ہوم << داستان حج 1440 ھ قسط (9) - شاہ فیصل ناصرؔ

داستان حج 1440 ھ قسط (9) - شاہ فیصل ناصرؔ

ہمارا عمرہ :-
ہم نے مسنون طریقہ پر عمرہ کی ادائیگی کا ارادہ کرکے بسم اللہ کیا اور باب عبدالعزیز سے حرم کے اندر داخل ہونے لگے۔ راستے میں خوب دعا کی اور پھر نظریں اٹھا کر گراؤنڈ فلور سے کعبہ اور مطاف کا خوب نظارہ کیا جو بہت ہی دلچسپ اور یادگار لمحہ تھا، دل چاہ رہا تھا کہ بس دیکھتے رہیں دیکھتے رہیں۔

کچھ وقت نظارہ کے بعد ہم الیکٹرانک سیڑھیوں کے ذریعے مطاف میں نیچے داخل ہوئے، جو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح لوگوں سے بھرا تھا۔ ہم نے اضطباع (دائیں کندھے کو ننگا) کرکے حجرِاسود کے سیدھ میں آنے کیلئے سبز لائٹس کو تلاش کیا اور وہاں جاکر استلام کرکے طواف شروع کی۔ پہلے تین چکروں میں رمل (اکڑ کر چلنا) کیا، لیکن رش کی وجہ سے یہ علامتی رَمل تھا۔ ساتھیوں کا خیال رکھ کر ان کو ہدایات دیتا اور رش میں گم ہونے سے بچانے کی کوشش کرتا، لیکن پھر بھی آخری دو چکروں میں ہمارے گروپ کے بعض ساتھی لوگوں کے اس سمندر میں بہہ کر بچھڑ گئے۔ تقریبا ایک گھنٹہ میں طواف مکمل کیا، مقام ابراہیم کیساتھ نماز تو ناممکن تھی لیکن اس کی سیدھ میں دور جاکر دو رکعت طواف کی نماز ادا کی اور زم زم پی کر سعی کیلئے صفا کی طرف گئے۔

کعبہ کی طرف منہ کرکے مسنون دعائیں کی اور پھر ایک قسم کے لباس میں ملبوس سعی کرنے والے ہزاروں لوگوں کے ہجوم میں داخل ہوکر مروہ کی طرف چلنا شروع کیا۔ سبز لائٹس کی جگہ دوڑ لگائی اور پھر عام رفتار سے مروہ پہنچ گئے۔ وہاں بھی قبلہ رخ ہوکر مسنون دعائیں کی اور دوبارہ صفا کے طرف چلنے لگے۔ اسی طریقہ سے صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگا کر سعی مکمل کی جسمیں بھی ایک گھنٹہ لگ گیا۔ عمرے کے یہ دو مرکزی کام ”طواف و سعی” کرکے اب ہمیں احرام سے نکلنے کیلئے صرف ایک کام رہ گیا اور وہ تھا، سرکے بال منڈوانا۔ لیکن دو ڈھائی گھنٹے کے اس مسلسل بھاگ دوڑ نے ہمیں تھکاوٹ سے چور کیا تھا۔ نماز ظہر کا وقت بھی قریب تھا۔ اسلئے ہم نے کچھ آرام کرکے نماز حرم میں ادا کرنے کا مشورہ کیا۔ نماز کے فورًا بعد بلڈنگ واپسی کی۔ اور وہاں حلق کرکے عصر تک آرام کیا۔ نماز عصر 4 بجے ہوٹل کی مسجد میں ادا کرنے کے بعد پھر حرم گئے، لیکن رش کی وجہ سے اندر داخلہ ممنوع تھا اسلئے مغرب و عشاء بیرونی صحن میں ادا کرکے واپسی کا رخ کیا۔ بلڈنگ پہنچ کر ڈائننگ ہال میں کھانا ہمارا منتظر تھا۔ کھانے کے بعد اپنے کمرے میں سلیمانی چائے بناکر پی لی، جس سے اپنی تھکاوٹ دور کرنے کی کوشش کی۔ مکہ مکرمہ میں پہلی مصروف ترین اور تاریخی دن گزارنے کے بعد تقریبا 11 بجے سونے کی نیت کرکے لیٹ گئے۔

اتوار ٣ ذى الحج ١٤٤٠ھ۔ بمطابق 4اگست 2019ء۔

کل عمرہ کی ادائیگی اور دوسری مصروفیات کی وجہ سے کافی تھک گئے تھے۔ رات کو یہ نیت کرکے سو گئے تھے کہ تہجد کیلئے حرم جائیں گے۔ لیکن ہم فجر کے قریب اٹھ گئے۔ جلدی جلدی وضو بنا کے کمرے میں دو چار رکعت ادا کی اور پھر بس میں سوار ہو کر نماز فجر کیلئے حرم روانہ ہوئے۔ رش کی وجہ سے پہنچنے میں وقت لگا، حرم بھر چکا تھا اور منتظمین نے راستے بند کئے تھے۔ جماعت کھڑی ہونی والی تھی۔ ہم نے گھڑی بلڈنگ کے نیچے بنائے گئے صفوں میں ایک جگہ اپنی جائے نماز بچا کر جماعت ادا کی۔ نماز کے بعد حرم کی اندر مطاف میں داخل ہوکر طواف شروع کیا جو تقریبا گھنٹہ میں مکمل ہوا ۔

اشراق کے بعد حرم کے اندر اور آس پاس کچھ وقت گزار کر 8 بجے بلڈنگ واپس ہوئے۔ کمرے کے بجائے سیدھا ڈائننگ ہال گئے جہاں ناشتہ تیار تھا۔ ناشتے کے بعد آرام کیا۔ 12 بجے اٹھ گئے اور نماز کیلئے تیاری کی۔ ظہر زوال کے فورا بعد یعنی 12:28 پر ادا کی جاتی۔ ہوٹل کی تیسرے فلور پر مسجد تھی۔ جسمیں ہم نے نماز ادا کی۔ نماز کے بعد کھانا کھایا اور کمرے میں اپنی چائے بنائی۔ عصر کے قریب حرم روانہ ہوئے، لیکن کدی بس سٹاف میں شدید رش کی وجہ سے ہم لیٹ ہوئے اور جماعت فوت ہوئی۔ حرم جاکر ہم نے نماز عصر کیلئے اپنی جماعت ادا کی۔ حرم میں عصر تقریبا 3:50 پر ادا کی جاتی ہے۔ عصر اور مغرب کے درمیان کافی وقت ہوتا ہے۔ اسلئے ساتھیوں کیساتھ حرم کے آس پاس چکر لگانے کا ارادہ کیا۔

صفا کی طرف نکل کر زم زم ٹینکی اور مکتبه مکةالمکرمه یعنی نبی کریمﷺ کی جائے ولادت کی زیارت کی۔ آگے چل کر شعب عامر بس سٹیشن اور بازار ہے۔ جہاں بہت چہل پہل اور رش تھا۔ اس طرف زیادہ تر انڈونیشیا، ملائشیا، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے حجاج رہتے ہیں۔ پل (کبری) سے آگے مسجدجن کی طرف گئے۔ جہاں جنات نے آپﷺ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لایا تھا۔ یہاں دو چھوٹی مساجد بھی ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک مسجد شجر اور دوسرا مسجد فتح یا مسجد رایہ ہے۔

نبی کریمﷺ فتح مکہ اور حجةالوداع کے موقع پر بیت اللہ کی طرف اسی راستے سے آئے تھے۔ مغرب کے قریب واپسی کی۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں حرم میں ادا کرکے بلڈنگ واپسی کی۔ لیکن رش کی وجہ سے کافی لیٹ پہنچ گئے۔ کھانا کھانے کے بعد الارم صبح تین بجے پر سٹ کر کے سوگئے۔