ہوم << ایل جی بی ٹی کیو - حمیراعلیم

ایل جی بی ٹی کیو - حمیراعلیم

پاکستان میں بہت عرصے سے ایک نئی مہم چل رہی ہے۔جس کے تحت ہماری نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔پہلے ڈرگز، پھر ایڈلٹ لٹریچر اور اب کوئیر ازم۔یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ کئی سالوں سے ڈھکے چھپے انداز میں اس پر کام کیا جا رہا ہے۔

کئی این جی اوز ہیں جو ایسے لوگوں نہ صرف تحفظ فراہم کرتی ہیں جو اپنی جنس تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا ہم جنس پرست ہیں بلکہ انہیں بیرون ملک نیشنیلٹی اور سرجری کے لیے بھی اسپورٹ کیا جاتا ہے۔ چند سال پہلے کسی پرائیویٹ ٹی وی چینل پر ایک ڈرامہ آن ائیر ہوا تھا۔جس میں ثانیہ سعید اور ان کی ایک دوست کو لزبین دکھایا گیا تھا۔ شاید لوگوں نے اس پر زیادہ غور نہیں کیا اور اس کا درپردہ مقصد جان نہیں پائے تھے۔لیکن چند حلقوں کی جانب سے اس کے خلاف کمزور سا احتجاج اس وقت بھی ہوا تھا۔مگر آج تو پاکستانی میڈیا نے تمام حدیں ہی پار کر لی ہیں۔

جوائے لینڈ کے نام سے ایک فلم پروڈیوسر کی گئی ہے جسے کانیںز فلم میلے میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل ہو چکا ہے۔اس سال کی Queer Palme کی فاتح، اور کانز کے آفیشل سلیکشن میں پہلی پاکستانی فلم صائم صادق کی پہلی فلم بذریعہ گائے لاججوائے لینڈ کہانی ہےلاہور کے ایک متوسط ​​طبقے کے خاندان کی۔ جس میں ایک وہیل چیئر پر جکڑا ہوا باپ دو بیٹوں اور بہوؤں پر سخت حکمرانی کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے اسے پوتے پوتیاں دیں۔ لیکن اس کے چھوٹے بیٹے حیدر کو بیبا سے محبت ہو جاتی ہے۔ جو کہ ایک ٹرانس جینڈر رقاصہ ہے اور اس کے لیے بیک گراؤنڈ ڈانسر کے طور پر کام کرتی ہے۔

یہ تو اعلانیہ طور پر عمل قوم لوط کا پرچار ہے۔اور حیرت کی بات ہے جب کبھی کوئی ایسی دستاویزی یا فیچر فلم بنائی جاتی ہے جس میں پاکستان کی بھیانک تصویر پیش کی جائے یا کسی حرام فعل کو پروموٹ کیا جائے ایسی فلمیں ہمیشہ انٹرنیشنل ایوارڈ جیتتی ہیں خواہ وہ شرمین چنائےکی پروڈیوسڈ کی ہوئی ہو یا صائم صادق کی۔اور تو اور اس ایجنڈے پر کام کرنے والے سوشل میڈیا پر بھی ایکٹیو ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جو کام وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کر سکتے ہیں کوئی اور میڈیم اتناموثر ثابت نہیں ہو گا۔

ایک ٹرانس جینڈر ڈاکٹر، جو کہ مرد سے عورت بنا ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ٹی وی چینلز پر حتی کہ تعلیمی اداروں میں بھی اس موضوع پر لیکچرز جھاڑتے نظر آتا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کمنٹس سیکشن میں ایک بڑی تعداد اس کی حامی نظر آتی ہے۔یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوان اسلامی تعلیمات سے اس قدر بے بہرہ اور لا علم ہیں کہ انہیں قوم لوط کے بارے میں رتی برابر علم نہیں اور وہ شیطان کی پیروی میں بہت مطمئن اور خوش ہیں۔اور جانوروں کی طرح صرف وہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کا دل کرے۔

ایسے ڈرامے یا فلمیں انٹرنیشنلی بھی تیاری کی جا رہی ہیں جن کے ذریعے مسلمان بچوں کی برین واشنگ کر کے انہیں اسلام اور والدین سے برگشتہ کیا جا رہا ہے۔جیسے کہ ایک فلم کیوٹیز نیٹ فلیکس پر شروع کی گئی تھی جس میں ایک مسلمان بچی کو ڈانس کا شوق ہوتا ہے مگر والدین اس پر سختی کرتے ہیں۔کھلونوں میں بھی قوم لوط کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔گئے سائن اور رنگوں میں کھلونے بنائے جا رہے ہیں۔کھیلوں میں ان رنگوں والی شرٹس پہنی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں کئی مسلم ممالک نے سخت رویہ اپناتے ہوئے ان فلموں کو بین کرنے کا مطالبہ کیا اور ایسے تمام کھلونوں کو اسٹورزسے اٹھوا دیا۔قطر نے تو فٹ بال میچ کروانے سے بھی انکار کر دیا کیونکہ کھلاڑی ایسی شرٹس پہن رہے تھے جن پر قوم لوط کے حق میں سلوگنز تھے۔

متحدہ عرب امارات نے والٹ ڈزنی پکسر کی اینی میٹڈ فیچر فلم لائٹ ایئر کی سینما گھروں میں نمائش پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ اس میں ہم جنس تعلقات دکھائے گئے تھے۔یہ فلم مقبول ٹوائے اسٹوری فرنچائز کے بز لائٹ ایئر ایکشن فگر کردار کے گرد بنائی گئی ہے۔یوٹیوب پر 'کوکومیلن' اور 'چوچو ٹی وی' جیسے اینیمیٹڈ 'تعلیمی' چیلنز تو بچوں کو بنیادی اقدار سکھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ سوشل میڈیا اسٹارز، جنہیں یوٹیوب پر وی لاگرزیا 'کڈ فلوئینسرز' کہا جاتا ہے وہ کم عمر ناظرین کے خریداری متعلق فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان وی لاگرز میں خاص طور پر دبئی میں مقیم وی لاگرز شامل ہیں جن کے ویوز اربوں میں ہیں۔مختلف کھلونوں کے اسٹور، تفریحی پارک یا بچوں سے متعلق اس قسم کے دیگر کاروبار ان کڈ انفلوئینسر کی ویڈیوز کو اسپانسر کرتے ہیں۔ اور اپنی اشیاء کی پروموشن کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ان پر بھی یہ پابندی عائد کر دی کہ وہ کوئی ایسا کونٹنٹ بنا کر اپ لوڈ نہیں کر سکتے۔

مگر افسوس پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں عمل قوم لوط کو نہ صرف پروموٹ کیا جا رہا ہے بلکہ اس کے حق میں بلز اور قوانین پاس کر کے اس کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔بحیثیت ماں میں اپنے بچوں کے کے حال اور مستقبل کے لیے بے حد فکرمند ہوں کبھی کڈنیپرز، کبھی ڈارک ویب اور کبھی گئے ازم انسان کس کس شیطانی ہتھکنڈے سے بچوں کو بچانے کی کوشش کرے۔بس اللہ تعالٰی ہی ہے جو ہم سب کی حرام سے حفاظت فرما سکتا ہے۔