ہوم << خبطِ عظمت - احسان عزیز

خبطِ عظمت - احسان عزیز

ihsan azizہم کس سمت جا رہے ہیں. اپنے عقیدے اور خود پسندی کا بوجھ اُٹھائے.
تعصبات کے کاروبار میں کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں کہ
’’انسان تعصب سے پاک ہو ہی نہیں سکتا‘‘
چاہے وہ مذہبی ہو یا سیکولر،
کسی بھی مذہبی یا سیکولر سے بات کر کے دیکھ لیں، ہر کوئی یقین کامل کے تحت
حق اور سچ کا شاہ بنا بیٹھا ہے۔ اور ہر اک کے ہاتھ میں اپنے اپنے یقین کی تلوار ہے.
اک دوجے کو جاہل جانتاہے
دوجا جان لینے سے کم یہ راضی نہیں
جبکہ دونوں کا جنم اک ہی کوکھ سے ہے
اور
وہ ہے
’’تقلید‘‘
جس کے سبب سوچ کے سوتے خشک ہیں.
فکر کو بھوک لے بیٹھی ہے.
سچ پہ ضرورت کا پہرا ہے.
وراثت میں حماقت ہے.
مقلدوں کو تقلید نے اندھا کرچھوڑا ہے.
تنقید توہین کے پہاڑ سے سہمی بیٹھی ہے.
اللہ مولوی کے ہاتھوں یرغمال ہے.
آزاد خیال کو نفس پرستی نہیں چھوڑتی
اور
مغرب کی ترقی نے مشرق کو سہل پسند کر چھوڑا ہے
اور
خبطِ عظمت کے سبب سب اپنے اپنے خول میں مقید ’’ضربِ حق‘‘ لگا رہے ہیں
اور حاصل جمع صرف اور صرف ’’تقسیم‘‘ آرہا ہے
لیکن کیا یہی سچ ہے؟
کیا صرف تعصب رکھنا اور مقلد ہونا ہی گناہِ عظیم ہے؟
اگر یہ دونوں رویے اتنے ہی بُرے تھے تو ہمارے اجداد نے تو اسی کے سبب ترقی کے زینے چھیڑے تھے۔ قبائلی تعصب سے لے کر وطن پرستی تک تعصب کے زمرے میں ہی آتا ہے. یعنی کہ تعصب کا جز منفی نہیں بشرطیکہ اس کا استعمال مثبت کیا جائے. اقوام عالم میں ترقی کے لیے اپنے ملک کے تحفظ کے لیے کیا جائے تو ثمر آور نتائج دیتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں تعصب کا استعمال صرف اور صرف منفی انداز میں کیا جا رہا ہے. ہم نے نسلی، لسانی، فرقہ وارانہ منافرت کی طرف دوڑ لگائی ہوئی ہے جس کا منطقی انجام صرف اور صرف نفرت اور تقسیم ہے.
اس کے سواحل کوئی نہیں کہ ہم رنگ، نسل، مذہب، فرقہ بازی سے ایک قدم آگے نکل کے تعصب کا مثبت استعمال کرتے ہوئے امن واتحاد کی راہ پر گامزن ہوں. رہی بات تقلید کی تو زمانہ جاہلیت سے لے کر عصر حاضر تک کی تمام تر ترقی تقلید کے سبب ہے. اگر مقلد کا ہر قدم عقل کے تابع ہو ناکہ جذبات کے. عقل وہ بنیادی اکائی ہے جو مقلد پر کائنات کے راز آشکار کرتی ہے. جیسا کہ حضرت انسان کا گھوڑے سے موٹر کار تک کا سفر سواری کو نہیں رفتار کی تقلید کو ظاہر کرتا ہے. اگرسواری کی تقلید ہوتی تو آج بھی گھوڑے اونٹ
ہی مقدر ہوتے. طاعون سے لیکر کینسر تک کی فتح ہو یا تسخیر مریخ، فطرت کی پرتوں کو تہہ در تہہ کھولنے والے بھی اجداد کی اُس جستجو کی پیروی کر رہے ہیں جو حضرت انسان کے دماغ میں پہلے سوال کی صورت میں وارد ہوئی تھی. میں تو کون کیوں اور کیسے کے سوال سے شروع ہونے والا یہ سفر ابھی ناتمام اور نامکمل ہے اور کائنات کے اختتام تک یہ سفر جاری و ساری رہے گا.
کائنات اپنے وجود میں ہر سوال کا جواب رکھتی ہے، بس فطرت منتظر رہتی ہے کہ متجسس کون ہے جو مجھ کو جاننا چاہتا ہے؟ کون ہے جس کے دل ودماغ میں تجسس کی تقلید موجود ہے؟ حیرتوں کے سمندر میں ڈوبے حضرات سوال اٹھاتے ہیں تو فطرت جواب حاضر کرتی ہے، سو عقل کے عنصر کےلیے تجسس کی سواری اور انسانیت کی لگام ہونا ضروری ہے اور پوری کائنات حاضر ہے تسخیر کو. تاریخ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ حضرت انسان کا ہر قدم آنے والے کل کی طرف جا رہا ہے اور وقت کے گھوڑے کی لگام صرف اُسی قوم کے ہاتھوں میں رہی ہے جس نے تبدیلی کو دل سے قبول کیا ہے اور جس کا سینہ علم کے چراغ سے روشن ہے. سولھویں صدی کا یورپ اک لمحہ کے لیے یاد کیجیے اور اُن کا آج دیکھیے.
وہ تو جہاں ہیں، ہم بہرحال سولھویں صدی میں ہی جی رہے ہیں. '' تقدس و مقدس کے نام پہ لگنے والی آگ اور دل و دماغ میں تعصب و نفرت کی ایسی بدبودار پیپ کہ اُس کے تعفن سے رواداری برداشت کے سبھی چشمے جل چکے ہیں اور روشن خیالی گالی بن چکی ہے اور تقلید ان زمانوں کی کہ جن زمانوں کے انسان کا یہاں سے گزر بھی ہوجائےتو مارے حیرت کے پھر مر جائے.''
نتائج ہم پہ یہ بات بہت واضح آشکار کرتے ہیں کہ’’ کائنات میں منفی کچھ بھی نہیں سوائے ہمارے منفی رویے کے‘‘۔ اور ہمارا رویہ بحیثیت قوم پاکستانی کے انتہائی منفی رجحانات کا حاصل رہا ہے. اس قدر عدم برداشت دُنیا میں کہیں نہیں جس قدر ہم میں پائی جاتی ہے. بحیثیت قوم ہم کو تعلیم وتحقیق سے زیادہ لوگوں سے پیار ہے اور ہمارے ہیرو بھی اتنے ہی سستے ہیں. اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں، آپ کو کافی تعداد ان کی مل جائے گی، جو کہ مختلف گروپوں کے ان داتا ہیں اور ’’عام آدمی تو عقیدے کی عینک لگائے جہالت کے گھپ اندھیروں میں خود فریبی کے مزے لے رہا ہے‘‘۔ ہم وہ ہیں جن کو ابھی یہ خبر نہیں کہ ہمارے شہید کون ہیں؟ وردی والے یا بنا وردی کے.
آج پاکستان جس دورسے گزر رہا ہے وہ اس کی تاریخ کا تاریک ترین دور ہے جس میں نسلی، لسانی، مذہبی منافرت اپنے عروج پر ہے اور اس کا سبب ہمارے ناعاقبت اندیش حکمران ہیں جنہوں نے مسلمان ریاست کو پیدائش کے بعد پھر سے مسلمان کرنا چاہا. غیر مسلموں کو قومیت اور پاکستانیت کی فہرست سے نکال باہر کیا. قوم کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ بندوق دی اور اس اسلامی آئیڈیالوجی کی وجہ سے فرقوں کے درمیان کشمکش جنگ کی صورت اختیار کر گئی اور آج یہ عالم ہے کہ 18 کے 18 کروڑ صاحب رائے ہیں اور صاحب رائے بھی ایسے جس کے پاس علم کی شمع نہیں، تقلید کی اندھی عینک اور تعصب کی ننگی تلوار ہے اور سر پہ خون سوار ہے. ان کو اپنے سوا ہر کوئی توہین کا مجرم نظر آتا ہے اور ہم سب کچھ ہیں مگر پاکستانی نہیں.
آج امن کی صرف دو صورتیں باقی ہیں. ایک یہ کہ ریاست اس بات کو جان لے کہ ہم اپنے پڑوسی نہیں بدل سکے ہاں اپنی سوچ اپنے رویے ضرور بدل سکتے ہیں. دوجا یہ کہ ریاست، مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دے، فرقہ بازی کو اُلٹ بازی لگواتے ہوئے تمام تر مساجد، مدارس کو قومی تحویل میں لے اور ہم پہ رحم کرتے ہوئے قوم کے بچوں کو ایک متوازن اخلاقی تعلیم اور دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتا نظام حیات دے. نہیں تو وہ دن پھر دور نہیں جب یہ تقسیم گلیوں، نالیوں کو سب کے خون سے لال کر دے گی. اک یہی رستہ باقی ہے کہ ہم سب پاکستانی بن کے رہیں. نہیں تو روزِ قیامت تک ہم مسلمان بن کے متحد نہیں رہ سکتے. اس بات کی گواہ خود تاریخ اسلام ہے

Comments

Click here to post a comment

  • اللہ مولوی کے ہاتھوں یرغمال ھے، لیکن کیسے، اور کیا یہ ممکن ھے؟؟؟؟ یا صرف جوش تحریر میں مولوی کی تنقیص کرنے کے واسطے لکھ دیا،،،،،، ایڈیٹر صاحب آپ ھی اللہ کا ادب ملحوظ رکھ لیا کریں۔ مصنفین تو کچھ بھی لکھ دیتے ھیں آپ تو کم از کم ایڈیٹ کر دیا کریں۔ بندہ کہے کہ مولوی نے مذھب کو یرغمال بنایا ھوا ھے( وہ بھی ان معنوں میں کہ دین کے نام پر خرافات کو فروغ دینے میں مولوی کا ھاتھ ھے) تو بات بھی بنتی ھے لیکن مصنف کے نزدیک قادر مطلق کو مولوی نے یرغمال بنایا ھے اور آپ بھی اسے نشر کیے جا رھے ھیں۔