ہوم << ہم سب لبرل ہوجائیں - صبیح الدین شعیبی

ہم سب لبرل ہوجائیں - صبیح الدین شعیبی

تم جیسا چاہو کر پاؤ
اور ہم جو چاہیں کہہ جائیں
بس تھوڑی سی کوشش کرلیں
اور ہم سب لبرل ہوجائیں
تم ایسی بات نہیں کرنا
دل آزاری ہوسکتی ہے
اور میں تو
کچھ بھی بولوں گا
ہمیں کہنے کی آزادی ہے
کافر وافر کہناچھوڑو
ان بنیادوں سے منہ موڑو
مذہب کے گھر کی دیواریں
جاگیر پدر سمجھو، توڑو
میں ملا پر تنقید کروں
تم بس واہ واہ کرتے رہنا
اور جب اپنی تبلیغ کروں
تم بس واہ واہ کرتے رہنا
ویسے تو جہاد غلط ٹھہرا
پر میرا جہاد ضروری ہے
میں لبرل ہوں سمجھو بھائی
میری بھی کچھ مجبوری ہے
کوئی قتل تمھیں گر کرجائے
پھر دیکھو میں کیا کرتا ہوں
میت کو کاندھا بھی دوں گا
اور پھر طوفان اٹھادوں گا
تم کچھ شمعیں دے کر مرنا
ميں پھول خرید کے لاؤں گا
پھر چوک پہ ہوگی کچھ ہلچل
کیوں!
ايسا مت پوچھو، پاگل!

Comments

Click here to post a comment