ہوم << اردگان پر تنقید کیوں غلط ہے؟ سجاد سلیم

اردگان پر تنقید کیوں غلط ہے؟ سجاد سلیم

سجاد سلیم محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب کا کالم پڑھا، جس میں انھوں نے طیب اردگان کے پاکستانی حمایتیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور اردگان کو بنگلہ دیش کی حسینہ واجد سے تشبیہ دی۔ ترکی کے حوالے سے اس وقت پاکستانی میڈیا عمومی طور پر مغرب اور گولن موومنٹ کے پروپیگنڈے سے متاثر دکھائی دیتا ہے، لیکن چند معتدل مزاج احباب بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ترکی میں گولن موومنٹ کے خلاف کریک ڈائون کے حوالے سے چند گزارشات درج ذیل ہیں، میری کوشش یہی ہے کہ تنقید برائے تنقید کے بجائے مسئلے کو سمجھنے کے لیے انصاف پسند لوگوں کے سامنے چند حقائق بیان کیے جائیں۔
سب سے پہلے تو اردگان کو حسینہ واجد سے ملانا درست نہیں ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت کے تو آئینی ہونے میں ہی شکوک و شبہات ہیں۔ بنگلہ دیش کے 2014 کے عام الیکشن میں بی این پی سمیت ملک کی18 پارٹیوں نے حیسینہ حکومت کی دھاندلی کے خلاف بائیکاٹ کیا۔ جبکہ ترکی کے ہر انتخاب میں نہ صرف باقی پارٹیاں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، بلکہ حکومت کے خلاف دھاندلی کا بھی کوئی الزام نہیں ہے۔ حالیہ بغاوت میں تمام اپوزیشن نے مشترکہ طور پر حکومت کا ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ اردگان حکومت پر ابھی تک کسی مخصوص ملزم کو پھانسی دینے کے لیے دبائو ڈالنے کا ثبوت بھی سامنے نہیں آیا، جبکہ حسینہ واجد حکومت کے خلاف بے شمار ثبوت موجود ہیں، جن کو سب سے پہلے معروف انگریزی اخبار دی اکانومسٹ نے شائع کیا، جس میں سپیشل ٹرائل کورٹ پر جلدی جلدی پھانسیاں دینے کے لیے شدید حکومتی دبائو کی فون کالز موجود ہیں۔ ترکی میں ابھی تک باغیوں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر کسی قسم کا قانونی اعتراض سامنے نہیں آیا، جبکہ بنگلہ دیش کے کینگرو ٹرائل میں بے شمار قانونی سقم موجود ہیں، جس میں ملزم اپنی صفائی کے لیے گواہ بھی پیش نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی ابھی تو کارروائی کا آغاز ہوا ہے اور اس کا کسی بھی طرح سے حسینہ حکومت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، ابھی تک کسی بھی شخص کو نہ پھانسی دی گئی ہے اور نہ عمر قید۔
گولن موومنٹ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، نمایاں بات یہی ہے کہ یہ ترکی کی عدلیہ، فوج، میڈیا، پولیس اور تعلیمی اداروں میں خطرناک حد تک اثر رکھتی ہے۔ گولن کےزیادہ تر پیروکار ریاست سے زیادہ اپنی تحریک کے ہی وفادار ہیں، اس کی چند مثالیں، آگے چل کر بیان کروں گا۔ پاکستان میں اسلام پسند بالخصوص اور باقی لوگ بالعموم، موجودہ بغاوت سے پہلے گولن موومنٹ کے حوالے سے نرم گوشہ ہی رکھتے تھے۔ قاضی حسین احمد صاحب بھی ترکی میں اسلام پسندوں کے عروج میں گولن موومنٹ کا اہم کردار گردانتے تھے۔ کچھ لوگوں کو ابھی تک یہ غلط فہمی ہے کہ حالیہ بغاوت کے پیچھے گولن موومنٹ کا ہاتھ نہیں ہے۔ ان کے لیے عرض ہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ گولن نے مارشل لا کی حمایت کی ہو۔ 1997 میں نجم الدین اربکان حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے وقت بھی گولن موومنٹ نے مارشل لاء کی حمایت کی تھی کیونکہ گولن کو نجم الدین اربکان کے ترکی میں اپنا اثر و رسوخ کم ہوتا دکھائی دے رہا تھا، گولن نے یہ اقرار تو خود بھی کیا ہے کہ اسے 1997 کی بغاوت کا پہلے سے پتا تھا۔ ترکی میں بہت سے لوگ 1997 کے مارشل لاء کے خلاف تحقیقات کا دائرہ گولن تک وسیع کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ گولن موومنٹ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے ترک ریاست پر کنٹرول چاہتی ہے۔ گولن موومنٹ نے اپنے پیروکاروں کو ریاستی اداروں میں پہنچانے کے لیے کئی اکیڈیمیز قائم کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری امتحانات میں نقل کے ذریعے بھی اپنے پیروکاروں کو آگے بڑھاتی ہے۔ مئی 2016 میں تقریبا اسی لوگوں کو 2010 کے امتحان میں نقل وغیرہ استعمال کرنے کے جرم گرفتار کیا گیا۔ جن میں سے زیادہ تر کے بنک اکائونٹس کی جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وہ گولن موومنٹ کے لیے باقاعدگی سے فنڈنگ کرتے ہیں۔
اردگان حکومت ریاست کے اندر اس ریاست کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتی رہی ہے. 2012 میں حکومت نے گولن موومنٹ پر دہشت گردی کے الزامات کے بعد موومنٹ کے سینکڑوں سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا، تو اسے میڈیا، عدلیہ اور پولیس کے ساتھ مل کر ایک بڑے کرپشن سکینڈل کے ذریعے زبردست رد عمل دیا گیا۔ جسے اردگان کے حامیوں نے سافٹ کوپ کی کوشش کہا۔ حکومت کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس کے ذریعے موجودہ حکومت کو تحقیقات کے قانون کے تحت ڈی سیٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔ 2015 میں عدالت نے گولن کے سکولوں کو بند کرنے کے قانون کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا۔
حالیہ بغاوت میں بھی گولن کا کردار تحقیقات کے ذریعے واضح ہو چکا ہے۔ باغی جب قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور آرمی چیف نے قبضے کے حکم نامے پر دستخط سے انکار کیا تو باغیوں نے آرمی چیف کی گولن سے بات کروانے کی کوشش کی۔ مزید تحقیقات یہ مزید واضح ہو جائے گا۔ جہاں تک ججز کی بات ہے، تو پچھلے تمام مارشل لاء میں ججز کا کردار شرمناک اور واضح ہے. اسی عدلیہ کے ذریعے پچھلے مارشل لاء کے دوران لوگوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ آج تک عدلیہ کو مارشل لاء اور ڈیپ سٹیٹ کے حمایتی ججز سے صاف نہیں کیا جا سکا جو کہ جدید جمہوتی ترکی کی ضرورت ہے۔ مصری مارشل لاء کے بعد، مصر میں عدلیہ کا کردار بھی سب کے سامنے ہے جو سینکڑوں لوگوں کو سزائے موت اور پھانسی کی سزائیں سنا چکی ہے۔
ان تمام حقائق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حایہ بغاوت میں صرف چند فوجی افسران شامل نہیں تھے بلکہ مختلف شعبوں مثلاٰ عدلیہ، میڈیا، پولیس اور تعلیمی شعبوں سے وابستہ کثیر تعداد میں لوگ شامل تھے۔ اس کے علاوہ باغیوں کے جرائم کی سنگینی سے بھی کوئی کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے نہ صرف پارلیمنٹ اور ایوان صدر پر حملہ کیا، اردگان کو ہوٹل اور پھر جہاز میں ختم کرنے کی کوشش کی بلکہ 200 کے قریب لوگوں کو شہید بھی کر دیا۔ اس کے بعد اگر باغیوں سے صحیح طرح نہ نمٹا گیا تو دوبارہ بغاوت کا امکان موجود رہے گا۔ جہاں تک گرفتار ہونے والوں کے انسانی حقوق کا سوال ہے توشاید ہی کوئی ذی شعور انسان اس کی مخالفت کرے۔ اردگان حکومت اب تک 1200 فوجی قیدیوں کو رہا بھی کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی میڈیا بھی بڑے شیشوں کی عینک سے تاک لگائے بیٹھا ہے اور جیسے ہی اسے کوئی ہلکا سا شک بھی گزرے گا، توہ آسمان سر پر اٹھا لے گا۔
اردگان نے دنیا میں ظلم کے خلاف ایک مضبوط آواز اٹھائی ہے، اسی وجہ سے اسے پسند کیا جاتا ہے اور اس کی حمایت کی جاتی ہے. مسلم نوجوانوں کوانتہا پسندی سے دور رکھنے میں بھی اردگان کا اہم کردار ہے کیونکہ اس نے مسلمان نوجوان کو بتایا ہے کہ عسکریت اور انتہا پسندی کے علاوہ بھی ظلم کے خلاف پرامن طریقے سے لڑنے کا راستہ موجود ہے۔ ترکی میں اس وقت آزادی کے متوالوں اور فاشزم کی نشانیوں میں کشمکش جاری ہے۔ آزادی کے قائد جناب طیب اردگان کو ہماری حمایت کی ضرورت ہے، اور دنیا میں آزادی کا حامی ہر شخص ان کے ساتھ ہے۔ اللہ انہیں کامیاب کرے۔

Comments

Click here to post a comment