھے تمغہ امتیاز دینے کا بتایا گیا اور اس کے لیے بائیو ڈیٹا مانگا گیا تو میں نے انکار کر دیا کہ مجھے کسی فوجی حکمران سے کوئی تمغہ نہیں چاہیے۔ دوسروں نے تو تمغہ لے کر انکار کیا ہے۔ میں نے تو پہلے ہی انکار کردیا تھا۔ تو جیسی جرأت انکار جسٹس چودھری نے کی‘ وہ بندے میں کسی نہ کسی حد تک ہونی چاہیے۔
موسیقی
رفیع لتا موسیقی بہت پسند ہے‘ ہلکی پھلکی فلمی موسیقی‘ غزلیں اور کبھی کبھار کلاسیکل بھی جو قدرے عام فہم ہو۔ پاپ موسیقی قطعاً پسند نہیں ہے۔ مجھے لتا منگیشکر اور رفیع پسند ہیں‘ خاص کر رفیع کہ مردانہ آواز کے باوجود وہ تان میں لتا کا مقابلہ کرتا تھا۔ نور جہاں اور مہدی حسن کے سٹائل میں بڑی یکسانیت ہے۔ لگتا ہے کہ ایک ہی غزل بار بار گا رہے ہوں۔ فوک میوزک بہت پسند ہے‘ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی پہلے پسند تھا‘ اب وہ اپنے آپ کو دہرا رہا ہے۔
فلم
Devdas_2002_soundtrack پہلے بہت فلم دیکھتا تھا‘ ا ب تو کئی سال سے سینما گھر ہی نہیں گیا‘ ٹکٹ کے ریٹ کا ہی پتہ نہیں‘ بھارتی اداکار شاہ رخ خان مجھے بہت پسند ہے۔ اس کی فلم دیوداس بہت اچھی لگی‘ اس میں وہ فن کی انتہا تک پہنچ گیا۔ ہمارے ہاں اب تو کوئی اداکار ہے ہی نہیں۔ پرانوں میں ظریف اچھا تھا۔ محمد علی نے مجھے کبھی متاثر نہیں کیا۔
شاعری
فیض احمد فیض فیض صاحب میرے پسندیدہ شاعر ہیں‘ ان سے بڑا اچھا تعلق رہا‘ وہ میرے بڑے مہربان تھے‘ ان کی شاعری کا کیا کہنا‘ ان کی خوش قسمتی تھی‘ وہ روس کے خاتمے سے پہلے ہی رخصت ہوگئے ورنہ یہ ان کے لیے بہت گہرا صدمہ ہوتا۔ حبیب جالب کی شروع کی شاعری اعلیٰ تھی ‘ بعد میں تو وہ شاعرانہ رپورٹنگ ہو کر رہی گئی تھی‘ ویسے یہ حقیقت ہے کہ ایوب خان کو سب سے زیادہ نقصان جالب کی شاعری نے پہنچایا تھا۔
اخبارنویسی کا کیرئر
میں اپنے کیریئر سے مکمل طور پر مطمئن ہوں۔ اخبار نویسی نے مجھے متوازن شخصیت بنایا ورنہ ملا بن گیا ہوتا۔ دراصل اخبار نویس حالات کے ساتھ ساتھ آگے چلتا ہے‘ میں نے صحافت ملازمت کے لیے نہیں کی تھی، کیونکہ مجھے روزگار کے لیے ملازمت کی ضرورت نہیں تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اس میں عزت ملی۔ اب مکمل ذہنی آسودگی کا احساس ہوا ہے۔ اللہ کرے کہ ایسی آزادی آگے برقرار رہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Click here to post a comment